LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ٹرمپ نے کہا وٹکوف، جیرڈ کشنر دوبارہ ماسکو آنے کیلئے تیار ہیں: ترجمان کریملن صدر ٹرمپ انقرہ میں نیٹو ممالک کے اجلاس میں شرکت کریں گے، وائٹ ہاؤس اوپیک پلس ممالک کا اگست کیلئے تیل کی پیداوار بڑھانے کا فیصلہ امریکی نیوی نے بحیرہ عرب میں لاپتہ اہلکار کی تلاش روک دی گروپ کیپٹن کو شہید کرنے والا ملزم سعد 9 گھنٹوں میں گرفتار کر لیا: آئی جی اسلام آباد وفاقی وزیر احسن اقبال کا دورہ امریکہ: ہیلتھ کیئر اور معاشی ترقی کے لیے سمندر پار پاکستانیوں کو شراکت داری کی دعوت، ٹیلی میڈیسن ماڈل کی تجویز فلسطینی علاقوں پر قبضہ ختم ہونے تک اسرائیل سے تعلقات بحال نہیں ہو سکتے، مصر یمنی فورسز اور حوثیوں کے درمیان جھڑپوں میں 65 اموات کی تصدیق شہید رہبراعلیٰ کے خون کا بدلہ ضرور لیں گے، مشیر ایرانی سپریم لیڈر پشاور: چینی باشندوں کی حفاظت کےلئے فول پروف نظام قائم امریکی صدر کی روسی ہم منصب کو یوکرین جنگ کے حل میں مدد کی پیشکش وعدہ کرتا ہوں شہید امام کے مشن کو جاری رکھوں گا: مسعود پزشکیان ایران اور قطر کے درمیان بحری تجارت 5 ماہ بعد بحال مؤثر سفارتکاری اور امن سے پاکستان کا عالمی تشخص مضبوط ہوا: فیصل کریم کنڈی اسرائیل کو خطے کو دوبارہ جنگ کی آگ میں دھکیلنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی: صدر اردوان

یمن میں حوثیوں کا حملہ، 14 سرکاری فوجی اہلکار جاں بحق

Web Desk

5 July 2026

یمن میں ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ سرکاری افواج کے درمیان ایک بار پھر خونریز جھڑپیں ہوئی ہیں، جس کے نتیجے میں کم از کم 14 سرکاری فوجی اہلکار جاں بحق ہو گئے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے ‘اے ایف پی’ کے مطابق یہ دراندازی یمن کے مغربی ساحلی صوبے الحدیدہ کے جنوب میں واقع ضلع حیس میں پیش آئی، جہاں حوثی جنگجوؤں نے سرکاری فوج کی اگلی پوزیشنوں کو نشانہ بناتے ہوئے اچانک حملہ کیا۔

یمنی حکومت سے وابستہ ایک فوجی عہدیدار نے میڈیا کو بتایا کہ سرکاری فورسز نے حوثیوں کے اس حملے کا بھرپور جواب دیا، جس کے بعد دونوں اطراف سے کئی گھنٹوں تک گولہ باری کا تبادلہ ہوا اور شدید لڑائی جاری رہی۔ فوجی عہدیدار کے مطابق، فورسز نے بہادری سے لڑتے ہوئے حوثیوں کا حملہ پسپا کر دیا، تاہم اس دوران حکومت کے 14 اہلکار جان کی بازی ہار گئے۔

فوجی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ سرکاری فوج کی جوابی کارروائی میں حوثی جنگجوؤں کو بھی بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے، تاہم مخالف فریق کے ہلاک یا زخمی ہونے والوں کی درست تعداد کا ابھی تعین نہیں کیا جا سکا۔ واضح رہے کہ الحدیدہ اور اس کے اطراف کے اسٹریٹجک علاقے یمن کی طویل خانہ جنگی کے دوران اہم ترین جنگی محاذ رہے ہیں، جہاں جنگ بندی کی کوششوں کے باوجود وقتاً فوقتاً ایسے تصادم رونما ہوتے رہتے ہیں