LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
قومی اسمبلی: 29 وزارتوں اور ڈویژنوں کے 40 کھرب 48 ارب کے 89 مطالبات زر منظور پاکستان ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ پر عملدرآمد کیلئے کردار ادا کرے گا: دفتر خارجہ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر اعلیٰ سطح کے مذاکرات کے لیے سوئٹزرلینڈ پہنچ گئے قومی اسمبلی میں بجٹ کی منظوری کا عمل آج باضابطہ طور پر شروع ہوگا امریکی نائب صدر جے ڈی وینس ایران سے مذاکرات کیلئے سوئٹزرلینڈ پہنچ گئے مسلم دنیا کی پہلی خاتون وزیراعظم بینظیر بھٹو کی آج 73 ویں سالگرہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت امریکہ ایران تکنیکی سطح کے مذاکرات آج سوئٹزرلینڈ میں ہوں گے میناب کے مظلوم بچوں اور شہدا کو اپنے طرزِ عمل کا گواہ سمجھتے ہیں، باقر قالیباف اسحاق ڈار مصر پہنچ گئے، علاقائی وزرائے خارجہ اجلاس میں شرکت کریں گے امریکا ایران مذاکرات کل شروع ہونے کا امکان، صورتحال بہتر ہونے کا دعویٰ محسن نقوی کی ایرانی وزیر خارجہ سے ملاقات، امریکا سے معاہدے کی صورتحال پر گفتگو گھروں پر ٹاور لگانے والا بل جاہلانہ اور غاضبانہ ہے: حافظ نعیم الرحمان پاکستان اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے درمیان 70 کروڑ ڈالر کے قرض پروگرام پر دستخط رانا ثنااللہ نے وزیراعظم کی تبدیلی بارے خبریں بے بنیاد قرار دے دیں ڈیمو کریٹس کو سمجھنا چاہیے کہ ہم نے ایران جنگ میں کتنی بڑی کامیابی حاصل کی:ٹرمپ

امریکی صدر ٹرمپ نے اسحاق ڈار کی پوسٹ شیئر کردی

Web Desk

29 March 2026

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی سوشل میڈیا پوسٹ شیئر کر دی۔

امریکی صدر نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر اسحاق ڈار کی پوسٹ کا عکس شیئر کیا، جس میں آبنائے ہرمز سے پاکستانی جہازوں کو گزرنے کی اجازت کا ذکر کیا گیا تھا۔

اسحاق ڈار نے اپنی پوسٹ میں بتایا تھا کہ پاکستانی پرچم بردار مزید 20 جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت مل گئی ہے، اور روزانہ دو جہاز اس راستے سے گزریں گے۔

انہوں نے ایران کے اس اقدام کو خوش آئند اور تعمیری قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس پیشرفت کی تعریف ہونی چاہیے، کیونکہ یہ خطے میں امن اور استحکام کے فروغ کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔

اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ یہ مثبت اعلان امن کی جانب ایک اہم قدم ہے جو مشترکہ کوششوں کو مزید مضبوط کرے گا، جبکہ مذاکرات، سفارتکاری اور اعتماد سازی ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہیں۔