LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
آبنائے ہرمز بند، خلاف ورزی کرنیوالے جہاز تباہی کیلئے تیار رہیں: ایرانی پاسداران انقلاب ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی اپیلیں پیر کو سماعت کیلئے مقرر موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کیلئے سوئس حکومت کے تعاون کے خواہاں ہیں: گورنر پنجاب خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتِ حال پر پی ٹی آئی جواب دہ ہے: طارق فضل چودھری برآمدات میں اضافے کے لیے سب کو مل کر کام کرنا ہوگا: احسن اقبال ایمنڈ کے انتخابات، اظہر عباس صدر اور طارق محمود جنرل سیکریٹری منتخب محمود اچکزئی کی وزیراعظم سے ملاقات کیلئے تیسری جگہ مقرر کرنے کی شرط مسترد لاہور میں بسنت 2027 کی تاریخیں تبدیل، نوٹیفکیشن جاری ملک بھر میں کھیلوں کے فروغ کیلئے ٹیلنٹ کو بلاامتیاز مواقع دیں گے: وزیراعظم او آئی سی اجلاس شروع، عراقی وزیراعظم کی ثالثی کیلئے پاکستان کی ستائش خطے میں کسی بھی محاذ پر لڑائی کا مطلب جنگ جاری رہنا ہے: ایران کے پی حکومت مولانا کے بغیر چلے گی اور ترقی بھی کرے گی: گورنر فیصل کنڈی او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کا اجلاس آج بغداد میں ہوگا، اسحاق ڈار شرکت نہیں کریں گے خیبرپختونخوا میں معدنیات کے لائسنس پی ٹی آئی ادوار میں زیادہ دیئے گئے: خواجہ آصف خلیج میں توانائی تنصیبات پر حملے پاکستانی معیشت کیلئے تشویش کا باعث ہیں: وزیر خزانہ

روس نے وینزویلا سے منسلک اپنے آئل ٹینکر کی حفاظت کے لیے آبدوز اور دیگر بحری جہاز روانہ کر دیے

Web Desk

7 January 2026

روس نے وینزویلا سے منسلک اپنے روسی پرچم بردار آئل ٹینکر کی حفاظت کے لیے آبدوز اور دیگر بحری جہاز روانہ کر دیے، جبکہ امریکی بحریہ اور کوسٹ گارڈ نے ٹینکر کو قبضے میں لے لیا۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ جہاز ایک خفیہ نیٹ ورک ’شیڈو فلیٹ‘ کا حصہ ہے، جس کے ذریعے پابندیوں کی زد میں آنے والے ممالک جیسے وینزویلا، روس اور ایران کا خام تیل عالمی منڈی تک پہنچایا جاتا ہے۔ امریکی کوسٹ گارڈ کے مطابق جہاز نے اپنی رجسٹریشن روس منتقل کر کے نام Bella 1 سے بدل کر Marine Era رکھا اور روسی پرچم نمایاں کیا۔

روس کی وزارت خارجہ نے امریکی قبضے پر شدید تشویش کا اظہار کیا اور جہاز پر موجود عملے کی حفاظت اور فوری واپسی کا مطالبہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق جہاز ناکہ بندی سے بچتے وقت وینزویلا کی طرف سفر کر رہا تھا، تاہم اس میں کوئی تیل موجود نہیں تھا۔ آئل ٹینکر سنہ 2024 سے امریکی پابندیوں کی زد میں ہے اور اس پر ایران اور حزب اللہ سے مبینہ روابط کے الزامات بھی عائد ہیں، جس کے بعد امریکی-روسی سمندری کشیدگی بڑھ گئی ہے۔