LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پمز ہسپتال کے واقعے نے قوم کو غم میں مبتلا کر دیا: حافظ نعیم الرحمٰن بانی پی ٹی آئی کی شفا انٹرنیشنل منتقلی کا معاملہ: عظمیٰ خان کی توہینِ عدالت کی فوری سماعت کے لیے نئی درخواست دائر پمز حادثہ انتہائی دل خراش، کیٹی بندر پر ڈیپ سی پورٹ بنانا شہید بینظیر بھٹو کا خواب تھا: وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے وفاقی وزیر صحت سے استعفے کا مطالبہ کردیا سانحہ پمز کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کی درخواست دائر دو سال سے زائد عرصے میں ٹرائل شروع نہ ہوسکا، قتل کیس کے ملزم کو ضمانت مل گئی امریکا، ایران کشیدگی کم کرنے کیلئے پاکستان کی کوششیں جاری ہیں: دفتر خارجہ گیس سبسڈی نظام اور قیمتوں کے سلیب پر نظرثانی کی ضرورت ہے، علی پرویز ملک ایران کا ایک بار پھر حملوں سے متاثرہ جوہری تنصیبات کے معائنے سے انکار ملکی دریاؤں اور آبی ذخائر میں پانی کی تازہ ترین صورتحال: واپڈا نے اعداد و شمار جاری کر دیے وزیرِ اعظم شہباز شریف سے سعودی سفیر نواف بن سعید کی الوداعی ملاقات مریم نواز کا سنکیانگ میں معروف چینی ڈیری کمپنی کے ہیڈکوارٹر کا دورہ ایران نے نئی امریکی پابندیوں کو ریاستی اور معاشی دہشت گردی قرار دے دیا ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای زندہ مگر شدید زخمی ہیں: ٹرمپ خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں فورسز کی کارروائیاں، 11 دہشت گرد ہلاک

حسینہ واجد کے خلاف انسانیت سوز جرائم کیس کا فیصلہ جمعرات کو سنایا جائے گا

Web Desk

11 November 2025

سابق بنگلہ دیشی وزیراعظم حسینہ واجد کے خلاف انسانیت کے خلاف جرائم کے مقدمے کی سماعت مکمل ہوگئی ہے۔ بنگلہ دیش کی انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل جمعرات کو تاریخی فیصلہ سنائے گی۔

ذرائع کے مطابق مقدمے میں حسینہ واجد پر سنگین نوعیت کے الزامات عائد ہیں۔ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال 15 جولائی سے 5 اگست کے درمیان مبینہ طور پر ان کے حکم پر 1400 افراد کو قتل کیا گیا۔حکومت کے اہم عہدیداران پر جبری گمشدگیوں، ٹارچر سیلز چلانے اور مخالفین کے خلاف ریاستی طاقت کے ناجائز استعمال کے الزامات بھی لگائے گئے ہیں۔عدالتی کارروائی کے دوران پراسیکیوٹر نے حسینہ واجد کو انسانیت کے خلاف جرائم کی پاداش میں سزائے موت دینے کی سفارش کی ہے۔ٹر یبیونل کے فیصلے پر خطے اور عالمی سطح پر گہری نظر رکھی جارہی ہے، کیونکہ اسے بنگلہ دیش کی سیاسی تاریخ کا انتہائی حساس اور اہم مقدمہ قرار دیا جارہا ہے۔