LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ہونہار اور مستحق طلبہ کو میرٹ پر معیاری تعلیم کی فراہمی اولین ترجیح ہے، وزیراعظم ایران کسی معاہدے تک پہنچنا چاہتا ہے، جنگ کے خاتمہ کے قریب ہیں: ٹرمپ مکہ مکرمہ کی حفاظت کیلئے کسی معاہدے کی ضرورت نہیں: خواجہ آصف سفارتی حل کیلئے تیار، قومی خود مختاری کا دفاع کریں گے: ایرانی وزیر خارجہ ایران جنگ: امریکی وزیر جنگ کا مواخذہ کرنیکی قرارداد ایوان میں پیش اقوام متحدہ اجلاس: امریکی صدر کی خلیج تعاون کونسل رکن ممالک سے ملاقاتیں متوقع جنرل اسمبلی اجلاس: امریکا کا فلسطینی صدر اور حکام کو ویزے دینے سے انکار ایران کے جوابی حملے: امریکی فوجی اڈوں، طیاروں، دیگر نقصانات کی تصاویر سامنے آگئیں اماراتی وزیر خارجہ کی امریکی مشیر مسعد بولس سے ملاقات، سٹریٹجک تعلقات پر تبادلہ خیال صدر ٹرمپ کا امریکا میں شرح سود ایک فیصد یااس سے کم کرنے کا مطالبہ معرکہ حق میں عظیم فتح سے پاکستان کو دنیا میں نئی پہچان ملی: احسن اقبال امریکی فیڈرل ریزرو نے بنیادی شرح سود میں اضافہ کردیا غم انسان کی سوچ، فیصلہ کرنیکی صلاحیت اور یادداشت کو متاثر کرسکتا ہے: کنگ چارلس یورپی یونین کا دیگر ممالک سے ملکر اپنی سکیورٹی کونسل بنانے کا اعلان نیپال میں تباہ کن سیلاب، ہفتوں بعد بھی ہزاروں افراد لاپتہ، بیشتر لاشوں کی شناخت نہ ہوسکی

مکہ مکرمہ کی حفاظت کیلئے کسی معاہدے کی ضرورت نہیں: خواجہ آصف

Web Desk

17 September 2026

وفاقی وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے نجی ٹی وی کے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ مکہ مکرمہ اور مقدس مقامات کی حفاظت کے لیے کسی نئے معاہدے کی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ ان مقامات کا تحفظ ہمارا دینی، اخلاقی اور قومی فریضہ ہے۔ خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ اگر کوئی باضابطہ معاہدہ نہ بھی ہو تب بھی ہم مقدس ترین مقامات کی حفاظت کے پابند ہیں، تاہم اب وہ وقت اور صورتحال آ چکی ہے جہاں ‘مکہ معاہدہ’ عملی طور پر نافذ العمل ہوتا نظر آ رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ تمام تفاصیل میں نہیں جا سکتے لیکن پاکستان اس معاہدے کے تحت اپنی تمام تر ذمہ داریاں اور فرض پورا کرے گا۔

وزیرِ دفاع نے واضح کیا کہ اگر سعودی عرب اور یمن کے حوثی باغیوں کے درمیان کشیدگی مزید شدت اختیار کرتی ہے اور جنگ کی حدود میں توسیع ہوتی ہے، تو پاکستان اور ترکیہ واشگاف الفاظ میں سفارتی اور عملی دونوں سطحوں پر سعودی عرب کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے ہوں گے۔ حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب پر حملوں کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ ایسی صورتحال میں اگر ایران کسی ایک فریق کی حمایت کرتا ہے تو ان کی نظر میں یہ کوئی دانشمندی نہیں ہوگی، اور اس بات کے امکانات بھی بہت کم ہیں، جبکہ اس معاملے پر پاکستان اور سعودی عرب دونوں کی جانب سے واضح پیغامات بھیج دیے گئے ہیں۔

خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں جب ایران کی امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ خلیج کی جنگ ایک انتہائی نازک، عارضی امن اور شدید غیر یقینی صورتحال پر کھڑی ہے، تو ایسے میں کسی نئے محاذ کا کھلنا یا جاری تنازعہ کو توسیع دینا کسی صورت مناسب نہیں ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ وقت کا عین تقاضا اور دانشمندی یہی ہے کہ اس کشیدگی کو مزید بڑھانے کے بجائے فوری روک تھام کی جائے تاکہ یہ صورتحال مشرقِ وسطیٰ میں کسی بہت بڑے اور ناقابلِ قابو خلفشار میں تبدیل نہ ہو۔