LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران کیخلاف کسی بھی طاقت کا اتحاد ناکامی سے دوچار ہوگا: ترجمان ایرانی فوج شہباز شریف کی نواز شریف سے ملاقات، ملکی سیاسی و معاشی صورتحال پر مشاورت صدر پوتن کی امریکہ میں جی 20 سربراہی اجلاس میں شرکت کا فیصلہ نہیں ہوا: کریملن پاکستان پوسٹ میں غیر قانونی بھرتیوں کا کیس، اسعد محمود تفتیش سے روپوش قرار پاکستان میں انتظامی یونٹس بنانے کے حوالے سے غور کرنا چاہئے: خواجہ آصف وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی دیوالی کے تہوار پر ہندو برادری کو مبارکباد وزیراعظم شہباز شریف کی آذربائیجان کو یوم فتح کی چھٹی سالگرہ پر مبارکباد شادی اور بچے پیدا کرنے کی ہمت کریں: پوپ لیو کی جنوبی امریکا میں نوجوانوں کو نصیحت سعودی عرب نے ریاض کی جانب داغے گئے 2 بیلسٹک اور 2 کروز میزائل تباہ کر دیے ڈی جی آئی ایس پی آر کا لاہور کی تین جامعات کا دورہ، طلبہ اور اساتذہ سے خصوصی نشستیں ٹرمپ کا سیاسی انتقام لینے اور دھمکیاں دینے پر ڈیموکریٹس کے خلاف تحقیقات کا حکم فضائی آلودگی میں لاہور دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں سرفہرست صدر اور وزیراعظم کا دیوالی پر ملک میں اتحاد، مذہبی ہم آہنگی کے فروغ پر زور امریکی فوج کا بحیرۂ عمان میں تجارتی جہاز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ پاکستان اور سری لنکا کے درمیان دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا کل سے آغاز: بابر اعظم اور کوشال مینڈس اپنی ٹیموں کی قیادت کریں گے

چوہے 200 کلو چرس کھا گئے، منشیات سمگلنگ کا مرکزی ملزم رہا

Web Desk

3 January 2026

بھارت میں ایک حیران کن واقعے میں عدالت نے منشیات سمگلنگ کے ایک مقدمے میں مرکزی ملزم کو بری کر دیا، جہاں پولیس نے دعویٰ کیا کہ ضبط کی گئی تقریباً 200 کلوگرام چرس گودام میں چوہے کھا گئے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق ریاست جھارکھنڈ کی عدالت نے کیس کی سماعت کے دوران شواہد کو سنبھالنے میں سنگین کوتاہیوں پر پولیس کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ یہ مقدمہ سال 2022 میں درج کیا گیا تھا، جب پولیس نے قومی شاہراہ پر ایک گاڑی کو روک کر اس میں چھپائی گئی بھاری مقدار میں چرس برآمد کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

ٹرائل کے دوران پولیس نے عدالت کو بتایا کہ ضبط شدہ تقریباً 200 کلوگرام چرس، جس کی مالیت لگ بھگ 3 کروڑ پاکستانی روپے بتائی گئی، گودام میں موجود چوہوں نے کھا لی، جس کے باعث اب بطور ثبوت پیش کرنا ممکن نہیں۔

عدالت نے پولیس کے اس مؤقف کو ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی وضاحت نہ صرف ناقص ہے بلکہ اس سے پورے کیس کے طریقہ کار اور پولیس کی سنجیدگی پر بھی سنگین سوالات جنم لیتے ہیں۔ جج نے ریمارکس دیے کہ شواہد کی حفاظت قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بنیادی ذمہ داری ہے، جس میں ناکامی انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے۔

عدالت نے ناکافی شواہد اور پولیس کی غفلت کے باعث مرکزی ملزم کو بری کرنے کا حکم دے دیا۔ اس فیصلے کے بعد بھارتی پولیس کے تفتیشی نظام اور شواہد کے تحفظ پر ایک بار پھر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔