LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کی امریکی ڈی ایف سی وفد سے ملاقات: زراعت، توانائی اور معدنیات میں تعاون کا اعادہ وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کی امریکی ہم منصب سے ملاقات: اقتصادی تعاون اور امریکی سرمایہ کاری بڑھانے پر اتفاق بھارتی نوجوانوں کی تحریک زور پکڑ گئی، ملک کے اندر اور باہر شدید احتجاج ٹرمپ انتظامیہ نے جنگ کیلئے کانگریس سے مزید 87 ارب ڈالر مانگ لئے جوہری تنصیبات پر حملہ ہوا تو خطے میں امریکی اتحادیوں کے مفادات کو نشانہ بنائیں گے، ایران فرانسیسی ایئرلائن نے مشرق وسطیٰ کی پروازیں منسوخ کر دیں سعودیہ کا ملٹی پل عمرہ ویز متعارف، قیام کی انتہائی حد 90 روز مقرر آئی ایم ایف کا یوکرین کو 690 ملین ڈالر قرض فراہم کرنے کا اعلان چین نے جاپانی کے نام نہاد تحفظات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا فلائی دبئی کی شام کے شہر حلب کیلئے روزانہ براہ راست پروازیں شروع اسرائیلی فوج کا غزہ میں مکان پر فضائی حملہ، فلسطینی میاں بیوی 4 بچوں سمیت شہید ایران جنگ میں امریکا کو جھونکنے والا اسرائیل پیچھے ہوگیا یوکرینی صدر نے فوج کے کمانڈر اِن چیف کو عہدے سے برطرف کر دیا ٹرمپ نے لبنان کیلئے براہ راست امریکی پروازیں بحال کرنے کی منظوری دے دی اربیل ایئرپورٹ میں سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر تمام پروازیں عارضی طور پر معطل

نائن الیون کے بعد امریکا کی 3 بڑی جنگیں، 10 ممالک پر حملے کیے گئے

Web Desk

4 March 2026

نائن الیون حملوں کے بعد امریکا نے دنیا کے مختلف خطوں میں تین بڑی جنگیں لڑیں، دس ممالک پر فضائی اور زمینی حملے کیے اور اندازاً نو لاکھ چالیس ہزار انسان اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

غیر ملکی میڈیا کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق سابق امریکی صدور جارج ڈبلیو بش، باراک اوباما، ڈونلڈ ٹرمپ اور جو بائیڈن کے ادوار میں امریکا نے افغانستان، عراق، یمن، پاکستان، صومالیہ، لیبیا، شام، وینزویلا، نائجیریا اور ایران میں کارروائیاں کیں۔

سب سے پہلی جنگ افغانستان میں اکتوبر دو ہزار ایک میں شروع ہوئی جو بیس سال تک جاری رہی۔ اس جنگ میں دو لاکھ تینتالیس ہزار افراد ہلاک ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق امریکا نے ان تنازعات پر اندازاً پانچ اعشاریہ آٹھ کھرب ڈالر خرچ کیے جبکہ معذور اور ریٹائرڈ فوجیوں کے اخراجات شامل کیے جائیں تو یہ لاگت آٹھ کھرب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔

مارچ دو ہزار تین میں صدر جارج ڈبلیو بش نے عراق میں جنگ کا آغاز کیا اور دعویٰ کیا کہ صدر صدام حسین کے پاس وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار موجود ہیں، تاہم یہ دعویٰ بعد میں غلط ثابت ہوا۔ عراق میں تین لاکھ پندرہ ہزار افراد مارے گئے۔

دو ہزار چودہ سے دو ہزار اکیس تک شام میں شدت پسند تنظیم داعش کے خلاف امریکی کارروائیوں میں دو لاکھ انہتر ہزار افراد ہلاک ہوئے جبکہ یمن میں دو ہزار دو سے دو ہزار اکیس تک ایک لاکھ بارہ ہزار افراد جان سے گئے۔

دو ہزار کی دہائی میں امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے نے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ڈرون حملوں کا سلسلہ شروع کیا جس میں بعد ازاں اضافہ کیا گیا۔ اسی دوران صومالیہ میں القاعدہ سے منسلک عناصر کے خلاف کارروائیاں ہوئیں جبکہ دو ہزار گیارہ میں امریکا نے نیٹو کے ساتھ مل کر لیبیا میں مداخلت کی جس کے بعد ملک طویل بدامنی کا شکار رہا۔

رپورٹ کے مطابق بیرونی جنگوں کے خاتمے کے وعدوں کے باوجود صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اپنے پیش رو صدور کی طرح امریکی مفادات کے حصول کیلئے فوجی طاقت پر انحصار جاری رکھا۔