LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران کیخلاف کسی بھی طاقت کا اتحاد ناکامی سے دوچار ہوگا: ترجمان ایرانی فوج شہباز شریف کی نواز شریف سے ملاقات، ملکی سیاسی و معاشی صورتحال پر مشاورت صدر پوتن کی امریکہ میں جی 20 سربراہی اجلاس میں شرکت کا فیصلہ نہیں ہوا: کریملن پاکستان پوسٹ میں غیر قانونی بھرتیوں کا کیس، اسعد محمود تفتیش سے روپوش قرار پاکستان میں انتظامی یونٹس بنانے کے حوالے سے غور کرنا چاہئے: خواجہ آصف وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی دیوالی کے تہوار پر ہندو برادری کو مبارکباد وزیراعظم شہباز شریف کی آذربائیجان کو یوم فتح کی چھٹی سالگرہ پر مبارکباد شادی اور بچے پیدا کرنے کی ہمت کریں: پوپ لیو کی جنوبی امریکا میں نوجوانوں کو نصیحت سعودی عرب نے ریاض کی جانب داغے گئے 2 بیلسٹک اور 2 کروز میزائل تباہ کر دیے ڈی جی آئی ایس پی آر کا لاہور کی تین جامعات کا دورہ، طلبہ اور اساتذہ سے خصوصی نشستیں ٹرمپ کا سیاسی انتقام لینے اور دھمکیاں دینے پر ڈیموکریٹس کے خلاف تحقیقات کا حکم فضائی آلودگی میں لاہور دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں سرفہرست صدر اور وزیراعظم کا دیوالی پر ملک میں اتحاد، مذہبی ہم آہنگی کے فروغ پر زور امریکی فوج کا بحیرۂ عمان میں تجارتی جہاز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ پاکستان اور سری لنکا کے درمیان دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا کل سے آغاز: بابر اعظم اور کوشال مینڈس اپنی ٹیموں کی قیادت کریں گے

جیل سے فرار ہوکر عورت کا روپ دھارنے والا شخص 8 سال بعد پکڑا گیا

Web Desk

15 September 2026

ترکیہ میں سیکیورٹی حکام نے 8 سالہ طویل تعاقب کے بعد قید کی سزا سے فرار ایک ایسے مطلوب مجرم کو گرفتار کر لیا ہے جس نے گرفتاری سے بچنے کے لیے اپنا حلیہ تبدیل کر کے عورت کا روپ دھار رکھا تھا اور اپنی بہن کا شناختی کارڈ استعمال کر رہا تھا۔ ترک ویب سائٹ ‘ٹی 24’ کی رپورٹ کے مطابق یہ معاملہ 2018 کا ہے جب طغرل باشار نامی شخص چوری اور سرکاری اہلکار کا روپ دھارنے کے تین مقدمات میں 3 سال قید کی سزا سنائے جانے کے بعد روپوش ہو گیا تھا۔

فرار کے بعد طغرل باشار نے حلیے اور نقوش میں اس حد تک تبدیلیاں کر لیں کہ پولیس کے پاس موجود پرانی تصویروں کی مدد سے اسے پہچاننا ناممکن ہو گیا۔ تاہم، ظاہری شکل کی بنیاد پر ناکامی کے بعد حکام نے تعاقب کی حکمتِ عملی تبدیل کرتے ہوئے مجرم کی طرزِ زندگی اور نقل و حرکت پر توجہ مرکوز کی۔ تحقیقات سے معلوم ہوا کہ ملزم نہ صرف استنبول میں خاتون کے روپ میں رہ رہا تھا بلکہ اپنی بیرونِ ملک مقیم بہن کی سرکاری دستاویزات اور کریڈٹ کارڈز استعمال کر رہا تھا، جس پر سیکیورٹی اداروں کے شکوک و شبہات شدید ہو گئے۔

پولیس اور ڈٹیکٹو ٹیموں نے کریڈٹ کارڈ ٹرانزیکشنز کا سراغ لگاتے ہوئے استنبول کے علاقے قاضی کوئے میں ایک ٹھکانے پر چھاپہ مار کر ملزم کو حراست میں لے لیا۔ گرفتاری کے وقت اگرچہ ملزم نے اپنا عورت والا حلیہ برقرار رکھا تھا، تاہم سیکیورٹی ٹیموں نے موقع پر بائیومیٹرک فنگر پرنٹس لیے، جس کا موازنہ کرنے پر تصدیق ہو گئی کہ پکڑا جانے والا شخص ہی 2018 سے فرار طغرل باشار ہے۔ فنگر پرنٹ ٹیکنالوجی کے ذریعے 8 سال سے جاری روپوشی کی اس انوکھی داستان کا ڈراپ سین ہو گیا اور مجرم کو جیل منتقل کر دیا گیا۔