LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
روس کے یوکرین کے شمال مشرقی علاقے میں میزائل حملے، 10 افراد ہلاک، 18 زخمی امریکا کی عالمی فوجداری عدالت کی صدر اور سینئر پراسیکیوٹر پر پابندیاں عائد گوگل کا پاکستان میں مقامی دفتر ڈیجیٹل تبدیلی کی جانب اہم پیشرفت ہے، شزا فاطمہ اسرائیلی جنگی طیاروں کا شام کے فضائی اڈے پر حملہ سعودی اور عراقی وزیر خارجہ کا رابطہ، علاقائی صورتحال، تعلقات مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال سعودی کابینہ کا کثیر القومی بحری دفاعی اتحاد کے انسٹی ٹیوشنل، آپریشنل ہونے کا خیر مقدم ایران نے میزائل داغے جانے سے متعلق یو اے ای کا بیان مسترد کر دیا خطے میں کشیدگی: متحدہ عرب امارات نے ایران سے تمام تجارتی، مالی معاملات معطل کر دیئے غزہ میں اسرائیلی فضائی حملہ، 6 فلسطینی شہید، 14 زخمی پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج انسانی ہمدردی کا عالمی دن منایا جا رہا ہے بانی پی ٹی آئی کی صحت کیلئے دعا گو ہوں، طبی سہولیات ملنا سب کا حق ہے: شرجیل میمن وزیر داخلہ کی شہید میجر احسان کی رہائشگاہ آمد، اہلخانہ سے اظہار تعزیت آبنائے ہرمز پر امریکا ایران ثالثی کی نئی کوششیں کی جائیں گی: قطر محمد علی درانی کا بہاولپور اور ہزارہ کو فوری ماڈل صوبے بنانے کا مطالبہ انمول پنکی کیخلاف قتل بالسبب کے مقدمہ میں فرد جرم عائد، ملزمہ کا صحت جرم سے انکار

ایران نے میزائل داغے جانے سے متعلق یو اے ای کا بیان مسترد کر دیا

Web Desk

19 August 2026

ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی سرزمین پر ایران سے بیلسٹک میزائل داغے جانے سے متعلق اماراتی بیان کو مکمل طور پر مسترد اور بے بنیاد قرار دے دیا ہے۔ ترجمان نے ایران کے خلاف اس قسم کے من گھڑت الزامات پر سخت تنبیہ کرتے ہوئے ‘فالز فلیگ آپریشنز’ (False Flag Operations) کا امکان ظاہر کیا ہے، جس کا مقصد خطے میں دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کو ہوا دینا ہو سکتا ہے۔

اس سے قبل متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع نے دعویٰ کیا تھا کہ ایرانی حدود سے داغے گئے دو بیلسٹک میزائلوں کا سراغ لگایا گیا ہے جو سمندری آمدورفت اور جہاز رانی کو نشانہ بنا رہے تھے اور سمندر میں جا گرے۔ اماراتی حکام کے مطابق، 4 مئی کو فجیرہ بندرگاہ پر ہونے والے حملے کے بعد یہ اپنی نوعیت کا پہلا بڑا واقعہ تھا، جس کے بعد امارات نے تجارتی تعلقات کی معطلی کا اعلان کیا تھا۔ تاہم تہران نے ایسے تمام دعووں کو یکسر رد کر دیا ہے۔