LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران کا آبنائے ہرمز میں امریکی ڈرون مار گرانے کا دعویٰ وزیراعظم شہباز شریف کا نیویارک پہنچتے ہی حافظ نعیم الرحمان سے رابطہ؛ لانگ مارچ ملتوی کرنے کی درخواست، ٹرین مارچ کو روکا نہیں جا سکتا؛ آئی پی پیز اور ظالمانہ ٹیکسز کے خلاف اسلام آباد کی طرف پیش قدمی جاری رہے گی: حافظ نعیم الرحمان وزیراعظم اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی اجلاس میں شرکت کیلئے نیویارک پہنچ گئے ڈیزل سستا، پٹرول مزید 4 روپے 61 پیسے فی لٹر مہنگا ہوگیا اسحاق ڈار کی فرانسیسی ہم منصب سے ملاقات، تجارت اور تعلیمی روابط بڑھانے پر اتفاق قوم کو جینے دو، پٹرول پر جگا ٹیکس کسی صورت قبول نہیں: حافظ نعیم الرحمان یوکرینی حملے روسی انتخابات متاثر نہ کرسکے، مذاکرات کیلئے تیار ہیں: کریملن حوثیوں پر حملے کی تیاری مکمل، ٹرمپ نے آخری مرحلے میں فیصلہ بدل دیا 23 ستمبر سے ایرانی ایئرلائنز پر عالمی پابندی ہوگی: امریکی وزیر خزانہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی: جے ڈی وینس عالمی مارکیٹ میں خام تیل سستا، فی بیرل قیمت 100 ڈالر سے نیچے آگئی روس، یوکرین جنگ دنیا کیلئے تباہ کن، فوری خاتمہ ضروری ہے: ٹرمپ بانی پی ٹی آئی سے منگل کو وکلا کی ملاقات کا دن، فہرست جیل حکام کو ارسال را، طالبان انٹیلی جنس اور دہشتگرد گروہوں کے مبینہ گٹھ جوڑ کا انکشاف

وسیم اکرم نے بابراعظم کے کپتانی لینے کو غلط فیصلہ قرار دیدیا

Web Desk

20 September 2026

پاکستان ٹیسٹ ٹیم کے سابق کپتان اور نامور فاسٹ باؤلر وسیم اکرم نے بابر اعظم کی جانب سے قومی ٹیسٹ ٹیم کی دوبارہ کپتانی قبول کرنے کے فیصلے کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے ایک غلط قدم قرار دیا ہے۔ مانچسٹر میں وقار یونس کے ساتھ ایک چیریٹی فنڈ ریزنگ تقریب میں گفتگو کرتے ہوئے وسیم اکرم نے کہا کہ وہ کسی پر الزام نہیں لگانا چاہتے، لیکن ان کی ذاتی رائے میں بابر اعظم کو کپتانی کا عہدہ دوبارہ سنبھالنا ہی نہیں چاہیے تھا اور یہ سب بالکل غیر ضروری تھا۔

وسیم اکرم نے پریس کانفرنس کے واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تیسرے ٹیسٹ میں ٹاس کے موقع پر جب بابر اعظم سے 7 کھلاڑیوں اور کوچ کی تبدیلی سے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے لاعلمی کا اظہار کیا۔ وسیم اکرم نے اس پر شدید برہمی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اگر کپتان کو ٹیم کی تبدیلیوں کے بارے میں ہی علم نہیں تو پھر وہ میدان میں کیا کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب کپتان اپنے کھلاڑیوں کا دفاع نہیں کرتا تو کھلاڑی اپنی 100 فیصد صلاحیت کا مظاہرہ نہیں کر پاتے؛ دوسرے ٹیسٹ کے بعد کے حالات کے مدنظر بابر اعظم کو چاہیے تھا کہ وہ کپتانی سے دستبردار ہو کر صرف بطور کھلاڑی ٹیم میں شامل رہتے۔