LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان کا سوڈان کے تمام فریقین سے فوری اور مستقل جنگ بندی پر عملدرآمد کا مطالبہ اقوام متحدہ کی سوات میں پولیس سٹیشن کے باہر خود کش حملے کی شدید مذمت سنگاپور نے 2026 میں دنیا کے طاقتور ترین پاسپورٹ کا اعزاز حاصل کر لیا اٹلی کا تمام بڑے شہروں کے لئے شدید گرمی کا اعلیٰ ترین ’’ریڈ الرٹ‘‘ جاری سعودی ولی عہد، فرانسیسی صدر کا رابطہ، مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر تبادلہ خیال مودی سرکار طلبہ کے گھروں میں غنڈے بھیج کر معافیاں منگوانے کی کوشش کررہی: راہول گاندھی آبنائے ہرمز سے متعلق ایران، عمان فریم ورک پر متفق، حتمی منظوری باقی ہے: حسن قشقاوی صدر مملکت نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ عالمی امن کیلئے اہم پیش رفت قرار دیدیا ایران اور عمان آبنائے ہرمز پر معاہدہ کرنے کے قریب پہنچ گئے: ایگزیوس روسی تیل کی فروخت روکنے کیلئے امریکی سینیٹ میں بل کثرت رائے سے منظور حکومت کا عوام کو ریلیف: پٹرول 2 روپے 2 پیسے فی لٹر سستا مکہ مکرمہ میں مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط میرے لیے اعزاز ہے: وزیراعظم امریکی ہتھیاروں کے ذخائر سے متعلق معلومات افشا ہونے پر ٹرمپ کا تحقیقات کا حکم بلوچستان بلدیاتی انتخابات: 9 اگست کو مختلف وارڈز میں ہونے والی پولنگ ملتوی صدر آصف علی زرداری دو روزہ دورے پر لاہور پہنچ گئے

ہسپتالوں اور طبی مراکز کو نشانہ بنانا جنگی جرم اور قابلِ مذمت عمل ہے: ایران

Web Desk

17 July 2026

ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکہ کی جانب سے طبی مراکز کو نشانہ بنائے جانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے کھلا جنگی جرم قرار دیا ہے۔ ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے شہر اہواز میں واقع بچوں کے کینسر ہسپتال کے قریب امریکی حملہ ہوا، جس کے باعث پیدا ہونے والی ہنگامی صورتحال کے پیشِ نظر ہسپتال کو فوری طور پر خالی کرانا پڑا۔

اسماعیل بقائی کے مطابق، اس حملے کے باعث پیدا ہونے والے سکیورٹی خدشات کی وجہ سے کیموتھراپی کے زیرِ علاج 211 معصوم بچوں کو فوری طور پر دیگر طبی مراکز میں منتقل کیا گیا۔ انہوں نے عالمی برادری پر تنقید کرتے ہوئے مزید کہا کہ جو ممالک اور ادارے دنیا بھر میں انسانی حقوق کے علمبردار ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، وہ ہسپتالوں اور صحت کے مراکز کو نشانہ بنائے جانے کے ایسے سنگین واقعات پر جان بوجھ کر مجرمانہ خاموشی اختیار کر لیتے ہیں۔ واضح رہے کہ ایران کے ان الزامات پر تاحال امریکی حکام کی جانب سے کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا ہے۔