LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے برطانیہ کو تباہی کے دہانے پر قرار دیدیا کیف میں دو یوکرینی سکیورٹی اداروں کے درمیان فائرنگ، 3 انٹیلی جنس اہلکار زخمی امریکا چاہتا ہے مڈٹرم الیکشن تک جنگ جاری رہے: برطانوی میڈیا چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری پیرس سے لندن پہنچ گئے بھارتی عدالتوں سے انصاف کی توقع نہیں، کشمیر کیلئے سزائے موت بھی قبول ہے: یاسین ملک امریکا نے کبھی شہریوں کو نشانہ نہیں بنایا، امریکی نائب صدر نائب وزیراعظم سے افغانستان میں پاکستان کے سفیر کی ملاقات، علاقائی صورتحال پر گفتگو سانحہ پمز: وفاقی پولیس کی انکوائری رپورٹ مکمل، آئی جی اسلام آباد کو جمع آبنائے ہرمز ایران کی مرضی کے بغیر نہیں کھلے گی، ابراہیم عزیزی امریکی معیشت کیلئے تاریک مہینے آنے والے ہیں، ایرانی نائب صدر ایرانی قیادت اس وقت کمزور ترین حالت میں ہے، نیتن یاہو کا دعویٰ پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں ایک بار پھر اضافہ، نوٹیفکیشن جاری ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی پر میڈیا رپورٹنگ کو غلط قرار دے دیا ازبکستان کی سینٹرم ایئر کا پاکستان کیلئے فضائی آپریشن شروع، پہلی پرواز کراچی پہنچ گئی اسحاق ڈار کا نومنتخب او آئی سی سیکریٹری جنرل سے رابطہ، عہدے سنبھالنے پر مبارکباد

بھارتی عدالتوں سے انصاف کی توقع نہیں، کشمیر کیلئے سزائے موت بھی قبول ہے: یاسین ملک

Web Desk

3 September 2026

حریت رہنما یاسین ملک نے بھارتی عدالتی نظام پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے سری نگر کی عدالت میں 25 صفحات پر مشتمل تفصیلی حلف نامہ جمع کرا دیا ہے، جس میں انہوں نے اپنا مقدمہ مزید لڑنے سے صاف انکار کر دیا ہے۔ یاسین ملک کا کہنا ہے کہ وہ اپنا معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد کرتے ہیں، کیونکہ بھارتی حکومت 36 سال بعد ایک من گھڑت اور جھوٹے مقدمے میں ملوث کر کے انہیں سزائے موت دینے کا منصوبہ بنا چکی ہے۔ اپنے حلف نامے میں انہوں نے 1990ء کے سرلا بھٹ قتل کیس میں ملوث ہونے کے الزامات کی سخت تردید کی اور واضح کیا کہ واقعے سے 11 روز قبل شدید زخمی ہونے کے باعث ان کے لیے کسی قسم کی منصوبہ بندی یا ہدایت دینا ممکن ہی نہیں تھا۔ یاسین ملک نے مؤقف اپنایا کہ سیاسی انتقام اور عدالتی ناانصافی کے خلاف احتجاج کے طور پر انہوں نے مقدمہ نہ لڑنے کا فیصلہ کیا ہے، اور عدالتی سزا قبول کرنے کا مقصد ہرگز اپنے اوپر لگائے گئے جھوٹے الزامات کو تسلیم کرنا نہیں ہے۔