LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
صدر کا قدیم مقامی باشندگان کے حقوق، ثقافت کے تحفظ کیلئے پاکستان کے عزم کا اعادہ محسن نقوی کا لاہور ایئرپورٹ کا دورہ، امیگریشن کے عمل کا جائزہ لیا مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ خطے کے کسی ملک کیلئے خطرہ نہیں: سعودی عہدیدار کیریبین جزیرے میں واقع تاریخی آتش فشاں ماؤنٹ پیلے ایک بار پھر فعال اسماء جتک کو دھمکیوں اور اہل خانہ کے قتل کی تحقیقات کے لیے انکوائری کمیٹی قائم واٹس ایپ کا آئی فون صارفین کیلئے اہم فیچر متعارف کینیڈا کے صوبے برٹش کولمبیا میں لگی آگ شدت اختیار کر گئی، ہنگامی حالت نافذ کیف میں روسی ڈرون حملے کے نتیجے میں 3 سالہ بچہ دادا، دادی سمیت ہلاک پروسٹیٹ کینسر ہڈیوں سے آگے تک پھیل گیا، سابق صدر بائیڈن کو شدید درد کا سامنا ایران نے آبنائے ہرمز مکمل طور پر کھولنے کیلئے امریکا کو 6 شرائط پیش کر دیں امریکا مفاہمت اختیار کرے، معاہدے کیلئے موجودہ صورتحال بہترین ہے: ایرانی صدر معروف فٹبالر لیونل میسی کے والد 68 برس کی عمر میں انتقال کر گئے امریکی نائب صدر کا ایران کے ساتھ مذاکرات میں پیشرفت کا دعویٰ امریکا و اسرائیل ایران کیخلاف جنگ میں مقاصد حاصل نہیں کرسکے، پاسداران انقلاب یو اے ای کا آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کے تحفظ پر تشویش کا اظہار

ایران کا حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کی تیاری کا پیغام، عالمی توانائی بحران کا خدشہ

Web Desk

17 July 2026

ایران نے یمن کے حوثی گروپ کو اہم ترین اسٹریٹجک ہدایت جاری کرتے ہوئے الرٹ کر دیا ہے کہ اگر امریکہ نے ایرانی توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا، تو وہ بحیرہ احمر کے اہم ترین بحری راستے ‘باب المندب’ کو بند کرنے کے لیے تیار رہیں۔ برطانوی خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کی رپورٹ کے مطابق، حوثیوں نے اس وارننگ کے بعد باب المندب کے قریب میزائل اور ڈرون تعینات کر دیے ہیں اور وہ حملے کے حتمی حکم کے منتظر ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ باب المندب بند کرنے کے کسی بھی فیصلے کی براہِ راست نگرانی یمن میں موجود ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے نمائندے کریں گے، اور یہ پیغام دو سینئر ایرانی حکام اور ایک علاقائی ذریعے کے مطابق حوثیوں کو پہنچایا جا چکا ہے۔

جون میں ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والی عارضی جنگ بندی کے خاتمے کے بعد خطے میں کشیدگی دوبارہ عروج پر پہنچ گئی ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش کے خدشے کے باعث سعودی عرب اپنے تیل کی بڑی مقدار بحیرہ احمر کے متبادل راستے سے منتقل کر رہا ہے، جس سے باب المندب کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ اس وقت عالمی توانائی کی تقریباً 7 فیصد ترسیل اسی راستے سے ہوتی ہے۔ ماہرین کے مطابق، اگر حوثی اس بحری گزرگاہ پر جہازوں یا بندرگاہوں کو نشانہ بناتے ہیں تو عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں، سپلائی چین اور بین الاقوامی تجارت کو شدید دھچکا لگے گا۔ ماضی میں بھی غزہ جنگ کے دوران حوثی حملوں کے باعث متعدد بین الاقوامی شپنگ کمپنیوں کو افریقہ کا طویل اور مہنگا متبادل راستہ اختیار کرنا پڑا تھا، جس سے سفری لاگت اور وقت میں بے پناہ اضافہ ہوا تھا۔ اب باب المندب میں ممکنہ کشیدگی سے عالمی توانائی کی ترسیل کو بدترین خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔