LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
روسی وزیرِ داخلہ پاکستان کا 4 روزہ دورہ مکمل کر کے واپس روانہ ایمان مزاری اور عبدالہادی چٹھہ کے جیل ٹرائل کی منظوری پشاور دیر کالونی اسکول حادثہ: ایل آر ایچ اسپتال میں 33 افراد جاں بحق اور 20 زخمی لائے گئے، ترجمان کے پی ایمرجنسی مارشل لاء سے بدتر، تمام طاقت کا سرچشمہ پارلیمنٹ ہو تو غیر مشروط مذاکرات کو تیار ہیں: محمود خان اچکزئی برطانیہ: منشیات اور منی لانڈرنگ کیخلاف کارروائی، خاتون سمیت 12 افراد کو 100 سال سے زائد قید کی سزا بیرسٹر گوہر کا عمران خان کے آفیشل ایکس اکاؤنٹ سے اظہار لاتعلقی پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس نے کے پی میں گورنر راج اور ایمرجنسی کی توثیق کردی جسٹس منیب اختر نے قائم مقام چیف جسٹس آف پاکستان کا حلف اٹھا لیا بانی پی ٹی آئی کا ‘ایکس’ اکاؤنٹ بند کرنے کی درخواست: اسلام آباد ہائی کورٹ نے بیرسٹر گوہر کو جواب کے لیے مہلت دے دی گورنر راج غیر آئینی عمل ہے، عدالتیں سیاسی کیسز میں سیاسی فیصلے نہ کریں: بیرسٹر گوہر رواں مالی سال ترسیلاتِ زر 44 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے: وزیر خزانہ میر رضا علی کیس: عدالتی کمیشن کی 4 والیوم پر مشتمل رپورٹ سندھ حکومت کے حوالے اسحاق ڈار اور مصری وزیر خارجہ کا رابطہ، علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول، ایران کیخلاف جاری جنگ جلد ختم ہوجائے گی: ٹرمپ کا دعویٰ بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 2 دہشتگرد ہلاک، 104 افغان شہری گرفتار

حسینہ واجد کے خلاف انسانیت سوز جرائم کیس کا فیصلہ جمعرات کو سنایا جائے گا

Web Desk

11 November 2025

سابق بنگلہ دیشی وزیراعظم حسینہ واجد کے خلاف انسانیت کے خلاف جرائم کے مقدمے کی سماعت مکمل ہوگئی ہے۔ بنگلہ دیش کی انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل جمعرات کو تاریخی فیصلہ سنائے گی۔

ذرائع کے مطابق مقدمے میں حسینہ واجد پر سنگین نوعیت کے الزامات عائد ہیں۔ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال 15 جولائی سے 5 اگست کے درمیان مبینہ طور پر ان کے حکم پر 1400 افراد کو قتل کیا گیا۔حکومت کے اہم عہدیداران پر جبری گمشدگیوں، ٹارچر سیلز چلانے اور مخالفین کے خلاف ریاستی طاقت کے ناجائز استعمال کے الزامات بھی لگائے گئے ہیں۔عدالتی کارروائی کے دوران پراسیکیوٹر نے حسینہ واجد کو انسانیت کے خلاف جرائم کی پاداش میں سزائے موت دینے کی سفارش کی ہے۔ٹر یبیونل کے فیصلے پر خطے اور عالمی سطح پر گہری نظر رکھی جارہی ہے، کیونکہ اسے بنگلہ دیش کی سیاسی تاریخ کا انتہائی حساس اور اہم مقدمہ قرار دیا جارہا ہے۔