LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ملک سے دہشتگردی کے ناسور کے مکمل خاتمے تک جدوجہد جاری رہے گی: شزہ فاطمہ انتخابات میں کامیابی یا شکست کو جمہوری روایت کے مطابق قبول کیا جانا چاہئے: اختیار ولی خان وزیراعلیٰ سندھ کا بارش سے متاثرہ علاقوں میں ریسکیو، نکاسی آب کے اقدامات تیز کرنے کا حکم عمان سے جاری مذاکرات حتمی مرحلے میں داخل ہوچکے: ایران کی تصدیق ایران آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے پر تیار ہوگیا: اسرائیلی میڈیا کا دعویٰ ایران سے مذاکرات آج دوپہر سے شروع ہوں گے، امریکی صدر یادداشت پر دستخط شوریٰ کونسل کی اجتماعی دانشمندی کا نتیجہ ہے، ایرانی صدر برطانیہ، بلغاریہ اور یوکرین کی ایران کو جنگ میں شامل نہ ہونے کی یقین دہانی قومی سلامتی کے دفاع کیلئے مکمل تیاری موجود ہے، ماجد ابن رضا سعودی، ایرانی، اردنی اور قطری وزرائے خارجہ کا رابطہ، قیامِ امن کے عزم کا اعادہ عمان سے مذاکرات: ایران نے موجودہ جنوبی بحری راستہ ناقابل قبول قرار دیدیا یونان میں جنگلاتی آگ بجھاتے 2 ہیلی کاپٹر ٹکرا گئے، عملے کے 2 افراد ہلاک راولپنڈی سے اڑھائی سالہ بچہ اغوا کر لیا گیا ملک کے سیاسی و معاشی بحرانوں کا حل صرف شفاف انتخابات ہیں: اسد قیصر آزاد کشمیر انتخابات کا دوسرا مرحلہ: ن لیگ 10 اور پی پی 2 نشست پر کامیاب

تاپسی پنو نے بالی ووڈ میں عمر کی بنیاد پر امتیازی سلوک پر آواز اٹھا دی

Web Desk

8 June 2026

ممبئی: بالی ووڈ کی ورسٹائل اور بیباک اداکارہ تاپسی پنو نے بھارتی فلم انڈسٹری میں خواتین کے ساتھ عمر کی بنیاد پر ہونے والے امتیازی سلوک (ایج ازم) کا کچا چٹھا کھولتے ہوئے اسے انڈسٹری کا ایک بڑا دہرا معیار قرار دے دیا ہے۔

اپنی آنے والی نیٹ فلکس ایکشن فلم “گاندھاری” کی ریلیز سے قبل بھارتی میڈیا کو دیے گئے ایک مروجہ انٹرویو میں تاپسی پنو نے خواتین کو درپیش چیلنجز پر کھل کر روشنی ڈالی۔ ان کا کہنا ہے کہ بالی ووڈ ہو یا ساؤتھ فلم انڈسٹری، 30 سال کی عمر عبور کرتے ہی اداکاراؤں کے لیے اچھے اور مرکزی کرداروں کے مواقع مینوئل کے مطابق محدود ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔

اداکارہ نے فلمی نگری میں اپنے مروجہ کیریئر کے سفر کی مشکلات کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا”میں ہندی فلم انڈسٹری میں اس وقت آئی جب میری عمر تقریباً 25 سال تھی۔ پھر تین سے چار سال تو صرف اچھے کردار حاصل کرنے کی مینوئل جدوجہد میں گزر جاتے ہیں۔ جب تک آپ انڈسٹری میں اپنی حقیقی شناخت بناتے ہیں، آپ 30 سال کی عمر عبور کر چکے ہوتے ہیں؛ اور جیسے ہی آپ اس عمر کو پہنچتے ہیں، تو یہ کہہ دیا جاتا ہے کہ اب آپ رومانوی (Romantic) فلموں کے لیے زیادہ جوان نہیں رہیں، جو کہ انتہائی افسوسناک ہے۔”

تاپسی کے مطابق، کہانیوں میں کئی ایسے کردار ہوتے ہیں جن میں کسی کم عمر اداکارہ کی ضرورت نہیں ہوتی، لیکن اس کے باوجود فلم ساز اور پروڈیوسرز مینوئل گائیڈ لائنز کو پسِ پشت ڈال کر صرف نوجوان چہروں کو ترجیح دیتے ہیں۔

انٹرویو کے دوران انہوں نے مرد اداکاروں (ہیروز) کو ملنے والی رعایت پر کڑی تنقید کی تاپسی نے واضح کیا کہ مرد اداکاروں کے معاملے میں ایسا رویہ یا عمر کی قید کم ہی دیکھنے میں آتی ہے۔ وہ 50 سال کی عمر کے بعد بھی جوان ہیرو کے کردار کرتے ہیں۔ اداکارہ کا کہنا تھا کہ مسئلہ صلاحیت یا ٹیلنٹ کا نہیں بلکہ فلم سازوں کی سوچ اور روایتی تاثر کا ہے۔ خواتین کو بااختیار بنانے کے بڑے بڑے دعوؤں کے باوجود انڈسٹری میں یہ مروجہ رویہ آج بھی پوری طرح موجود ہے۔