LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاک بحریہ کا فضا سے سطح سمندر پر مار کرنے والے تیمور کروز میزائل کا کامیاب تجربہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ منصوبوں میں تیزی کیلئے نیا نظام منظور چینی سفیر کی اسحاق ڈار سے ملاقات: امریکہ ایران مذاکرات میں پاکستان کے کردار کی تعریف، مکمل اعتماد کا اظہار آئی ایم ایف کا شکنجہ مزید سخت: 11 نئی شرائط عائد، پاکستان کی 2027 تک اصلاحات مکمل کرنے کی یقین دہانی حج فلائٹ آپریشن میں تیزی، مزید 3510 عازمین آج سعودی عرب روانہ ہوں گے امریکا کا تجارتی جہاز پر قبضہ،ایران نے اقوام متحدہ میں شکایت درج کروا دی عالمی سفارت کاری کا مرکز اسلام آباد: ایران امریکہ مذاکرات کے لیے ریڈ زون سیل سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کو مزید 1 ارب ڈالر کے فنڈز موصول پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کے آغاز پر تیزی کا رجحان خیبرپختونخوا کابینہ کا آج ہونے والا اجلاس ملتوی ٹرمپ مذاکرات کی میز کو ہتھیار ڈالنے میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں: باقر قالیباف ایران سے ہونے والا معاہدہ جلد اور اوباما دور کے معاہدے سے بہتر ہوگا: امریکی صدر اسرائیل اور لبنان کے درمیان امن مذاکرات جمعرات کو واشنگٹن میں ہوں گے ریڈ زون کے اداروں میں 21 اپریل کو ورک فرام ہوم کا فیصلہ : نوٹیفکیشن جاری ایرانی وفد کا امریکاسے مذاکرات کیلیے اسلام آبادآنے کاامکان، برطانوی نیوزایجنسی

چوہے 200 کلو چرس کھا گئے، منشیات سمگلنگ کا مرکزی ملزم رہا

Web Desk

3 January 2026

بھارت میں ایک حیران کن واقعے میں عدالت نے منشیات سمگلنگ کے ایک مقدمے میں مرکزی ملزم کو بری کر دیا، جہاں پولیس نے دعویٰ کیا کہ ضبط کی گئی تقریباً 200 کلوگرام چرس گودام میں چوہے کھا گئے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق ریاست جھارکھنڈ کی عدالت نے کیس کی سماعت کے دوران شواہد کو سنبھالنے میں سنگین کوتاہیوں پر پولیس کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ یہ مقدمہ سال 2022 میں درج کیا گیا تھا، جب پولیس نے قومی شاہراہ پر ایک گاڑی کو روک کر اس میں چھپائی گئی بھاری مقدار میں چرس برآمد کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

ٹرائل کے دوران پولیس نے عدالت کو بتایا کہ ضبط شدہ تقریباً 200 کلوگرام چرس، جس کی مالیت لگ بھگ 3 کروڑ پاکستانی روپے بتائی گئی، گودام میں موجود چوہوں نے کھا لی، جس کے باعث اب بطور ثبوت پیش کرنا ممکن نہیں۔

عدالت نے پولیس کے اس مؤقف کو ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی وضاحت نہ صرف ناقص ہے بلکہ اس سے پورے کیس کے طریقہ کار اور پولیس کی سنجیدگی پر بھی سنگین سوالات جنم لیتے ہیں۔ جج نے ریمارکس دیے کہ شواہد کی حفاظت قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بنیادی ذمہ داری ہے، جس میں ناکامی انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے۔

عدالت نے ناکافی شواہد اور پولیس کی غفلت کے باعث مرکزی ملزم کو بری کرنے کا حکم دے دیا۔ اس فیصلے کے بعد بھارتی پولیس کے تفتیشی نظام اور شواہد کے تحفظ پر ایک بار پھر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔