LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
جوڈیشل کمیشن آف پاکستان (JCP) کے اعلیٰ سطحی اجلاس کا باقاعدہ اعلامیہ جاری کابینہ کمیٹی خزانہ کا اجلاس، پی این ایس سی بورڈ کو مضبوط بنانے پر اتفاق پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 59 روپے تک کمی ہوگی: اسحاق ڈار امریکہ کے ڈھائی سو سالہ جشنِ آزادی پر اسلام آباد میں ‘آرٹس انٹرپرینیورشپ نمائش’ کا انعقاد؛ پاک آٹھ عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کا فلسطین پر مشترکہ مذمتی اعلامیہ جاری وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے صوبائی بجٹ کی منظوری دے دی ایران امریکا معاہدہ: قومی اسمبلی میں اظہار تشکر کی قرارداد منظور پاکستان سٹاک ایکسچینج کا پہلا ٹریڈنگ سیشن شدید مندی کا شکار آج تیل کی قیمتوں میں خاطر خواہ کمی کا اعلان کیا جائے گا: وزیراعظم صدر مملکت نے سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹسز کے دورۂ روس کی منظوری دیدی چیئرمین پی آئی اے بورڈ آف ڈائریکٹرز اسلم آر خان انتقال کرگئے نائجر کے ہوئی اڈے پر شدت پسندوں کا حملہ، 35 افراد ہلاک پاسپورٹ کے اجراء کو مکمل طور پر ای پاسپورٹ پر منتقل کرنے کا فیصلہ گورنر پنجاب کی پی پی پارلیمنٹیرینز سے ملاقات، عوامی مسائل پر آواز اٹھانے کی ہدایت سلامتی کونسل سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لے: پاکستان

امریکی جنگی طیارے نے طیارہ بردار بحری جہاز کے قریب آنے والا ایرانی ڈرون مار گرایا

Web Desk

3 February 2026

امریکا نے بحیرہ عرب میں اپنے بحری بیڑے کی جانب پرواز کرنے والے ایرانی ڈرون کو مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق امریکی ایف-35 جنگی طیارے نے ایرانی ڈرون کو نشانہ بنایا۔

امریکی عہدیدار کا کہنا ہے کہ ڈرون امریکی طیارہ بردار بحری جہاز ابراہم لنکن کی جانب بڑھ رہا تھا، جسے حفاظتی اقدام کے تحت مار گرایا گیا۔

وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ کے مطابق ایرانی ڈرون مار گرائے جانے کے باوجود ایران کے ساتھ رواں ہفتے طے شدہ بات چیت اپنے شیڈول کے مطابق ہوگی۔

خبر ایجنسی کے مطابق مار گرایا جانے والا ڈرون شہید-139 تھا۔ امریکی سینٹ کام کے ترجمان ٹم ہاکنز نے بھی واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ کارروائی بحری بیڑے اور عملے کے تحفظ کے لیے کی گئی، جس میں کسی امریکی فوجی یا سازوسامان کو نقصان نہیں پہنچا۔

رپورٹ کے مطابق واقعے کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی فیوچر قیمتوں میں فی بیرل ایک ڈالر سے زائد اضافہ دیکھا گیا۔