LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
حرمین شریفین کی حرمت، سعودی عرب کی سالمیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا: دفتر خارجہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے حوثیوں سے براہِ راست رابطے کی تصدیق کردی حوثیوں کا سعودی جنگی طیارہ مار گرانے کا دعویٰ، اتحادی افواج کے کمیونیکیشن ٹاورز پر حملے ہونہار اور مستحق طلبہ کو میرٹ پر معیاری تعلیم کی فراہمی اولین ترجیح ہے، وزیراعظم ایران کسی معاہدے تک پہنچنا چاہتا ہے، جنگ کے خاتمہ کے قریب ہیں: ٹرمپ مکہ مکرمہ کی حفاظت کیلئے کسی معاہدے کی ضرورت نہیں: خواجہ آصف سفارتی حل کیلئے تیار، قومی خود مختاری کا دفاع کریں گے: ایرانی وزیر خارجہ ایران جنگ: امریکی وزیر جنگ کا مواخذہ کرنیکی قرارداد ایوان میں پیش اقوام متحدہ اجلاس: امریکی صدر کی خلیج تعاون کونسل رکن ممالک سے ملاقاتیں متوقع جنرل اسمبلی اجلاس: امریکا کا فلسطینی صدر اور حکام کو ویزے دینے سے انکار ایران کے جوابی حملے: امریکی فوجی اڈوں، طیاروں، دیگر نقصانات کی تصاویر سامنے آگئیں اماراتی وزیر خارجہ کی امریکی مشیر مسعد بولس سے ملاقات، سٹریٹجک تعلقات پر تبادلہ خیال صدر ٹرمپ کا امریکا میں شرح سود ایک فیصد یااس سے کم کرنے کا مطالبہ معرکہ حق میں عظیم فتح سے پاکستان کو دنیا میں نئی پہچان ملی: احسن اقبال امریکی فیڈرل ریزرو نے بنیادی شرح سود میں اضافہ کردیا

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے حوثیوں سے براہِ راست رابطے کی تصدیق کردی

Web Desk

17 September 2026

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے یمن کے حوثی باغیوں کے ساتھ امریکہ کے براہِ راست سفارتی رابطوں کی باضابطہ تصدیق کر دی ہے۔ برطانوی میڈیا اور امریکی نشریاتی ادارے ایگزیوس کے مطابق یہ اہم ملاقاتیں عمانی حکومت کی ثالثی میں مسقط (عمان) میں ہوئیں۔ ان رابطوں کے دوران حوثی نمائندوں نے امریکہ کو ۲۰۲۵ء کی جنگ بندی برقرار رکھنے کی یقین دہانی کرائی ہے اور واضح کیا ہے کہ بحیرہ احمر اور آبنائے باب المندب میں امریکی بحری جہاز ان کا ہدف نہیں ہیں، تاہم سعودی عرب سے منسلک تجارتی و عسکری جہازوں کو اب بھی ہدف سمجھا جائے گا۔

سفارتی ذرائع کے مطابق حوثیوں نے امریکی حکام کو باور کرایا ہے کہ وہ امریکی اور دیگر عمومی تجارتی جہازوں پر حملے نہیں کریں گے، لیکن سعودی عرب سے تعلق رکھنے والے جہاز اس استثنا میں شامل نہیں ہوں گے۔ دوسری جانب، امریکہ نے یمن کے ساحلی علاقوں میں حوثیوں کی حالیہ بڑی پیش قدمی اور سعودی حمایت یافتہ فورسز کو پسپا کیے جانے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے، تاہم اس کے باوجود واشنگٹن نے سعودی عرب کو حوثیوں کے خلاف مزید فوجی امداد دینے سے انکار کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق سعودی عرب نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے حوثیوں پر مشترکہ فضائی حملوں کی درخواست کی تھی جسے صدر ٹرمپ نے مسترد کر دیا۔

واضح رہے کہ امریکہ نے مارچ ۲۰۲۵ء میں حوثیوں کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیم (FTO) قرار دیا تھا۔ اگرچہ امریکی محکمہِ خارجہ نے عمان میں ہونے والی اس مخصوص ملاقات پر براہِ راست تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے، تاہم ترجمان نے واضح کیا کہ بحیرہ احمر میں بین الاقوامی جہاز رانی کی آزادی اور مشرقِ وسطیٰ میں دہشت گردی کی روک تھام امریکہ کے بنیادی قومی و تجارتی مفادات کا حصہ ہے۔ ان سفارتی رابطوں کے بعد خطے میں امریکہ، سعودی عرب اور یمن کے درمیان پیچیدہ جیو پولیٹیکل صورتحال ایک نیا موڑ اختیار کر گئی ہے۔