LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
یمن نے ساحلی علاقوں کا تحفظ عرب اور بین الاقوامی ذمہ داری قرار دیدیا ایران کی حملوں کے باوجود بیلسٹک میزائلوں کی تیاری دوبارہ شروع اسرائیل نے لبنان کی علی الطاہر پہاڑی پر حملوں کی ویڈیو جاری کر دی دشمن کے لاحق تمام خطرات کا مقابلہ کرنے کیلئے پوری طرح تیار ہیں: ایرانی فوج امریکا کی ایران کے حامی گروہوں کی مالی معاونت پر نئی پابندیاں عائد لندن میں ایرانی انٹیلی جنس کی مدد کے شبہ میں خاتون اور ایک شخص گرفتار امریکی عدالت کا ٹرمپ انتظامیہ کو ڈاک کے ذریعے ووٹنگ کی اجازت دینے سے انکار سوئٹزرلینڈ میں بس حادثہ، متعدد افراد ہلاک اور کئی زخمی تیل کی منڈیوں میں بھونچال، عالمی مارکیٹ میں قیمت 108 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئی اماراتی صدر کی جرمن صدر سے ملاقات، علاقائی امن و استحکام پر تبادلہ خیال پاسداران انقلاب کا آبنائے ہرمز میں بغیر عملے والی سرویلنس کشتی کو نشانہ بنانے کا دعویٰ حافظ نعیم الرحمان کی حکومت کو اسلام آباد مارچ کی دھمکی کاروباری برادری کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کیلئے پرعزم ہیں: وزیراعظم ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلٹی کا چوتھا جائزہ، آئی ایم ایف مشن 23 ستمبر کو پاکستان پہنچے گا پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بے قابو، مسلسل چوتھے روز بھی اضافہ

حراستی تشدد و ہلاکت کیس: ایف آئی اے نے 5 پولیس اہلکار گرفتار کر لیے

Web Desk

9 September 2026

فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) ساہیوال سرکل نے حراستی تشدد اور ہلاکت کے سنگین مقدمے میں بڑی کارروائی کرتے ہوئے پنجاب پولیس اوکاڑہ کے 5 نامزد اہلکاروں کو گرفتار کر لیا ہے۔ ایف آئی اے کے ترجمان کے مطابق یہ کارروائی مقدمہ نمبر 07/2026 کے تحت عمل میں لائی گئی، جس کے نتیجے میں گرفتار کیے گئے اہلکاروں میں سب انسپکٹر نذر عباس، ایس ایچ او/ایس آئی عظمت علی، سب انسپکٹر رائے منظور، محرر سیف اللہ اور اے ایس آئی عرفان علی شامل ہیں۔

مذکورہ پولیس اہلکاروں کے خلاف تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 302، 34، 109 اور 201 کے ساتھ ساتھ ٹارچر اینڈ کسٹوڈیل ڈیتھ (پریوینشن اینڈ پنشمنٹ) ایکٹ 2022 کی دفعہ 9 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ ایف آئی اے کی تفصیلی انکوائری اور تحقیقات کے دوران زیرِ حراست شہری پر مبینہ تشدد، دورانِ حراست ہلاکت اور بعد ازاں جرم کے شواہد مٹانے یا چھپانے سے متعلق اہم ثبوت سامنے آئے، جس کی بنیاد پر گرفتاری ممکن ہوئی۔ ترجمان نے بتایا کہ تمام گرفتار ملزمان اس وقت ایف آئی اے کی تحویل میں ہیں اور ان سے مزید تفتیش جاری ہے تاکہ قانون کی بالادستی اور سخت احتساب کے عمل کو یقینی بنایا جا سکے۔