LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
خطےمیں کشیدگی کا ذمہ دار واشنگٹن ہے: علی اکبر ولایتی مادر ملت فاطمہ جناحؒ کی آج 59 برسی منائی جارہی ہے بحری جہازوں پر حملوں کے ردعمل میں ایران پر حملےکیے، نتائج سنگین بھی ہوسکتے ہیں۔ را ٹرمپ ریڈ کارڈ معطلی کا معاملہ، یورپی ارکانِ پارلیمنٹ کا سربراہ فیفا کیخلاف تحقیقات کا مطالبہ اسرائیل کا عرب لیگ کے نئے سیکرٹری جنرل کو, رام اللہ کا دورہ کرنے کی اجازت دینے سے انکار جنوبی لبنان میں اسرائیلی ڈرون حملے، مزید 2 افراد جاں بحق ہوگئے اٹلی کا ایران کیخلاف کسی بھی فوجی کارروائی میں شریک نہ ہونے کا اعلان اقوام متحدہ کا امریکا اور ایران پر کشیدگی کم، مذاکرات دوبارہ شروع کرنے پر زور ایرانی و قطری وزرائے خارجہ کا رابطہ، آبنائے ہرمز واقعات پر تفصیلی تبادلہ خیال عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ، سٹاک مارکیٹوں میں گراوٹ ٹرمپ کے حالیہ بیانات واشنگٹن کی ایران پالیسی کی ناکامی کا اعتراف ہیں، کاظم غریب آبادی آبنائے ہرمز بند کرنے کی کوشش کی تو فوجی کارروائی کریں گے، امریکی نائب صدر کا ایران کو انتباہ امریکی افواج نے ایران پر مزید حملے شروع کر دیے، سینٹ کام ایران نے دوبارہ امریکی حملوں پر آبنائے ہرمز بند کرنے کی دھمکی دیدی جنوبی ایران میں دھماکے، ایرانی فضائی دفاعی نظام نے کارروائی شروع کر دی

اقوام متحدہ کا امریکا اور ایران پر کشیدگی کم، مذاکرات دوبارہ شروع کرنے پر زور

Web Desk

8 July 2026

اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے امریکہ اور ایران کے درمیان پیدا ہونے والی حالیہ شدید فوجی و سفارتی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دونوں ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ خطے میں بڑھتے ہوئے تناؤ کو کم کریں اور تعطل کا شکار مذاکرات کا عمل دوبارہ شروع کریں۔ اقوامِ متحدہ کے ترجمان سٹیفن دوجارک نے نیویارک میں ایک نیوز بریفنگ کے دوران میڈیا کو بتایا کہ سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے تمام متعلقہ فریقوں سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ موجودہ نازک صورتحال میں زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کریں، اور کسی بھی ایسے اقدام سے سختی سے گریز کریں جو خطے میں مزید کشیدگی اور عدم استحکام کا باعث بن سکتا ہو۔ انہوں نے فوری طور پر تناؤ کو کم کرنے کے لیے عملی اور مؤثر اقدامات اٹھانے کی ضرورت پر زور دیا۔

ترجمان کے مطابق، انتونیو گوتریس کا پختہ مؤقف ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ سنگین صورتحال میں جنگ یا عسکری کارروائی کسی مسئلے کا حل نہیں، بلکہ صرف سفارت کاری اور خلوصِ نیت پر مبنی مذاکرات ہی ان پیچیدہ مسائل کے پائیدار حل کا واحد اور مؤثر راستہ ہیں۔ اسی لیے اقوامِ متحدہ کے سربراہ نے تمام متعلقہ فریقوں کو ایک بار پھر متنبہ کیا ہے کہ وہ خطرناک عسکری کشیدگی میں اضافے کے بجائے باہمی بات چیت اور پرامن سفارتی راستے کو ترجیح دیں تاکہ خطے کو کسی بڑی تباہی سے بچایا جا سکے۔