LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکی سینیٹربرنی سینڈرز کی آرٹیفیشل انٹیلی جنس پر مستقل پابندی لگانے کی تجویز اسرائیلی انتہا پسند وزیر کا غزہ سے فلسطینیوں کی بیرون ملک منتقلی کا منصوبہ پیش ایران میں امریکی حملے میں شہید ہونے والے شہریوں کی تدفین کر دی گئی امریکی اقتصادی پابندیاں: ایران پر شدید معاشی دباؤ، مہنگائی میں ریکارڈ اضافہ روسی ایس یو 57 ای لڑاکا طیارے سے لانچ ہونے والے اسٹیلتھ ڈرونز عالمی نمائش کیلئے تیار سعودی ولی عہد کا مصری صدر سے رابطہ، مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر تبادلہ خیال جرمنی کی موجودہ قیادت نازی طرز عمل کی طرف لوٹ رہی ہے، دیمتری میدویدیف روس نے ایران سے ’دوری‘ اختیار کرنے کا امریکی مطالبہ مسترد کر دیا امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن طویل تعیناتی کے بعد تھائی لینڈ پہنچ گیا روس کے کیف پر تازہ حملے میں بچے سمیت 10 افراد زخمی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے برطانیہ کو تباہی کے دہانے پر قرار دیدیا کیف میں دو یوکرینی سکیورٹی اداروں کے درمیان فائرنگ، 3 انٹیلی جنس اہلکار زخمی امریکا چاہتا ہے مڈٹرم الیکشن تک جنگ جاری رہے: برطانوی میڈیا چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری پیرس سے لندن پہنچ گئے بھارتی عدالتوں سے انصاف کی توقع نہیں، کشمیر کیلئے سزائے موت بھی قبول ہے: یاسین ملک

لوک موسیقی، صوفیانہ کلام کے بے تاج بادشاہ استاد پٹھانے خان کو بچھڑے 26 برس بیت گئے

Web Desk

9 March 2026

پاکستان کے نامور لوک اور صوفی گلوکار استاد پٹھانے خان کی آج 26ویں برسی منائی جا رہی ہے۔ اپنی منفرد اور درد بھری آواز کے باعث انہیں لوک موسیقی اور صوفیانہ کلام کا بے تاج بادشاہ کہا جاتا ہے۔

1926ء میں کوٹ ادو کی بستی تمبو والی میں پیدا ہونے والے استاد پٹھانے خان کا اصل نام غلام محمد تھا۔ وہ بنیادی طور پر لوک گلوکار تھے اور نیم کلاسیکی انداز میں کافیاں، غزلیں اور لوک گیت گاتے تھے جو دنیا بھر میں مقبول ہوئے۔

استاد پٹھانے خان نے خواجہ غلام فرید، بابا بلھے شاہ اور مہر علی شاہ سمیت کئی صوفی شعرا کے عارفانہ کلام کو اپنی آواز دی۔ ان کی خدمات کے اعتراف میں حکومت پاکستان نے انہیں 1979ء میں صدارتی ایوارڈ سے نوازا، جبکہ انہیں مجموعی طور پر 79 مختلف اعزازات بھی ملے۔

سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو بھی ان کی دل میں اتر جانے والی آواز کے معترف تھے۔ ان کی آواز میں درد اور کشش ایسی تھی کہ عارفانہ کلام سنتے ہی سامعین پر رقت طاری ہو جاتی تھی۔ان کے مشہور کلام میں “میڈا عشق وی توں میڈا یار وی توں” اور “الف اللہ چنبے دی بوٹی” شامل ہیں، جنہوں نے انہیں عالمی شہرت دلائی۔

استاد پٹھانے خان 9 مارچ 2000ء کو انتقال کر گئے تھے اور انہیں کوٹ ادو میں سپرد خاک کیا گیا۔