LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
تہران نے ثالثوں کے ذریعے مذاکرات میں امریکی تجاویز مسترد کردیں استحکام پاکستان پارٹی کے ایل اے 6 کے امیدوار علی شان سونی گرفتار سعودی عرب پر حملہ: عراقی وزیراعظم نے تحقیقات کا حکم دیدیا امریکا کی غیر قانونی بحری ناکہ بندی مزید کشیدگی تصور ہوگی: ایرانی فوج حوثی گروہ کے ساتھ تنازع کا پرامن حل چاہتے ہیں: یمنی وزیر خارجہ صدر ٹرمپ کے پاس ایران کے معاملے پر آپشنز محدود ہیں: امریکی میڈیا نائجیریا میں مسلح افراد کا گاؤں پر حملہ، 30 افراد ہلاک، متعدد مکان نذر آتش گزشتہ پانچ برس روس کیلئے انتہائی مشکل اور تاریخ ساز رہے، صدر پوتن صدر پوتن نے روسی فوج میں 25 ہزار اہلکاروں کے اضافے کی منظوری دے دی اسرائیلی فوج کا انروا کے دفتر پر دھاوا، عملے کو حراست میں لے لیا پاکستان کی سعودیہ پر ڈرون حملوں کی مذمت، امن کیلئے سنگین خطرہ قرار دیدیا اسرائیلیوں کی آباد کاری، صیہونی فورسز نے فلسطینیوں کی زمینوں پر قبضے تیز کردیئے اقوام متحدہ کی مقبوضہ مغربی کنارے اسرائیلی بستیوں کے توسیعی منصوبے کی شدید مذمت انتخابی عمل کا پہلا مرحلہ آزادانہ اور شفافیت سے مکمل ہوا:چیف الیکشن کمشنر آزاد کشمیر شہباز شریف سے چینی سفیر کی ملاقات، سٹریٹجک شراکت داری مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ

روس نے وینزویلا سے منسلک اپنے آئل ٹینکر کی حفاظت کے لیے آبدوز اور دیگر بحری جہاز روانہ کر دیے

Web Desk

7 January 2026

روس نے وینزویلا سے منسلک اپنے روسی پرچم بردار آئل ٹینکر کی حفاظت کے لیے آبدوز اور دیگر بحری جہاز روانہ کر دیے، جبکہ امریکی بحریہ اور کوسٹ گارڈ نے ٹینکر کو قبضے میں لے لیا۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ جہاز ایک خفیہ نیٹ ورک ’شیڈو فلیٹ‘ کا حصہ ہے، جس کے ذریعے پابندیوں کی زد میں آنے والے ممالک جیسے وینزویلا، روس اور ایران کا خام تیل عالمی منڈی تک پہنچایا جاتا ہے۔ امریکی کوسٹ گارڈ کے مطابق جہاز نے اپنی رجسٹریشن روس منتقل کر کے نام Bella 1 سے بدل کر Marine Era رکھا اور روسی پرچم نمایاں کیا۔

روس کی وزارت خارجہ نے امریکی قبضے پر شدید تشویش کا اظہار کیا اور جہاز پر موجود عملے کی حفاظت اور فوری واپسی کا مطالبہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق جہاز ناکہ بندی سے بچتے وقت وینزویلا کی طرف سفر کر رہا تھا، تاہم اس میں کوئی تیل موجود نہیں تھا۔ آئل ٹینکر سنہ 2024 سے امریکی پابندیوں کی زد میں ہے اور اس پر ایران اور حزب اللہ سے مبینہ روابط کے الزامات بھی عائد ہیں، جس کے بعد امریکی-روسی سمندری کشیدگی بڑھ گئی ہے۔