LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا؛ سپریم کورٹ نے’چرسیوں‘ کو اسلحہ رکھنے کی اجازت دیدی امریکی فوج نے ایران کی بحری ناکہ بندی ختم کردی مغرب میں جمہوریت اور مشرق میں کمیونزم ناکام، حل اسلامی نظام میں ہے: مولانا فضل الرحمٰن وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کا تاریخی ٹیلیفونک رابطہ وزیراعظم نے کفایت شعاری اقدامات میں توسیع کی منظوری دے دی فیلڈ مارشل سے گھانا کے چیف آف ڈیفنس سٹاف کی ملاقات، عسکری تعاون بڑھانے پر اتفاق وزیر اعظم شہباز شریف نے دورہ سوئٹزرلینڈ منسوخ کردیا سہیل آفریدی کی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی درخواست سننے والا سنگل بنچ تحلیل اسحاق ڈار سے بحرینی ہم منصب کا رابطہ، اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر تبادلہ خیال جنگ سے بہتر بات چیت ہوتی ہے: بلاول بھٹو زرداری اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کی وزیر دفاع خواجہ آصف سے ملاقات امریکا ایران مفاہمت کا خیر مقدم، پاکستان نے تاریخی کردار ادا کیا: صدر آصف زرداری پنجاب میں ذاتی جہاز کے لیے پیسے ہیں بنیادی ضروریات کے لیے نہیں ہیں,شہریار آفریدی بانی پی ٹی آئی کی شفا اسپتال منتقلی اور معالج تک رسائی کا کیس وکالت نامہ نہ ہونےسماعت ملتوی ملاقاتوں پر پابندی:سپریم کورٹ کا ہوم سیکریٹری پنجاب اور سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو نوٹس جاری

امریکا نے ایران کے لیے امن عمل کی 5 سخت شرائط مقرر کر دیں

Web Desk

18 May 2026

مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید کشیدگی کو کم کرنے اور ممکنہ امن عمل کے آغاز کے تناظر میں ایک انتہائی اہم سفارتی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ امریکی انتظامیہ نے ایران کے ساتھ باقاعدہ مذاکرات اور جنگ بندی کو آگے بڑھانے کے لیے تہران کے سامنے 5 انتہائی سخت اور غیر لچکدار شرائط عائد کر دی ہیں۔ایرانی خبر رساں ادارے ’فارس نیوز ایجنسی‘ کی رپورٹ کے مطابق، واشنگٹن نے تہران کو واضح پیغام بھیج دیا ہے کہ ان بنیادی شرائط کو پورا کیے بغیر دونوں ممالک کے درمیان کسی بھی قسم کے امن عمل یا جنگ بندی کے معاہدے کو آگے نہیں بڑھایا جا سکتا۔ امریکی انتظامیہ نے جنگ بندی کو بھی براہِ راست ان مذاکرات کی کامیابی سے مشروط کر دیا ہے۔ امریکا نے ایران کے اس دیرینہ اور بنیادی مطالبے کو یکسر مسترد کر دیا ہے جس میں ایرانی سرزمین پر امریکی و اتحادی بمباری سے ہونے والے بھاری مالی و جانی نقصانات کے ازالے کے لیے معاوضہ طلب کیا گیا تھا۔ واشنگٹن نے دوٹوک مؤقف اپنایا ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی مالی ادائیگی نہیں کرے گا۔واشنگٹن نے مطالبہ کیا ہے کہ ایران اپنے پاس موجود 400 کلوگرام افزودہ یورینیم (Enriched Uranium) کو فوری طور پر ملک سے باہر منتقل کرے۔ ایران کو اپنی تمام جوہری تنصیبات بند کر کے خود کو صرف ایک جوہری تنصیب تک محدود کرنا ہوگا، یعنی ایران کو مستقبل میں صرف ایک ہی جوہری مرکز کو فعال رکھنے کی اجازت دی جائے گی۔

 تہران کی جانب سے اپنے تمام بین الاقوامی منجمد اثاثوں کو بحال کرنے کے مطالبے کے جواب میں، امریکا نے محض 25 فیصد اثاثوں تک نرمی پر آمادگی ظاہر کی ہے، جبکہ باقی اثاثے بدستور منجمد رہیں گے۔ امریکا نے مطالبہ کیا ہے کہ ایران لبنان سمیت خطے کے تمام دیگر محاذوں پر جاری کشیدگی اور پراکسیز کی حمایت فوری طور پر ختم کرنے کے لیے میز پر آئے۔

بین الاقوامی معاشی اور سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا کی ان انتہائی سخت شرائط کے بعد اسلام آباد یا کسی بھی دوسرے مقام پر ہونے والے ممکنہ امن مذاکرات کے دوسرے دور کو شدید دھچکا پہنچ سکتا ہے، کیونکہ ایران کے لیے معاوضے کے بغیر اور اپنے جوہری پروگرام پر اتنی بڑی رعایت دینا بظاہر ناممکن نظر آتا ہے