LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ٹرمپ فٹبال ورلڈ کپ فائنل دیکھنے جائیں گے: وائٹ ہاؤس اسحاق ڈار کی چینی وزیر خارجہ سے ملاقات، سی پیک 2.0 پر پیش رفت کا جائزہ ایران نے عربوں کو واپس اونٹوں کے دور میں پہنچانے کی دھمکی دے دی امریکا کے ایران کے جنوبی علاقوں پر نئے فضائی حملے، تہران کی سخت ردعمل کی دھمکی ہسپتالوں اور طبی مراکز کو نشانہ بنانا جنگی جرم اور قابلِ مذمت عمل ہے: ایران ایران خطے کے عوام کے لیے ناقابلِ تسخیر قلعہ ہے، عبدالملک الحوثی ایران کا حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کی تیاری کا پیغام، عالمی توانائی بحران کا خدشہ خطے میں کشیدگی، مشرق وسطیٰ میں امریکی ایف-35 طیاروں کی فضائی نگرانی تیز غزہ میں اسرائیلی حملے جاری، القسام کمانڈر سمیت 5 فلسطینی شہید خطے کی کشیدگی سے نمٹنے کے لئے مکمل تیاری رکھیں: وزیراعظم محسن نقوی کا بوئنگ ہیڈکوارٹرز کا دورہ، پی آئی اے کیلئے 16 نئے طیاروں پر پیش رفت اسحاق ڈار 2 روزہ سرکاری دورے پر شنگھائی پہنچ گئے پاکستان کا جاپانی سفیر کو ڈی مارش، مشترکہ اعلامیے پر احتجاج پنجاب حکومت خوابوں کی تعبیر تک نوجوانوں کا ساتھ دے گی: مریم نواز آبنائے ہرمز سرخ لکیر، خطے میں امریکی تنصیبات تباہ کر دیں گے: ایرانی افواج

کیئر سٹارمر کی شیخ زاید النہیان سے ملاقات، خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال

Web Desk

10 April 2026

برطانیہ کے وزیرِ اعظم سر کیئر سٹارمر نے متحدہ عرب امارات کا اہم دورہ کیا ہے، جہاں انہوں نے ابوظہبی میں یو اے ای کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان سے ملاقات کی۔ خلیجی ذرائع کے مطابق، اس ملاقات میں مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ سنگین صورتحال، بین الاقوامی بحری سلامتی، توانائی کی بلا تعطل فراہمی اور عالمی معیشت پر پڑنے والے اثرات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے خاص طور پر ایران جنگ بندی کے نازک مرحلے اور آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) میں محفوظ جہاز رانی کی اہمیت پر تبادلہ خیال کیا، جو عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔

صدر شیخ محمد بن زاید نے اس موقع پر زور دیا کہ خطے کے تمام بحرانوں کا حل صرف سفارت کاری اور بامقصد مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ برطانوی وزیراعظم نے متحدہ عرب امارات کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے یقین دلایا کہ برطانیہ، امارات کی سلامتی، استحکام اور خود مختاری کے تحفظ کے لیے اس کے ساتھ کھڑا ہے۔ سرکاری بیان کے مطابق، دونوں رہنماؤں نے ایسے عملی اقدامات پر اتفاق کیا جو حالیہ جنگ بندی کو پائیدار بنانے اور اہم بحری گزرگاہوں کو محفوظ رکھنے میں معاون ثابت ہوں۔

برطانوی ذرائع کا کہنا ہے کہ سر کیئر سٹارمر کے اس دورے کا مقصد صرف فوری بحران کا حل نہیں، بلکہ اتحادیوں کے ساتھ مل کر ایک وسیع تر علاقائی حکمت عملی مرتب کرنا بھی تھا۔ ماہرین کے مطابق، اس اہم ملاقات نے ثابت کر دیا ہے کہ موجودہ نازک مرحلے میں ابوظہبی اور لندن سکیورٹی، تجارت اور توانائی کے شعبوں میں ایک مربوط فریم ورک کے تحت کام کر رہے ہیں، جبکہ متحدہ عرب امارات ایک بار پھر خطے کے سب سے اہم سفارتی مرکز کے طور پر ابھرا ہے۔