LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران جوہری ہتھیار سے دو ہفتے دور تھا، اس لیے اسے تباہ کردیا، ٹرمپ سعودی آئل ٹینکر پر ایرانی حملے میں عملے کے دو ارکان جاں بحق ہوئے: وزارت خارجہ وزیرِ اعظم شہباز شریف کرغزستان کا کامیاب دورہ مکمل کر کے وطن واپس پہنچ گئے محکمہ موسمیات کی اسلام آباد اور بالائی علاقوں میں 3 سے 6 ستمبر تک موسلا دھار بارشوں اور لینڈ سلائیڈنگ کی پیشگوئی پاکستان اور سعودی عرب کا زرعی برآمدات 3 ارب ڈالر تک بڑھانے پر اتفاق، سعودی وفد کا دورۂ اسلام آباد کا اعلان سی آئی اے چیف سے صدر پوتن کی ملاقات سے انکار کی خبریں بے بنیاد ہیں: کریملن ایرانی پاسداران کے سینئر عہدیدار کی عرب ممالک کو امریکی فوجی انخلاء کی دھمکی اسحاق ڈار کی کرغزستان کے ہم منصب سے ملاقات، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق امریکی حملوں کے جواب میں ایران کی شدید جوابی کارروائی کی دھمکی ایران کوئی بے معنی معاہدہ کر بھی لے تو مجھے کوئی پرواہ نہیں: ٹرمپ پنجاب بھر میں نویں جماعت کے سالانہ امتحانات 2026 کے نتائج کا اعلان عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مزید ایک فیصد اضافہ ریکارڈ وزیراعظم ’اپنا گھر اسکیم‘: دو ماہ میں منظور شدہ ہاؤسنگ فنانسنگ میں 117 فیصد کا ریکارڈ اضافہ اسلام آباد ہائیکورٹ: راول جھیل کنارے نیول فارمز اور نیول سیلنگ کلب کو غیر قانونی قرار دینے کا 2022ء کا فیصلہ کالعدم ریاض: پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اہم سائبر سیکیورٹی معاہدے پر دستخط

امریکی سپریم کورٹ کے ایکشن پر ٹرمپ کا ری ایکشن، تمام ممالک پر 10 فیصد گلوبل ٹیرف عائد

Web Desk

21 February 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عدالتی احکامات کو مسترد کرتے ہوئے دنیا بھر سے آنے والی درآمدات پر 10 فیصد گلوبل ٹیرف عائد کرنے کے ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کر دیے ہیں۔ یہ قدم ایک ایسے وقت میں اٹھایا گیا ہے جب امریکی سپریم کورٹ نے حال ہی میں صدر کے ٹیرف بڑھانے کے سابقہ اقدامات کو کالعدم قرار دیا تھا۔

صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ “تمام ممالک پر نیا ٹیرف فوری طور پر نافذ العمل ہوگا”۔ انہوں نے مزید کہا کہ سابقہ تجارتی معاہدے برقرار رہیں گے، تاہم اب درآمدات پر ٹیکس وصولی کا طریقہ کار مختلف ہوگا۔ صدر ٹرمپ نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو “شرمناک” قرار دیتے ہوئے ججز پر کڑی تنقید کی اور الزام عائد کیا کہ کچھ جج ڈیموکریٹس کے زیرِ اثر ہیں اور عدالت غیر ملکی مفادات کے لیے کام کر رہی ہے۔

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی اس معاملے پر صدر کی بھرپور حمایت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عدالت کا ٹیرف کے خلاف فیصلہ “صاف اور سادہ الفاظ میں قانون شکنی اور لاقانونیت” ہے، جسے تسلیم نہیں کیا جائے گا۔