LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
اسرائیل نے پورے مشرق وسطیٰ میں بدامنی پھیلا رکھی ہے: مسعود پزشکیان حج 2027 کی درخواستوں کی وصولی 18 اگست سے شروع ہوگی، وزارت مذہبی امور نیویارک کے میئر زہران ممدانی کی اہلیہ کے دورۂ شام و لبنان اور سیکیورٹی تنازع پر ’غلط فہمی‘ کی وضاحت 14 اگست کو احتجاج کرنے والے ہم میں سے نہیں: اختیار ولی پی ٹی آئی پر برس پڑے امریکا اور پاکستان کےدرمیان دوطرفہ تجارت 8 ارب ڈالر سے تجاوز کرگئی: نیٹلی بیکر سندھ میں نئے صوبے بنانے کا مقدمہ سب سے زیادہ مضبوط ہے: ایم کیو ایم پاکستان کے ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری بڑھانے کے وسیع مواقع ہیں: ہسپانوی سفیر وزیراعلیٰ مریم نواز سے اٹک کے ارکان اسمبلی کی ملاقات، ترقیاتی منصوبوں پر تبادلہ خیال خاران میں سکیورٹی فورسز کا کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن، 7 دہشت گرد جہنم واصل حکومت نے روکا تو تحريک گھیراؤ میں بدل جائے گی، حافظ نعیم الرحمان امریکا کا چین پر ٹیرف سے بچنے کے لیے بڑے پیمانے پر تجارتی دھوکے کا الزام کیرولائن لیوٹ نے استعفیٰ صدر ٹرمپ سے دلبرداشتہ ہونے پر دیا: ایرانی سفارتخانہ ٹرمپ نے اسلام آباد مفاہمت کے ذریعے ایران کو تسلیم کر لیا: باقر قالیباف ٹرمپ آبنائے ہرمز بند کرنے کی دھمکیاں دینا بند کریں، اپنی سکیورٹی کی فکر کریں: ابراہیم عزیزی امریکی سینٹ کام کمانڈر بریڈ کوپر کا 10 روزہ مشرق وسطیٰ کا دورہ مکمل

ویانا میں خاتون کا ٹوائلٹ فیس پر شہری انتظامیہ کے خلاف مقدمہ

Web Desk

16 August 2026

آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں ایک 27 سالہ خاتون، میلانی گراڈک نے پبلک ٹوائلٹس کے استعمال پر صنف کی بنیاد پر مالی تفریق کا الزام عائد کرتے ہوئے شہری انتظامیہ کے خلاف باقاعدہ قانونی شکایت دائر کر دی ہے۔ خاتون کا بنیادی موقف ہے کہ شہری نظام کے تحت خواتین کو مجبوری کے تحت ٹوائلٹ کیبن استعمال کرنے کے لیے 50 سینٹ فیس ادا کرنا پڑتی ہے، جبکہ مردوں کے لیے پیشاب کے لیے یورینل (Urinals) کی سہولت بالکل مفت فراہم کی گئی ہے، جو شہر کے اینٹی ڈسکریمینیشن قوانین کی صریح ورزی ہے۔

شہری انتظامیہ کی ترجمان سینڈرا ہولزنگر نے اس پر وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ ویانا میں واقع 168 عوامی بیت الخلا میں سے 29 پر عملہ تعینات ہے جہاں تمام افراد سے کیبن کے استعمال پر 50 سینٹ لیے جاتے ہیں، جبکہ یورینل صرف کھلے عام گندگی روکنے کے لیے مفت رکھے گئے ہیں۔ تاہم یونیورسٹی آف انسبرک کی ماہرِ قانون پروفیسر اینا گیمپر کے مطابق یہ انتظام مساوات کے اصولوں پر سنجیدہ سوالات اٹھاتا ہے، کیونکہ خواتین کو ان کی جسمانی ساخت یا حفاظتی ضروریات کی بنا پر مالی طور پر محروم نہیں کیا جانا چاہیے۔ دوسری جانب ویانا کی اتحادی حکومت کے معاہدے میں تمام پبلک ٹوائلٹس کو مفت کرنے کا جائزہ لینے کا وعدہ بھی شامل ہے۔