LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان کا کرغزستان کے ساتھ تجارت 2 ارب ڈالر تک بڑھانے کے عزم کا اظہار ملک میں کاروباری اوقات کار میں اضافے کی سفارش صدر زرداری سے لندن میں محسن نقوی کی ملاقات، اہم پیغام پہنچایا وزیراعظم شہباز شریف کی بشکیک میں صدارتی محل آمد، گارڈ آف آنر پیش ایف سی بلوچستان ٹریننگ سینٹر خضدار میں بیسک ملٹری ٹریننگ بیچ 76 کی پاسنگ آؤٹ پریڈ یوم دفاع و شہداء: پشاور کے تعلیمی اداروں میں پاک فوج کے زیراہتمام تقریبات ایئر ڈیفنس نے فضائی حدود میں داخل ہونے والے میزائلوں کو ناکام بنا دیا: اردن پاسداران انقلاب کے حق میں مظاہرہ کرنے والوں پر مشتبہ گاڑی چڑھ گئی، 4 افراد جاں بحق نیپال میں تباہ کن سیلاب: ہلاکتیں 1050 تک پہنچ گئیں، 4 ہزار افراد تاحال لاپتہ امریکا کی بچوں کے پاسپورٹ کے حصول کیلئے نئی تجویز پیش امریکی، روسی اور چینی صدور کی ایشیا پیسفک سربراہ کانفرنس کے موقع پر ملاقات متوقع امریکی صدر نے ہنگ کاؤ کو امریکا کا نیول سیکرٹری نامزد کردیا اسمبلیاں جب چاہیں گی دو تہائی اکثریت سے نئے صوبے بن جائیں گے: اعظم نذیر تارڑ روس کی یوکرین کو تنازع کے حل کیلئے ٹھوس مذاکرات کی پیشکش جوابی کارروائی میں امریکی فوج کے ایم کیو نائن ڈرون کو نشانہ بنایا گیا: پاسداران انقلاب

وینزویلا میں امریکی ملٹری آپریشن؛ درجنوں فوجی ہلاک، ٹرمپ کے انکشاف سے ہلچل

Web Desk

6 January 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے انکشاف کے بعد وینزویلا میں ہونے والی امریکی فوجی کارروائی عالمی سطح پر شدید توجہ کا مرکز بن گئی ہے، جس میں دو ممالک کے کم از کم 55 فوجی اہلکاروں کے مارے جانے کی تصدیق کی گئی ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ سلیا فلورس کی گرفتاری کے دوران ہونے والے ملٹری آپریشن میں “بہت سے، بہت سے” کیوبائی اہلکار ہلاک ہوئے۔

کیوبا کے حکام نے بھی تصدیق کی ہے کہ 3 جنوری کو وینزویلا میں امریکی حملے اور صدارتی محل میں ہونے والی کارروائی کے دوران 32 کیوبائی فوجی مارے گئے۔ کیوبائی وزارت خارجہ کے مطابق یہ اہلکار وینزویلا کی حکومت کی درخواست پر صدر مادورو کے تحفظ کے لیے تعینات تھے اور حملے کے وقت صدارتی محل کے کمپاؤنڈ میں موجود تھے۔

کیوبا کی وزارت خارجہ نے ان ہلاکتوں کو عالمی قوانین اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ کارروائی بلاجواز اور قابل مذمت ہے۔

ادھر وینزویلا کی حکومت نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ امریکی حملے میں اس کے کم از کم 23 فوجی اہلکار مارے گئے، جس کے بعد مجموعی ہلاکتوں کی تعداد 55 تک پہنچ گئی ہے، جبکہ امریکی حکام کے مطابق کارروائی میں صرف ایک یا دو امریکی اہلکار معمولی زخمی ہوئے۔

قبل ازیں صدر ٹرمپ نے اعتراف کیا تھا کہ آپریشن کے دوران “بہت سے، بہت سے” کیوبائی ہلاک ہوئے، تاہم انہوں نے اس کارروائی کو ایک “شاندار فوجی آپریشن” بھی قرار دیا۔ ٹرمپ کے بیان میں واضح کیا گیا کہ ہلاک ہونے والے کیوبائی شہری نہیں بلکہ سیکیورٹی فورسز سے وابستہ افراد تھے، جو صدر مادورو کی حفاظت پر مامور ہوسکتے ہیں۔

یاد رہے کہ 3 جنوری کو امریکی اسپیشل فورسز نے وینزویلا کے صدارتی محل میں داخل ہو کر صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو بیڈروم سے حراست میں لیا، بعد ازاں انہیں ہیلی کاپٹر کے ذریعے سمندر میں موجود بحری جہاز پر منتقل کیا گیا۔

یہ بحری جہاز صدر مادورو اور خاتونِ اوّل کو امریکا لے گیا، جہاں اگلے روز انہیں نیویارک کی عدالت میں پیش کیا گیا۔ عدالت نے نکولس مادورو پر منشیات دہشت گردی، کوکین کی اسمگلنگ اور امریکا کے خلاف سازش جیسے الزامات عائد کیے۔

نکولس مادورو نے الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انہیں گرفتار نہیں بلکہ اغوا کیا گیا ہے اور وہ اب بھی وینزویلا کے صدر ہیں۔ ان کی اہلیہ سلیا فلورس نے بھی عدالت میں تمام الزامات کو جھوٹا اور سیاسی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان مقدمات کا مقصد وینزویلا کے وسائل پر قبضہ کرنا ہے۔