LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
سہیل آفریدی کا شارٹ مارچ دہشتگرد تنظیموں کے حق میں ہے: عظمیٰ بخاری ہر مصیبت برداشت کرنے کو تیار، اصولوں پر سمجھوتا نہیں ہوگا: سلمان اکرم راجہ خلیجی ممالک میں کشیدگی کے باعث فضائی آپریشن ایک بار پھر متاثر پاکستان اور سری لنکا کے درمیان پہلا ٹی 20 میچ آج کھیلا جائے گا علیمہ خان کیخلاف کیس کا فیصلہ پھر مؤخر، سہیل آفریدی کی درخواست پر سماعت ملتوی پاکستان اور بحرین کا تجارت، توانائی اور زراعت میں تعاون بڑھانے پر اتفاق مریم نواز کا پنجاب کے ہر ضلع میں پی ایچ اے قائم کرنے کا فیصلہ شمالی وزیرستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن، فتنہ الخوارج کے 7 دہشت گرد ہلاک وزیراعظم کا مولانا فضل الرحمان سے ٹیلیفونک رابطہ، سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال پاکستان سٹاک ایکسچینج میں ٹریڈنگ کا مثبت زون میں آغاز سعودی عرب کی سلامتی کیلئے پُرعزم، حوثی ملیشیا حملے فوری بند کر دے: وزیراعظم سابق امریکی میجر کو فائرنگ سکواڈ کے ذریعے سزائے موت براہِ راست نشر ہوگی: پینٹاگون پی ٹی آئی سے مذاکرات میں بڑے بریک تھرو کی زیادہ امید نہیں: رانا ثناء اللہ دشمن سے طویل جنگ کیلئے اسلحے کی وافر پیداواری صلاحیت موجود ہے: ایران آبنائے ہرمز کے جنوبی حصے میں زوردار دھماکوں کی اطلاعات

ترکیہ کے ساحل کے قریب 2100 سال پرانا جہاز دریافت، مٹی کے برتن برآمد

Web Desk

9 October 2026

ترکیہ کے جنوبی ساحلی صوبے انطالیہ کے قریب سمندر کی تہہ میں 2,100 سال پرانے ڈوبے ہوئے ایک قدیم تجارتی بحری جہاز کا ملبہ دریافت ہوا ہے، جس سے نایاب اور تاریخی مٹی کے برتنوں کا بڑا ذخیرہ برآمد کیا گیا ہے۔ ماہرینِ آثارِ قدیمہ کے مطابق سمندر میں تقریباً 55 میٹر کی گہرائی پر موجود اس تاریخی جہاز کے ملبے سے پلیٹیں، پیالے، صراحیاں اور ٹرے سمیت 122 مختلف اقسام کے برتن ملے ہیں، جن میں سے بیشتر دو ہزار سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود تقریباً صحیح سلامت ہیں۔

آثارِ قدیمہ کے ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ قدیم دور کے تاجروں نے ان ظروف کو نقل و حمل کے دوران محفوظ رکھنے کے لیے لکڑی کے خصوصی ڈبوں میں رکھ کر ان کے درمیان مٹی بھر دی تھی، جس کی بدولت یہ نایاب نوادرات اتنی طویل مدت تک ٹوٹ پھوٹ سے محفوظ رہے۔ تحقیق کے مطابق یہ بحری جہاز قدیم رومن دور میں بحیرۂ روم کے اہم تجارتی راستے پر سفر کے دوران غرق ہوا تھا۔ زیرِ آب جدید روبوٹک ٹیکنالوجی کی مدد سے ملبے سے مزید تاریخی نوادرات نکالنے اور تحقیقی کھدائی کا عمل جاری ہے۔