LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
بھارت سندھ طاس معاہدے سے متعلق فیصلے کو مسترد نہیں کرسکتا، ترجمان دفتر خارجہ پاکستان نیوی کی میری ٹائم مشق ’سی سپارک 2026‘ کراچی میں شروع بانی پی ٹی آئی سے ملاقات اور بچوں سے بات نہ کروانے کا معاملہ، توہینِ عدالت کی درخواست دائر پاکستان کا کرغزستان کے ساتھ تجارت 2 ارب ڈالر تک بڑھانے کے عزم کا اظہار ملک میں کاروباری اوقات کار میں اضافے کی سفارش صدر زرداری سے لندن میں محسن نقوی کی ملاقات، اہم پیغام پہنچایا وزیراعظم شہباز شریف کی بشکیک میں صدارتی محل آمد، گارڈ آف آنر پیش ایف سی بلوچستان ٹریننگ سینٹر خضدار میں بیسک ملٹری ٹریننگ بیچ 76 کی پاسنگ آؤٹ پریڈ یوم دفاع و شہداء: پشاور کے تعلیمی اداروں میں پاک فوج کے زیراہتمام تقریبات ایئر ڈیفنس نے فضائی حدود میں داخل ہونے والے میزائلوں کو ناکام بنا دیا: اردن پاسداران انقلاب کے حق میں مظاہرہ کرنے والوں پر مشتبہ گاڑی چڑھ گئی، 4 افراد جاں بحق نیپال میں تباہ کن سیلاب: ہلاکتیں 1050 تک پہنچ گئیں، 4 ہزار افراد تاحال لاپتہ امریکا کی بچوں کے پاسپورٹ کے حصول کیلئے نئی تجویز پیش امریکی، روسی اور چینی صدور کی ایشیا پیسفک سربراہ کانفرنس کے موقع پر ملاقات متوقع امریکی صدر نے ہنگ کاؤ کو امریکا کا نیول سیکرٹری نامزد کردیا

امریکا کا پاکستان سمیت 75 ممالک کے لیے ویزا پروسیسنگ عارضی طور پر معطل کرنے کا فیصلہ

Web Desk

14 January 2026

امریکا نے پاکستان سمیت 75 ممالک کے شہریوں کے لیے امیگرنٹ ویزا پروسیسنگ عارضی طور پر معطل کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق یہ فیصلہ ایسے درخواست گزاروں کی چھان بین سخت کرنے کے لیے کیا گیا ہے جن کے بارے میں خدشہ ہو کہ وہ امریکا جا کر سرکاری فلاحی سہولیات پر انحصار کریں گے۔

فاکس نیوز ڈیجیٹل کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ کی ایک خفیہ میمو میں قونصلر افسران کو ہدایت کی گئی ہے کہ موجودہ قانون کے تحت ایسے افراد کے ویزے مسترد کیے جائیں جو “پبلک چارج” یعنی سرکاری امداد پر بوجھ بن سکتے ہوں، جبکہ اس دوران ویزا اسکریننگ کے نظام کا دوبارہ جائزہ لیا جائے گا۔

یہ پابندی 21 جنوری سے نافذ ہوگی اور غیر معینہ مدت تک جاری رہے گی، جب تک محکمہ خارجہ امیگرنٹ ویزا پروسیسنگ کے طریقہ کار پر نظرثانی مکمل نہیں کر لیتا۔

متاثرہ ممالک میں پاکستان، روس، ایران، افغانستان، برازیل، عراق، مصر، نائجیریا، تھائی لینڈ، یمن اور صومالیہ سمیت دیگر ممالک شامل ہیں۔

امریکی حکام کے مطابق نومبر 2025 میں دنیا بھر میں امریکی سفارت خانوں کو ہدایات دی گئی تھیں کہ “پبلک چارج” قانون کے تحت درخواست گزاروں کی سخت جانچ کی جائے۔ اس میں عمر، صحت، انگریزی زبان پر عبور، مالی حیثیت اور طویل المدتی طبی دیکھ بھال کی ممکنہ ضرورت جیسے عوامل کو مدنظر رکھا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق زیادہ عمر یا زیادہ وزن رکھنے والے افراد، یا وہ لوگ جنہوں نے ماضی میں کسی بھی سرکاری نقد امداد یا ادارہ جاتی سہولت سے فائدہ اٹھایا ہو، ان کے ویزے مسترد کیے جا سکتے ہیں۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پگٹ نے کہا کہ امریکا ایسے ممکنہ تارکین وطن کو داخلے سے روکنے کے لیے اپنے اختیارات استعمال کرے گا جو امریکی عوام کی فلاحی اسکیموں کا غلط فائدہ اٹھا سکتے ہوں۔

حکام کے مطابق نئی پابندیوں میں استثنا بہت محدود ہوگا اور صرف ان درخواست گزاروں کو اجازت دی جائے گی جو “پبلک چارج” کے تمام معیار پر پورا اتریں گے۔

واضح رہے کہ “پبلک چارج” قانون کئی دہائیوں سے موجود ہے، تاہم مختلف حکومتوں کے ادوار میں اس پر عملدرآمد کے طریقہ کار میں فرق رہا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے 2019 میں اس قانون کے دائرہ کار کو وسیع کیا تھا، جسے بعد میں بائیڈن انتظامیہ نے محدود کر دیا تھا۔