LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران کیخلاف کسی بھی طاقت کا اتحاد ناکامی سے دوچار ہوگا: ترجمان ایرانی فوج شہباز شریف کی نواز شریف سے ملاقات، ملکی سیاسی و معاشی صورتحال پر مشاورت صدر پوتن کی امریکہ میں جی 20 سربراہی اجلاس میں شرکت کا فیصلہ نہیں ہوا: کریملن پاکستان پوسٹ میں غیر قانونی بھرتیوں کا کیس، اسعد محمود تفتیش سے روپوش قرار پاکستان میں انتظامی یونٹس بنانے کے حوالے سے غور کرنا چاہئے: خواجہ آصف وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی دیوالی کے تہوار پر ہندو برادری کو مبارکباد وزیراعظم شہباز شریف کی آذربائیجان کو یوم فتح کی چھٹی سالگرہ پر مبارکباد شادی اور بچے پیدا کرنے کی ہمت کریں: پوپ لیو کی جنوبی امریکا میں نوجوانوں کو نصیحت سعودی عرب نے ریاض کی جانب داغے گئے 2 بیلسٹک اور 2 کروز میزائل تباہ کر دیے ڈی جی آئی ایس پی آر کا لاہور کی تین جامعات کا دورہ، طلبہ اور اساتذہ سے خصوصی نشستیں ٹرمپ کا سیاسی انتقام لینے اور دھمکیاں دینے پر ڈیموکریٹس کے خلاف تحقیقات کا حکم فضائی آلودگی میں لاہور دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں سرفہرست صدر اور وزیراعظم کا دیوالی پر ملک میں اتحاد، مذہبی ہم آہنگی کے فروغ پر زور امریکی فوج کا بحیرۂ عمان میں تجارتی جہاز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ پاکستان اور سری لنکا کے درمیان دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا کل سے آغاز: بابر اعظم اور کوشال مینڈس اپنی ٹیموں کی قیادت کریں گے

ترکیہ کے ساحل کے قریب 2100 سال پرانا جہاز دریافت، مٹی کے برتن برآمد

Web Desk

9 October 2026

ترکیہ کے جنوبی ساحلی صوبے انطالیہ کے قریب سمندر کی تہہ میں 2,100 سال پرانے ڈوبے ہوئے ایک قدیم تجارتی بحری جہاز کا ملبہ دریافت ہوا ہے، جس سے نایاب اور تاریخی مٹی کے برتنوں کا بڑا ذخیرہ برآمد کیا گیا ہے۔ ماہرینِ آثارِ قدیمہ کے مطابق سمندر میں تقریباً 55 میٹر کی گہرائی پر موجود اس تاریخی جہاز کے ملبے سے پلیٹیں، پیالے، صراحیاں اور ٹرے سمیت 122 مختلف اقسام کے برتن ملے ہیں، جن میں سے بیشتر دو ہزار سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود تقریباً صحیح سلامت ہیں۔

آثارِ قدیمہ کے ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ قدیم دور کے تاجروں نے ان ظروف کو نقل و حمل کے دوران محفوظ رکھنے کے لیے لکڑی کے خصوصی ڈبوں میں رکھ کر ان کے درمیان مٹی بھر دی تھی، جس کی بدولت یہ نایاب نوادرات اتنی طویل مدت تک ٹوٹ پھوٹ سے محفوظ رہے۔ تحقیق کے مطابق یہ بحری جہاز قدیم رومن دور میں بحیرۂ روم کے اہم تجارتی راستے پر سفر کے دوران غرق ہوا تھا۔ زیرِ آب جدید روبوٹک ٹیکنالوجی کی مدد سے ملبے سے مزید تاریخی نوادرات نکالنے اور تحقیقی کھدائی کا عمل جاری ہے۔