LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران اور امریکا کے درمیان جنگ میں آبنائے ہرمز پر کنٹرول اہم ترین محاذ بن گیا: میڈیا رپورٹ خلیج فارس میں امریکی تسلط کے بعد کا نظام ابھر رہا ہے، محسن رضائی پاکستان کا اہم فیصلہ: بھارتی رجسٹرڈ طیاروں کے لیے فضائی حدود کے استعمال پر پابندی میں 24 ستمبر 2026 تک توسیع روس کے یوکرین کے شمال مشرقی علاقے میں میزائل حملے، 10 افراد ہلاک، 18 زخمی امریکا کی عالمی فوجداری عدالت کی صدر اور سینئر پراسیکیوٹر پر پابندیاں عائد گوگل کا پاکستان میں مقامی دفتر ڈیجیٹل تبدیلی کی جانب اہم پیشرفت ہے، شزا فاطمہ اسرائیلی جنگی طیاروں کا شام کے فضائی اڈے پر حملہ سعودی اور عراقی وزیر خارجہ کا رابطہ، علاقائی صورتحال، تعلقات مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال سعودی کابینہ کا کثیر القومی بحری دفاعی اتحاد کے انسٹی ٹیوشنل، آپریشنل ہونے کا خیر مقدم ایران نے میزائل داغے جانے سے متعلق یو اے ای کا بیان مسترد کر دیا خطے میں کشیدگی: متحدہ عرب امارات نے ایران سے تمام تجارتی، مالی معاملات معطل کر دیئے غزہ میں اسرائیلی فضائی حملہ، 6 فلسطینی شہید، 14 زخمی پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج انسانی ہمدردی کا عالمی دن منایا جا رہا ہے بانی پی ٹی آئی کی صحت کیلئے دعا گو ہوں، طبی سہولیات ملنا سب کا حق ہے: شرجیل میمن وزیر داخلہ کی شہید میجر احسان کی رہائشگاہ آمد، اہلخانہ سے اظہار تعزیت

20 ڈی ایس پیز کے خلاف محکمانہ کارروائیاں، سزائیں جاری

Web Desk

16 July 2026

پنجاب پولیس میں احتساب، جزا و سزا کا عمل انتہائی تیزی سے جاری ہے، جہاں آئی جی پنجاب ڈاکٹر عبدالکریم کی زیرِ صدارت منعقدہ خصوصی “اردل رومز” کے دوران فرائض میں غفلت اور بدعنوانی پر 20 ڈی ایس پیز (DSPs) کے خلاف سخت محکمانہ سزاؤں کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ترجمان پنجاب پولیس کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق، 9 جولائی کو منعقدہ اردل روم میں 3 ڈی ایس پیز کو بڑی (میجر) سزائیں دی گئیں، جن میں سنگین نوعیت کے الزامات ثابت ہونے پر ایک ڈی ایس پی کو نوکری سے برخاست کر دیا گیا جبکہ دوسرے ڈی ایس پی کو تنزلی کا نشانہ بناتے ہوئے سینئر ٹریفک وارڈن کے عہدے پر بھیج دیا گیا۔

ترجمان نے مزید بتایا کہ اس سے قبل ہونے والے مختلف اردل رومز کی سماعتوں میں بھی کڑے احتساب کے تحت 2 ڈی ایس پیز کو ملازمت سے برخاست، ایک کو عہدے سے ڈاؤن گریڈ، جبکہ 2 کی تنخواہوں میں کٹوتی کی جا چکی ہے۔ اس کے علاوہ مجموعی طور پر 17 ڈی ایس پیز کو ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی اور ناقص کارکردگی پر مختلف نوعیت کی تادیبی اور محکمانہ سزائیں دی گئی ہیں۔ آئی جی پنجاب نے واضح کیا ہے کہ محکمے میں کالی بھیڑوں کے لیے کوئی جگہ نہیں اور عوامی خدمت میں کوتاہی کرنے والے افسران کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی۔