LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
رواں سال خطبۂ حج 35 زبانوں میں نشر کیا جائے گا، سعودی حکومت وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی ایک ہی ہفتے میں دوسری بار ایران پہنچ گئے؛ ایران امریکا مذاکرات پر اہم ملاقاتیں متوقع منتخب نمائندوں پر گولیاں چلائی گئیں، کے پی کے عوام کو دیوار سے نہ لگایا جائے؛ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی آئی ایم ایف مشن کے دورہ پاکستان میں توسیع؛ پیٹرولیم لیوی 100 روپے کرنے اور 430 ارب کے نئے ٹیکسوں کا مطالبہ فیفا فٹبال ورلڈ کپ 2026 کی آفیشل فٹبال کی پاکستان میں پہلی باضابطہ رونمائی، اسلام آباد میں شاندار تقریب مستحق و نادار افراد کو بروقت سہولیات کی فراہمی ترجیحات میں شامل ہے: وزیراعظم ڈی جی آئی ایس پی آر کی مختلف جامعات کے وائس چانسلرز، اساتذہ کیساتھ خصوصی نشست سلہٹ ٹیسٹ: بنگلادیش نے پاکستان کو شکست دے کر وائٹ واش کردیا رواں سال سمگلنگ میں 80 فیصد کمی ہوئی: وزیر مملکت طلال چودھری بجٹ 27-2026 کی تیاریاں: آئی ایم ایف اور ایف بی آر مذاکرات مکمل، 15,262 ارب روپے کا ریکارڈ ٹیکس ہدف مقرر پنجاب اور آذربائیجان کے درمیان اقتصادی تعاون بڑھانے پر اتفاق پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کے دوران مثبت رجحان امریکہ ایران کیخلاف جھوٹی اور گمراہ کن معلومات پھیلا رہا ہے، ایرانی مشن امریکی صدر ٹرمپ کا ایران جنگ تیزی سے ختم کرنے کا اعلان ایران کی امریکا کو دوبارہ جارحیت پر سخت کارروائی کی وارننگ

دنیا میں سب سے لمبی عمر پانے والا شوگر نامی کبوتر انتقال کر گیا

Web Desk

14 April 2026

دنیا کے سب سے زیادہ عمر پانے والے کبوتر کے طور پر پہچانے جانے والا ‘شوگر’ نامی کبوتر 45 سال کی طویل زندگی گزارنے کے بعد چل بسا ہے۔ عام طور پر کبوتروں اور فاختاؤں کی اوسط عمر 20 سال کے لگ بھگ ہوتی ہے، لیکن شوگر نے حیران کن طور پر اس سے دوگنی سے بھی زیادہ زندگی گزار کر ماہرینِ حیوانات کو ورطہِ حیرت میں ڈال دیا۔ دستیاب ریکارڈ کے مطابق، شوگر نے طویل العمری کے پچھلے تمام ریکارڈز کو 15 سال سے زائد کے فرق سے پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

ریاستہائے متحدہ امریکہ میں 23 جون 1981 کو پیدا ہونے والا یہ کبوتر اپنے مالک ڈیوین اورینڈر کے ساتھ ایک گہرا جذباتی تعلق رکھتا تھا۔ مالک کے مطابق، شوگر ان کے ساتھ ٹی وی پروگرام دیکھنے اور موسیقی سننے کا شوقین تھا اور ان کی غیر موجودگی میں واضح طور پر اداسی کا اظہار کرتا تھا۔ ڈیوین کا کہنا ہے کہ وہ شوگر کی 50 ویں سالگرہ منانے کے خواہشمند تھے اور اس کے لیے ایک بڑے جشن کی امید رکھتے تھے، تاہم شوگر کی اچانک موت نے انہیں غمزدہ کر دیا ہے۔

شوگر کی موت ایک ہفتہ قبل واقع ہوئی، جس کے بعد اب اسے باضابطہ طور پر دنیا کے معمر ترین کبوتر کے طور پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔ اس واقعے نے پرندوں کے شوقین افراد اور سائنسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے کہ مناسب دیکھ بھال اور سازگار ماحول کسی پرندے کی قدرتی عمر میں کتنا اضافہ کر سکتا ہے۔ ڈیوین اورینڈر اپنے پالتو پرندے کی یاد میں اسے ایک غیر معمولی اور وفادار ساتھی کے طور پر یاد کرتے ہیں جس نے چار دہائیوں سے زائد عرصہ ان کا ساتھ نبھایا۔