LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
حکومت نے عوام پر معاشی دہشت گردی مسلط کر رکھی ہے: حافظ نعیم الرحمان خیبر پختونخوا پولیس میں بڑے پیمانے پر تبادلے اور تقرریاں، 18 افسران تبدیل سہیل آفریدی حفاظتی تحویل میں ہیں، گرفتار نہیں کیا گیا: عطا تارڑ ریاض ایئرپورٹ کے ٹرمینل 4 پر میزائل حملہ، آگ بھڑک اٹھی کے پی کو مزید تجربہ گاہ بنانا بند کیا جائے، گورنر راج کا نفاذ جمہوری عمل پر ضرب ہے: اسد قیصر خیبرپختونخوا ایڈوائزری کونسل کا پہلا اجلاس، عوام کو دہشتگردی نے نجات دلائیں گے: گورنر میناب سکول حملے میں 168 افراد شہید ہوئے، امریکا کو جواب دہ بنائیں گے: ایران خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کو مسترد کرتے ہیں: مولانا فضل الرحمان آرٹیکل 232 کے تحت صدر کی طرف سے ایمرجنسی نافذ کرنے کا گزیٹ نوٹیفکیشن جاری آرٹیکل 245 کے تحت خیبر پختونخوا میں فوج کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری وفاقی حکومت کا خیبر پختونخوا کے نامزد اضلاع میں ایریا ڈیویلپمنٹ سیکرٹریٹ قائم کرنے کا حکم خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج مسائل کا حل نہیں، جمہوریت دشمنی کا سفر جاری ہے: حافظ نعیم الرحمان خیبر پختونخوا کے حکومتی امور سے متعلق وفاقی حکمنامہ جاری، 11 رکنی مشاورتی کونسل قائم خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کا فیصلہ آسان نہیں تھا: محسن نقوی وفاقی دارالحکومت میں ریڈ الرٹ جاری: حساس عمارتوں پر رینجرز تعینات، دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر گرفتاریوں کا حکم

سینیٹ کا اجلاس آج طلب، 27 ویں آئینی ترمیم پیش ہوگی

Web Desk

10 November 2025

سینیٹ اور قومی اسمبلی کی مشترکہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کی منظوری کے بعد مجوزہ 27 ویں آئینی ترامیم کا مسودہ آج سینیٹ پیش کیا جائے گا۔
سینیٹ کا اجلاس آج 11 بجے طلب کیا گیا ہے، سینیٹ اجلاس کا ایجنڈا جاری کردیا گیا جس کے مطابق ایوان میں 27 ویں آئینی ترمیم پر قائمہ کمیٹی قانون و انصاف کی رپورٹ پیش کی جائے گی، سینیٹر فاروق ایچ نائیک ستائیس ویں آئینی ترمیم سے متعلق قائمہ کمیٹی کی رپورٹ پیش کریں گے جبکہ وزیرقانون ایوان میں ترمیمی بل منظوری کے لیے پیش کریں گے۔
واضح رہے کہ سینیٹ اور قومی اسمبلی کی مشترکہ پارلیمانی کمیٹی برائے قانون و انصاف نے مجوزہ آئینی ترمیم کا پورا ڈرافٹ منظور کرتے ہوئے شق وار 49 ترامیم کی منظوری دی۔
مشترکہ اجلاس میں آئین کے آرٹیکل 243 کی تفصیلی مشاورت کے بعد منظوری دی گئی، آئینی عدالتوں کے قیام کی شق کی بھی منظوری دے دی گئی، کمیٹی نے زیر التوا مقدمات کے فیصلےکی مدت 6 ماہ سے بڑھا کر ایک سال کرنے کی ترمیم منظور کرلی ، ایک سال تک مقدمے کی پیروی نہ ہونے پر اسے نمٹا ہوا تصور کیا جائے گا۔