LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں کا فلسطینی خاندانوں کے گھروں کا محاصرہ بادامی باغ میں نامعلوم موٹرسائیکل سواروں کی فائرنگ، 2 پولیس اہلکار شہید وزیراعظم شہباز شریف سے ناروے کے وزیر خارجہ کی ملاقات، دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال پنجاب حکومت کا انتظامی اخراجات کم کرنے کیلئے 101 آسامیاں ختم کرنے کا فیصلہ اسحاق ڈار سے صدر ن لیگ آزاد کشمیر کی ملاقات، حکومت سازی سے متعلق امور پر گفتگو ناروے کے وزیر خارجہ کی جی ایچ کیو آمد، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات منشیات کیس: عدالت نے ملزمہ انمول عرف پنکی کو بری کر دیا کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے 8 اہلکاروں کو اغوا کرلیا: آزاد کشمیر پولیس قومی اسمبلی اور سینیٹ کا اجلاس 17 اگست کو طلب کرنے کا فیصلہ براڈ پیک حادثے میں لاپتہ ہونے والے پاکستانی کوہ پیما سہیل سخی کی لاش مل گئی پاکستان کی پہلی چاند گاڑی کا نام جناح-1 رکھ دیا گیا اعلیٰ عدلیہ کے ججز کی تنخواہوں اور مراعات میں بڑا اضافہ اسرائیلی فورسز جنوبی لبنان میں گھروں کو تباہ اور نذرِ آتش کر رہی ہے: لبنانی میڈیا ملک بھر کیلئے فی یونٹ بجلی مسلسل 3 ماہ تک مہنگی ہونے کا امکان کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے 8 اہلکاروں کو اغوا کرلیا: آزاد کشمیر پولیس

کیتھولک مسیحوں کے روحانی پیشوا پوپ لیو کا مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر اظہار تشویش

Web Desk

13 July 2026

کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ نے مشرقِ وسطیٰ، یوکرین اور دنیا کے دیگر حصوں میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی اور جنگی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

اپنے ایک حالیہ بیان میں انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ انتہائی بدقسمتی کی بات ہے کہ مشرقِ وسطیٰ، یوکرین اور کئی دیگر مقامات پر ایک بار پھر جنگ کی ہوائیں چل رہی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ جنگ اپنے ساتھ صرف تشدد، دہشت، خوف اور موت لے کر آتی ہے جس سے ہمیشہ معصوم اور بے گناہ لوگ ہی سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔

روحانی پیشوا نے عالمی برادری اور جنگی فریقین پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ان جنگی ہواؤں اور حالات کی خرابی کے باعث امن کی شمع کسی صورت نہیں بجھنی چاہیے۔ انہوں نے پائیدار حل کی ضرورت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ صرف آپسی مکالمے، ملاقاتوں اور فعال سفارت کاری کا راستہ ہی دنیا کو ایک منصفانہ، محفوظ اور دیرپا امن کی طرف لے جا سکتا ہے، اس لیے طاقت کے بجائے سفارتی ذرائع کو ترجیح دی جائے۔