LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکی حملوں کا جواب، ایران کے بحرین میں امریکی تنصیبات پر حملے امریکی جارحیت کے جواب میں ایران کے کویت میں ڈرون حملے چینی حکومت چاہتی ہے کہ امریکی صدر الیکشن ہار جائیں، ٹرمپ کا الزام امریکا کا برازیل پر بعض درآمدات پر 25 فیصد ٹیرف عائد کرنے کا اعلان روس کا یوکرین میں تعینات کسی بھی بین الاقوامی فوج کو نشانہ بنانے کا اعلان تین مرتبہ میئر لندن منتخب ہونے والے صادق خان کو تاحیات لارڈز بنانے کا اعلان اسرائیلی وزیراعظم کا سینیٹر لنزے گراہم کی آخری رسومات میں شرکت سے انکار چین کا حقیقی معنوں میں انسانی معاشرے کی ترقی اور خوشحالی کو فروغ دینے کا مطالبہ مودی سرکار کا آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں پر بھارتی عملہ تعینات نہ کرنے کا مطالبہ دنیا کی ایک تہائی آبادی صحت بخش غذا خریدنے سے محروم ہے: اقوام متحدہ کا انتباہ پاکستان کی سوڈان میں جاری جنگی مظالم کی شدید مذمت، جنگی جرائم پر احتساب کا مطالبہ اقوام متحدہ کا غیر قانونی یہودی بستی گیوات زیو کو شہر کا درجہ دیے جانے پر اظہار تشویش اسماعیل بقائی کی اقوام متحدہ کی قراردادوں پر امریکا و اسرائیل کے مؤقف پر تنقید آبنائے ہرمز کی صورتحال جنگ سے پہلے والی حالت میں کبھی واپس نہیں آئے گی، ترجمان ایرانی فوج ایرانی عدلیہ نے ٹرمپ کا امریکی قیدی کی رہائی کا دعویٰ مسترد کر دیا

ایران کا حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کی تیاری کا پیغام، عالمی توانائی بحران کا خدشہ

Web Desk

17 July 2026

ایران نے یمن کے حوثی گروپ کو اہم ترین اسٹریٹجک ہدایت جاری کرتے ہوئے الرٹ کر دیا ہے کہ اگر امریکہ نے ایرانی توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا، تو وہ بحیرہ احمر کے اہم ترین بحری راستے ‘باب المندب’ کو بند کرنے کے لیے تیار رہیں۔ برطانوی خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کی رپورٹ کے مطابق، حوثیوں نے اس وارننگ کے بعد باب المندب کے قریب میزائل اور ڈرون تعینات کر دیے ہیں اور وہ حملے کے حتمی حکم کے منتظر ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ باب المندب بند کرنے کے کسی بھی فیصلے کی براہِ راست نگرانی یمن میں موجود ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے نمائندے کریں گے، اور یہ پیغام دو سینئر ایرانی حکام اور ایک علاقائی ذریعے کے مطابق حوثیوں کو پہنچایا جا چکا ہے۔

جون میں ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والی عارضی جنگ بندی کے خاتمے کے بعد خطے میں کشیدگی دوبارہ عروج پر پہنچ گئی ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش کے خدشے کے باعث سعودی عرب اپنے تیل کی بڑی مقدار بحیرہ احمر کے متبادل راستے سے منتقل کر رہا ہے، جس سے باب المندب کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ اس وقت عالمی توانائی کی تقریباً 7 فیصد ترسیل اسی راستے سے ہوتی ہے۔ ماہرین کے مطابق، اگر حوثی اس بحری گزرگاہ پر جہازوں یا بندرگاہوں کو نشانہ بناتے ہیں تو عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں، سپلائی چین اور بین الاقوامی تجارت کو شدید دھچکا لگے گا۔ ماضی میں بھی غزہ جنگ کے دوران حوثی حملوں کے باعث متعدد بین الاقوامی شپنگ کمپنیوں کو افریقہ کا طویل اور مہنگا متبادل راستہ اختیار کرنا پڑا تھا، جس سے سفری لاگت اور وقت میں بے پناہ اضافہ ہوا تھا۔ اب باب المندب میں ممکنہ کشیدگی سے عالمی توانائی کی ترسیل کو بدترین خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔