LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ٹرمپ نے کہا وٹکوف، جیرڈ کشنر دوبارہ ماسکو آنے کیلئے تیار ہیں: ترجمان کریملن صدر ٹرمپ انقرہ میں نیٹو ممالک کے اجلاس میں شرکت کریں گے، وائٹ ہاؤس اوپیک پلس ممالک کا اگست کیلئے تیل کی پیداوار بڑھانے کا فیصلہ امریکی نیوی نے بحیرہ عرب میں لاپتہ اہلکار کی تلاش روک دی گروپ کیپٹن کو شہید کرنے والا ملزم سعد 9 گھنٹوں میں گرفتار کر لیا: آئی جی اسلام آباد وفاقی وزیر احسن اقبال کا دورہ امریکہ: ہیلتھ کیئر اور معاشی ترقی کے لیے سمندر پار پاکستانیوں کو شراکت داری کی دعوت، ٹیلی میڈیسن ماڈل کی تجویز فلسطینی علاقوں پر قبضہ ختم ہونے تک اسرائیل سے تعلقات بحال نہیں ہو سکتے، مصر یمنی فورسز اور حوثیوں کے درمیان جھڑپوں میں 65 اموات کی تصدیق شہید رہبراعلیٰ کے خون کا بدلہ ضرور لیں گے، مشیر ایرانی سپریم لیڈر پشاور: چینی باشندوں کی حفاظت کےلئے فول پروف نظام قائم امریکی صدر کی روسی ہم منصب کو یوکرین جنگ کے حل میں مدد کی پیشکش وعدہ کرتا ہوں شہید امام کے مشن کو جاری رکھوں گا: مسعود پزشکیان ایران اور قطر کے درمیان بحری تجارت 5 ماہ بعد بحال مؤثر سفارتکاری اور امن سے پاکستان کا عالمی تشخص مضبوط ہوا: فیصل کریم کنڈی اسرائیل کو خطے کو دوبارہ جنگ کی آگ میں دھکیلنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی: صدر اردوان

یمن کے ساحل کے قریب کارگو بحری جہاز پر نامعلوم افراد کا حملہ

Web Desk

5 July 2026

یمن کے ساحل کے قریب بحیرۂ احمر میں ایک بار پھر سکیورٹی صورتحال کشیدہ ہو گئی ہے جہاں ایک تجارتی کارگو بحری جہاز پر نامعلوم مسلح افراد کی جانب سے حملہ کیا گیا ہے۔ واقعے کے بعد متعلقہ میری ٹائم حکام نے فوری طور پر تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

برطانوی میری ٹائم حکام (UKMTO) کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق، یہ واقعہ بحیرۂ احمر میں یمن کی سٹریٹجک الحدیدہ بندرگاہ سے تقریباً 56 کلومیٹر (30 ناٹیکل میل) دور پیش آیا۔ برطانوی حکام نے تصدیق کی ہے کہ وہ اس حملے کی تمام پہلوؤں سے باریک بینی سے تحقیقات کر رہے ہیں اور بہت جلد اس کی تفصیلی رپورٹ سامنے لائی جائے گی۔

حملے کے اس تازہ واقعے کے بعد برطانوی میری ٹائم حکام نے بحیرۂ احمر اور اس کے مضافاتی سمندری راستوں سے گزرنے والے تمام بین الاقوامی تجارتی اور کارگو بحری جہازوں کو سخت احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔ مزید برآں، جہاز رانی کرنے والی تمام کمپنیوں کو الرٹ رہنے اور سمندر میں کسی بھی قسم کی مشتبہ سرگرمی یا خطرے کی صورت میں فوری طور پر متعلقہ اداروں کو مطلع کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔