LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
سیرت النبیؐ تمام انسانیت کے لیے رہنمائی اور رحمت کا سرچشمہ ہے، عطا تارڑ عظمیٰ بخاری فیک ویڈیو کیس: عدالت کا فریقین کو عدالتی تقدس برقرار رکھنے کا حکم روس کبھی یورپ کے پیچھے پابندیاں اٹھوانے کیلئے نہیں بھاگے گا: سرگئی لاوروف روس کا دورِ مشرق ایشیا پیسیفک کے ساتھ تعاون کا اہم مرکز بنے گا: صدر پوتن شرجیل میمن کراچی میں جلاؤ گھیراؤ اور توڑ پھوڑ کے واقعات کی مذمت حتمی مالکان کی تفصیلات جمع نہ کروانے پر 28 ہزار 761 کمپنیوں کو شوکاز نوٹس پاک چین تجارت، سرمایہ کاری اور کاروباری تعاون کے فروغ میں اہم پیشرفت آزاد کشمیر کی ترقی کے ایجنڈے کو آگے بڑھایا جائے گا: وزیراعظم شہباز شریف ایران کا آبنائے ہرمز میں مزید بحری بارودی سرنگیں بچھانے کا دعویٰ سکیورٹی کی آڑ میں مقبوضہ کشمیرکی آئینی حیثیت پر ڈاکہ ڈالنے کی سازش سرکاری سکولوں میں سبزیوں کی کاشت یقینی بنانے کی ہدایت ایران سے کشیدگی، امریکا نے مشرق وسطیٰ میں فوجی تعیناتی بڑھا دی اقوام متحدہ کا ایران میں شادی کی تقریب پر حملے پر تشویش کا اظہار ایکسائز بلوچستان کی بڑی کارروائی، 74 ارب کی منشیات سمگلنگ کی کوشش ناکام بنا دی سٹاک مارکیٹ میں تیزی، کاروبار کا مثبت رجحان رہا

تاپسی پنو نے بالی ووڈ میں عمر کی بنیاد پر امتیازی سلوک پر آواز اٹھا دی

Web Desk

8 June 2026

ممبئی: بالی ووڈ کی ورسٹائل اور بیباک اداکارہ تاپسی پنو نے بھارتی فلم انڈسٹری میں خواتین کے ساتھ عمر کی بنیاد پر ہونے والے امتیازی سلوک (ایج ازم) کا کچا چٹھا کھولتے ہوئے اسے انڈسٹری کا ایک بڑا دہرا معیار قرار دے دیا ہے۔

اپنی آنے والی نیٹ فلکس ایکشن فلم “گاندھاری” کی ریلیز سے قبل بھارتی میڈیا کو دیے گئے ایک مروجہ انٹرویو میں تاپسی پنو نے خواتین کو درپیش چیلنجز پر کھل کر روشنی ڈالی۔ ان کا کہنا ہے کہ بالی ووڈ ہو یا ساؤتھ فلم انڈسٹری، 30 سال کی عمر عبور کرتے ہی اداکاراؤں کے لیے اچھے اور مرکزی کرداروں کے مواقع مینوئل کے مطابق محدود ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔

اداکارہ نے فلمی نگری میں اپنے مروجہ کیریئر کے سفر کی مشکلات کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا”میں ہندی فلم انڈسٹری میں اس وقت آئی جب میری عمر تقریباً 25 سال تھی۔ پھر تین سے چار سال تو صرف اچھے کردار حاصل کرنے کی مینوئل جدوجہد میں گزر جاتے ہیں۔ جب تک آپ انڈسٹری میں اپنی حقیقی شناخت بناتے ہیں، آپ 30 سال کی عمر عبور کر چکے ہوتے ہیں؛ اور جیسے ہی آپ اس عمر کو پہنچتے ہیں، تو یہ کہہ دیا جاتا ہے کہ اب آپ رومانوی (Romantic) فلموں کے لیے زیادہ جوان نہیں رہیں، جو کہ انتہائی افسوسناک ہے۔”

تاپسی کے مطابق، کہانیوں میں کئی ایسے کردار ہوتے ہیں جن میں کسی کم عمر اداکارہ کی ضرورت نہیں ہوتی، لیکن اس کے باوجود فلم ساز اور پروڈیوسرز مینوئل گائیڈ لائنز کو پسِ پشت ڈال کر صرف نوجوان چہروں کو ترجیح دیتے ہیں۔

انٹرویو کے دوران انہوں نے مرد اداکاروں (ہیروز) کو ملنے والی رعایت پر کڑی تنقید کی تاپسی نے واضح کیا کہ مرد اداکاروں کے معاملے میں ایسا رویہ یا عمر کی قید کم ہی دیکھنے میں آتی ہے۔ وہ 50 سال کی عمر کے بعد بھی جوان ہیرو کے کردار کرتے ہیں۔ اداکارہ کا کہنا تھا کہ مسئلہ صلاحیت یا ٹیلنٹ کا نہیں بلکہ فلم سازوں کی سوچ اور روایتی تاثر کا ہے۔ خواتین کو بااختیار بنانے کے بڑے بڑے دعوؤں کے باوجود انڈسٹری میں یہ مروجہ رویہ آج بھی پوری طرح موجود ہے۔