ترکی بھی پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی اتحاد میں شمولیت کا خواہش مند ہے، بلومبرگ کا دعویٰ
Web Desk
9 January 2026
ترکی سعودی عرب اور ایٹمی طاقت پاکستان کے درمیان قائم دفاعی اتحاد میں شامل ہونے کی کوشش کر رہا ہے، جس سے مشرقِ وسطیٰ اور اس سے آگے خطے میں طاقت کے توازن میں نمایاں تبدیلی آ سکتی ہے۔ یہ دفاعی معاہدہ، جس پر ابتدائی طور پر سعودی عرب اور پاکستان نے گزشتہ ستمبر میں دستخط کیے تھے، اس بات کی ضمانت دیتا ہے کہ کسی ایک رکن ملک کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحیت کو تمام رکن ممالک کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق یہ شق نیٹو کے آرٹیکل فائیو سے مشابہ ہے، جبکہ ترکی خود نیٹو کا رکن ہے اور امریکہ کے بعد اتحاد کی سب سے بڑی فوجی قوت رکھتا ہے۔ باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ ترکی کی شمولیت سے متعلق بات چیت آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہے اور معاہدہ طے پانے کا قوی امکان ہے۔ ذرائع نے حساس نوعیت کے باعث اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر معلومات فراہم کیں۔
متعلقہ عنوانات
تہران نے ثالثوں کے ذریعے مذاکرات میں امریکی تجاویز مسترد کردیں
28 July 2026
استحکام پاکستان پارٹی کے ایل اے 6 کے امیدوار علی شان سونی گرفتار
28 July 2026
سعودی عرب پر حملہ: عراقی وزیراعظم نے تحقیقات کا حکم دیدیا
28 July 2026
امریکا کی غیر قانونی بحری ناکہ بندی مزید کشیدگی تصور ہوگی: ایرانی فوج
28 July 2026
حوثی گروہ کے ساتھ تنازع کا پرامن حل چاہتے ہیں: یمنی وزیر خارجہ
28 July 2026
صدر ٹرمپ کے پاس ایران کے معاملے پر آپشنز محدود ہیں: امریکی میڈیا
28 July 2026
نائجیریا میں مسلح افراد کا گاؤں پر حملہ، 30 افراد ہلاک، متعدد مکان نذر آتش
28 July 2026
گزشتہ پانچ برس روس کیلئے انتہائی مشکل اور تاریخ ساز رہے، صدر پوتن
28 July 2026