LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایرانی پاسداران کے سینئر عہدیدار کی عرب ممالک کو امریکی فوجی انخلاء کی دھمکی اسحاق ڈار کی کرغزستان کے ہم منصب سے ملاقات، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق امریکی حملوں کے جواب میں ایران کی شدید جوابی کارروائی کی دھمکی ایران کوئی بے معنی معاہدہ کر بھی لے تو مجھے کوئی پرواہ نہیں: ٹرمپ پنجاب بھر میں نویں جماعت کے سالانہ امتحانات 2026 کے نتائج کا اعلان عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مزید ایک فیصد اضافہ ریکارڈ وزیراعظم ’اپنا گھر اسکیم‘: دو ماہ میں منظور شدہ ہاؤسنگ فنانسنگ میں 117 فیصد کا ریکارڈ اضافہ اسلام آباد ہائیکورٹ: راول جھیل کنارے نیول فارمز اور نیول سیلنگ کلب کو غیر قانونی قرار دینے کا 2022ء کا فیصلہ کالعدم ریاض: پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اہم سائبر سیکیورٹی معاہدے پر دستخط یونٹی فوڈز کے شیئرز میں مبینہ انسائیڈر ٹریڈنگ، ایس ای سی پی کی تحقیقات میں تیزی امیر جماعت اسلامی کا کل ملک بھر میں ہڑتال کا اعلان بھارت سندھ طاس معاہدے سے متعلق فیصلے کو مسترد نہیں کرسکتا، ترجمان دفتر خارجہ پاکستان نیوی کی میری ٹائم مشق ’سی سپارک 2026‘ کراچی میں شروع بانی پی ٹی آئی سے ملاقات اور بچوں سے بات نہ کروانے کا معاملہ، توہینِ عدالت کی درخواست دائر پاکستان کا کرغزستان کے ساتھ تجارت 2 ارب ڈالر تک بڑھانے کے عزم کا اظہار

امریکا کو تعطل ختم کرنے کیلئے ایران کی طرف سے تحریری تجاویز کی توقع

Web Desk

19 February 2026

ایک اعلیٰ امریکی عہدیدار نے انکشاف کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری سفارتی تعطل کو ختم کرنے کے لیے تہران کی جانب سے تحریری تجاویز موصول ہونے کی توقع ہے۔ یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وائٹ ہاؤس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سلامتی مشیروں کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ایران کی صورتحال اور علاقائی سلامتی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

امریکی حکام کے مطابق، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو 28 فروری کے ویک اینڈ پر اسرائیل کا دورہ کریں گے۔ اس دورے کے دوران وہ اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو سے ملاقات کریں گے، جس میں بنیادی طور پر ایران کے جوہری پروگرام اور خطے میں اس کے اثر و رسوخ سے متعلق امور پر بات چیت کی جائے گی۔

عہدیدار نے مزید بتایا کہ مشرق وسطیٰ میں امریکی افواج کی نئی تعیناتیوں کا عمل جاری ہے اور توقع ہے کہ مارچ کے وسط تک تمام فورسز اپنی مخصوص جگہوں پر پہنچ جائیں گی۔ ماہرین اس پیشرفت کو ایران پر دباؤ برقرار رکھنے اور ساتھ ہی سفارتی راستہ کھلا رکھنے کی امریکی حکمت عملی کا حصہ قرار دے رہے ہیں۔