LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
چین کے قومی دن پر صدر آصف زرداری کا صدر شی جن پنگ کو خط، پاک-چین شراکت داری مزید مضبوط بنانے کا اعادہ شام کے شہر حمص میں بس پر فائرنگ: 7 افراد ہلاک، 4 زخمی زمبابوے: ہرارے کے قریب ہیلی کاپٹر حادثہ، 6 افراد ہلاک محسن رضائی کی متحدہ عرب امارات کو نیتن یاہو کی میزبانی پر تنبیہ سعودی ولی عہد کا کشیدگی کم کرنے، سفارتی حل کی کوششیں جاری رکھنے کا اعلان احتجاج کے نام پر جلاؤ گھیراؤ، توڑ پھوڑ، ہتھیار اٹھانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی: شرجیل میمن صنعتکار سیاستدانوں پر سیاست چھوڑیں اور صنعتی ترقی پر توجہ دیں: مراد علی شاہ میرے پاس عراق میں رہنے کا آپشن تھا لیکن بہتر وزیراعظم چھوڑ کر جا رہے ہیں:ٹرمپ سعودی عرب میں ہنگامی لینڈنگ کرنے والے فلائی دبئی طیارے کے مسافر تل ابیب پہنچ گئے نورستان کی لڑائی کا الزام پاکستان پر عائد کرنا سفید جھوٹ ہے: وزارتِ اطلاعات حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان کردیا گورنر راج یا ایمرجنسی، فیصلہ صدر اور وزیراعظم کا ہوگا: اعظم نذیر تارڑ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج، وزیراعظم سے سپیکر قومی اسمبلی کی اہم ملاقات سعودی عرب کے دفاع کے لیے تمام دستیاب وسائل فراہم کریں گے: خواجہ آصف پاکستان میں انشورنس پینیٹریشن جی ڈی پی کا صرف 0.7 فیصد ہے: سی سی پی

پاکستان میں انشورنس پینیٹریشن جی ڈی پی کا صرف 0.7 فیصد ہے: سی سی پی

Web Desk

30 September 2026

کمپیٹیشن کمیشن آف پاکستان (CCP) کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین رپورٹ کے مطابق پاکستان میں انشورنس پینیٹریشن کا تناسب مجموعی قومی پیداوار (GDP) کا صرف 0.7 فیصد ہے، جبکہ ملک میں فی کس انشورنس اخراجات محض 12 امریکی ڈالر ہیں۔ کمپیٹیشن کمیشن کے چیئرمین فرید احمد نے اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ پاکستان میں انشورنس سیکٹر کے فروغ کے بے پناہ اور وسیع امکانات موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مارکیٹ میں موثر اور شفاف کمپیٹیشن قائم کرنے سے اس شعبے میں جدت، خدمات کا معیار بہتر بنانے اور صارفین کو مزید انتخاب فراہم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

سی سی پی کے مطابق اس وقت پاکستان میں کل 44 انشورنس کمپنیاں فعال ہیں، جن میں 36 روایتی انشورنس کمپنیاں، 7 تکافل آپریٹرز اور ایک ری انشورنس کمپنی شامل ہے، جبکہ ملک بھر میں انشورنس پالیسیوں کی مجموعی تعداد تقریباً 1 کروڑ 4 لاکھ ہے۔ رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ مارکیٹ میں چند بڑی کمپنیوں کے ارتکاز، نئی کمپنیوں کے داخلے کی رکاوٹوں، بینک اشورنس، عوامی آگاہی میں کمی اور معلومات کے عدم توازن کی وجہ سے انشورنس کا شعبہ شدید چیلنجز کا شکار ہے۔ اس کے علاوہ کلیمز کی ادائیگی میں تاخیر اور تنازعات بھی صارفین کے اعتماد کو متاثر کرتے ہیں۔ سی سی پی اجلاس میں کلیمز کے تصفیے کو شفاف بنانے، لازمی انشورنس کا مؤثر نفاذ کرنے، زرعی انشورنس کے دائرہ کار کو وسعت دینے، رسک بیسڈ سالوینسی فریم ورک اپنانے اور ‘انشورنس بل 2026ء’ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔