LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ریاض: پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اہم سائبر سیکیورٹی معاہدے پر دستخط یونٹی فوڈز کے شیئرز میں مبینہ انسائیڈر ٹریڈنگ، ایس ای سی پی کی تحقیقات میں تیزی امیر جماعت اسلامی کا کل ملک بھر میں ہڑتال کا اعلان بھارت سندھ طاس معاہدے سے متعلق فیصلے کو مسترد نہیں کرسکتا، ترجمان دفتر خارجہ پاکستان نیوی کی میری ٹائم مشق ’سی سپارک 2026‘ کراچی میں شروع بانی پی ٹی آئی سے ملاقات اور بچوں سے بات نہ کروانے کا معاملہ، توہینِ عدالت کی درخواست دائر پاکستان کا کرغزستان کے ساتھ تجارت 2 ارب ڈالر تک بڑھانے کے عزم کا اظہار ملک میں کاروباری اوقات کار میں اضافے کی سفارش صدر زرداری سے لندن میں محسن نقوی کی ملاقات، اہم پیغام پہنچایا وزیراعظم شہباز شریف کی بشکیک میں صدارتی محل آمد، گارڈ آف آنر پیش ایف سی بلوچستان ٹریننگ سینٹر خضدار میں بیسک ملٹری ٹریننگ بیچ 76 کی پاسنگ آؤٹ پریڈ یوم دفاع و شہداء: پشاور کے تعلیمی اداروں میں پاک فوج کے زیراہتمام تقریبات ایئر ڈیفنس نے فضائی حدود میں داخل ہونے والے میزائلوں کو ناکام بنا دیا: اردن پاسداران انقلاب کے حق میں مظاہرہ کرنے والوں پر مشتبہ گاڑی چڑھ گئی، 4 افراد جاں بحق نیپال میں تباہ کن سیلاب: ہلاکتیں 1050 تک پہنچ گئیں، 4 ہزار افراد تاحال لاپتہ

خلیجی کوششوں کے باعث ٹرمپ نے ایران پر حملے کا فیصلہ آخری لمحے میں موخر کیا، برطانوی اخبار

Web Desk

15 January 2026

 برطانوی اخبار دی ٹیلی گراف کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر فوجی حملے کا فیصلہ آخری لمحوں میں تبدیل کر دیا۔ یہ تبدیلی سعودی عرب، قطر اور عمان سمیت خلیجی ملکوں کی سفارتی کوششوں کے باعث عمل میں آئی، جنہوں نے واشنگٹن سے ہنگامی مذاکرات کے ذریعے حملے کو مؤخر کرنے کی سفارش کی۔

اخبار کے مطابق صدر ٹرمپ نے بدھ کی رات اپنے اعلان سے پیچھے ہٹتے ہوئے کہا کہ ایران میں ہلاکتیں رک گئی ہیں اور تہران کو اپنے ‘اچھے عمل’ کا مظاہرہ کرنے کا موقع دیا جانا چاہیے۔ خلیجی ممالک نے یہ بھی انتباہ کیا کہ حملے کے خطے میں نتائج بھیانک ہو سکتے ہیں۔

دی ٹیلی گراف کے مطابق ترکی اور مصر نے بھی امریکی صدر سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی، ساتھ ہی خبردار کیا کہ ایران پر حملہ پڑوسی ممالک اور عالمی تیل و گیس کی مارکیٹ پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔

امریکی میڈیا کے مطابق صدر ٹرمپ نے نیشنل سکیورٹی ٹیم کو ہدایت کی کہ ایران پر حملہ صرف اس صورت میں کیا جائے جب اس کے ایرانی رجیم پر فیصلہ کن اثرات مرتب ہوں۔ تاہم امریکی سینیٹر لنزے گراہم نے کہا ہے کہ ایران پر امریکی حملے کا خطرہ ابھی ختم نہیں ہوا۔

پینٹاگون نے مشرق وسطیٰ کے لیے کروز میزائلوں، لڑاکا طیاروں اور جنگی بحری جہازوں سے لیس بحری بیڑے روانہ کر دیے ہیں، جو ایک ہفتے کے اندر علاقے میں پہنچیں گے۔ امریکی حکام نے حملے کی حکمت عملی میں ایرانی پاسداران انقلاب، بسیج فورس اور پولیس کو نشانہ بنانے کا امکان ظاہر کیا ہے۔