LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
ضمنی انتخاب این اے 77: عطاء اللہ تارڑ کو ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی پر نوٹس جاری چینی سرمایہ کاروں کی گورنر خیبرپختونخوا سے ملاقات، سرمایہ کاری میں اظہار دلچسپی نئی آٹو پالیسی میں گاڑیوں کی برآمدات کو ترجیح دی گئی: ہارون اختر خان این اے 77 کا ضمنی انتخاب: چوہدری سالک حسین کا قاضی ابراہیم گجر کی حمایت کا اعلان پی ٹی آئی رہنما صنم جاوید کا شوہر سے خلع کیلئے فیملی کورٹ سے رجوع منڈی بہاؤالدین میں گرین ٹریکٹرز سکیم کے تحت 12 کسانوں کو چابیاں دے دی گئیں مولانا صاحب کو حصہ نہیں ملا، وہ ناراض ہیں: فیصل کریم کنڈی پاکستان اور سوڈان کے درمیان سفارتی و سرکاری پاسپورٹس پر ویزا ختم کرنے کا معاہدہ ڈی جی آئی ایس پی آر کا کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کا دورہ تھرپارکر میں شدید خشک سالی، 90 فیصد فصلیں تباہ: وزیراعلیٰ سندھ کا ضلع کو آفت زدہ قرار دینے کا فیصلہ اگر لیوی کے حوالے سے حکومت نے اقدام نہیں کیا تو ہم پھر سڑکوں پر آئینگے، امیر جماعت اسلامی امریکا ایران تنازع کا سفارتی حل تلاش کرنے کے لیے تیار ہے: قطری وزیر اعظم 190 ملین پاؤنڈ کیس: بشریٰ بی بی کا مکمل میڈیکل ریکارڈ کیلئے ہائیکورٹ سے رجوع عوام پر ایک اور بوجھ، بجلی فی یونٹ 2 روپے 36 پیسے مہنگی وزیراعلیٰ پنجاب کا پاکستان کے پہلے فل الیکٹرک سویپر ٹرک کا افتتاح

امریکا ایران تنازع کا سفارتی حل تلاش کرنے کے لیے تیار ہے: قطری وزیر اعظم

Web Desk

7 November 2026

قطر کے وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے کہا ہے کہ امریکا ایران کے ساتھ جاری تنازع کا سفارتی حل تلاش کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور امریکی انتظامیہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کی سنجیدہ کوششیں کر رہی ہے۔ آکسفورڈ یونیورسٹی میں خطاب کرتے ہوئے قطری وزیراعظم نے انکشاف کیا کہ وہ گزشتہ دو ہفتوں سے امریکی حکام کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکی انتخابات کے نتائج کے باوجود سفارتی حل کے لیے واشنگٹن کا موقف تبدیل نہیں ہوا، اگرچہ حالیہ دنوں میں سفارتی رابطوں کی رفتار میں کمی آئی ہے لیکن یہ سلسلہ ختم نہیں ہوا۔ شیخ محمد بن عبدالرحمن نے عزم ظاہر کیا کہ قطر تہران اور واشنگٹن کے درمیان ثالثی کا کردار جاری رکھے گا اور اس بات پر زور دیا کہ مکمل امن معاہدے کا انتظار کرنے کے بجائے فی الوقت کشیدگی کم کرنے کے لیے قابلِ عمل اقدامات ضروری ہیں۔