LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا؛ سپریم کورٹ نے’چرسیوں‘ کو اسلحہ رکھنے کی اجازت دیدی امریکی فوج نے ایران کی بحری ناکہ بندی ختم کردی مغرب میں جمہوریت اور مشرق میں کمیونزم ناکام، حل اسلامی نظام میں ہے: مولانا فضل الرحمٰن وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کا تاریخی ٹیلیفونک رابطہ وزیراعظم نے کفایت شعاری اقدامات میں توسیع کی منظوری دے دی فیلڈ مارشل سے گھانا کے چیف آف ڈیفنس سٹاف کی ملاقات، عسکری تعاون بڑھانے پر اتفاق وزیر اعظم شہباز شریف نے دورہ سوئٹزرلینڈ منسوخ کردیا سہیل آفریدی کی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی درخواست سننے والا سنگل بنچ تحلیل اسحاق ڈار سے بحرینی ہم منصب کا رابطہ، اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر تبادلہ خیال جنگ سے بہتر بات چیت ہوتی ہے: بلاول بھٹو زرداری اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کی وزیر دفاع خواجہ آصف سے ملاقات امریکا ایران مفاہمت کا خیر مقدم، پاکستان نے تاریخی کردار ادا کیا: صدر آصف زرداری پنجاب میں ذاتی جہاز کے لیے پیسے ہیں بنیادی ضروریات کے لیے نہیں ہیں,شہریار آفریدی بانی پی ٹی آئی کی شفا اسپتال منتقلی اور معالج تک رسائی کا کیس وکالت نامہ نہ ہونےسماعت ملتوی ملاقاتوں پر پابندی:سپریم کورٹ کا ہوم سیکریٹری پنجاب اور سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو نوٹس جاری

روس نے وینزویلا سے منسلک اپنے آئل ٹینکر کی حفاظت کے لیے آبدوز اور دیگر بحری جہاز روانہ کر دیے

Web Desk

7 January 2026

روس نے وینزویلا سے منسلک اپنے روسی پرچم بردار آئل ٹینکر کی حفاظت کے لیے آبدوز اور دیگر بحری جہاز روانہ کر دیے، جبکہ امریکی بحریہ اور کوسٹ گارڈ نے ٹینکر کو قبضے میں لے لیا۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ جہاز ایک خفیہ نیٹ ورک ’شیڈو فلیٹ‘ کا حصہ ہے، جس کے ذریعے پابندیوں کی زد میں آنے والے ممالک جیسے وینزویلا، روس اور ایران کا خام تیل عالمی منڈی تک پہنچایا جاتا ہے۔ امریکی کوسٹ گارڈ کے مطابق جہاز نے اپنی رجسٹریشن روس منتقل کر کے نام Bella 1 سے بدل کر Marine Era رکھا اور روسی پرچم نمایاں کیا۔

روس کی وزارت خارجہ نے امریکی قبضے پر شدید تشویش کا اظہار کیا اور جہاز پر موجود عملے کی حفاظت اور فوری واپسی کا مطالبہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق جہاز ناکہ بندی سے بچتے وقت وینزویلا کی طرف سفر کر رہا تھا، تاہم اس میں کوئی تیل موجود نہیں تھا۔ آئل ٹینکر سنہ 2024 سے امریکی پابندیوں کی زد میں ہے اور اس پر ایران اور حزب اللہ سے مبینہ روابط کے الزامات بھی عائد ہیں، جس کے بعد امریکی-روسی سمندری کشیدگی بڑھ گئی ہے۔