LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
کرپشن، بدعنوانی عروج پر، کے پی میں گورننس نام کی چیز نہیں: عطا تارڑ ’اب بہت ہو گیا، بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کرائی جائے‘؛ اپوزیشن اجلاس اسٹاک مارکیٹ کریش، 100 انڈیکس کی 3700 سے زائد پوائنٹس کی ریکارڈ تنزلی اربوں ڈالر کا سرپلس خسارے میں تبدیل، اپریل میں کرنٹ اکاؤنٹ 32 کروڑ ڈالر منفی ہو گیا، اسٹیٹ بینک گندم اور گیس کی ترسیل پر زیادتی ہو رہی ہے: گورنر، وزیراعلیٰ کے پی پاکستان کی ثالثی میں امریکا کے ساتھ مذاکرات کا عمل آگے بڑھ رہا ہے: ایران وزیرِ اعظم سے نیول چیف کی ملاقات، پاک بحریہ کے پیشہ وارانہ امور پر تبادلہ خیال حافظ نعیم الرحمان کا پٹرولیم لیوی کیخلاف وفاقی آئینی عدالت سے رجوع سی این جی بندش: وزیراعلیٰ کے پی کا وزیراعظم کو فوری گیس بحالی کیلئے خط اماراتی نیوکلیئر پلانٹ پر حملہ خطرناک، جوہری تنصیبات کو نشانہ نہ بنایا جائے: دفتر خارجہ اسحاق ڈار کا قطر کے وزیرِ مملکت خارجہ سے رابطہ، خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال ایران-امریکا کشیدگی اور آئی ایم ایف کی سخت شرائط کا اثر؛اسٹاک ایکسچینج کریش امریکا نے ایران کے لیے امن عمل کی 5 سخت شرائط مقرر کر دیں حکومت کے پہلے 25 ماہ میں وفاقی قرضوں میں 15 ہزار 714 ارب روپے کا ہوشربا اضافہ جنوبی وزیرستان لوئر میں وانا رستم بازار میں بم دھماکہ

مہنگائی کے بوجھ تلے عوام ہر لیٹر پیٹرول پر 100 روپے ، ڈیزل پر 94.93 روپے ٹیکسز ادا کرتے ہیں، رپورٹ میں انکشاف

Web Desk

16 February 2026

وزارت توانائی پاکستان کی تازہ دستاویزات سے ظاہر ہوا ہے کہ ملک میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں صرف عالمی مارکیٹ پر منحصر نہیں بلکہ ٹیکسز اور لیویز نے بھی عوام کی جیب پر بھاری بوجھ ڈال دیا ہے۔

دستاویزات کے مطابق ہر لیٹر پیٹرول پر 100 روپے 21 پیسے ٹیکس عائد ہیں، جو قیمت کا 39 فیصد بنتا ہے، جبکہ ایک لیٹر ڈیزل پر 94.93 روپے ٹیکسز ہیں جو 34 فیصد کے برابر ہیں۔ فی لیٹر پیٹرول میں 13.31 روپے کسٹم ڈیوٹی، 84.40 روپے پیٹرولیم لیوی اور 2.50 روپے کلائمیٹ سپورٹ لیوی شامل ہیں۔ اسی طرح ڈیزل میں 15.68 روپے کسٹم ڈیوٹی، 76.21 روپے پیٹرولیم لیوی اور 2.50 روپے کلائمیٹ سپورٹ لیوی شامل ہیں۔

عوامی مشکلات یہاں ختم نہیں ہوتیں، کیونکہ آئل مارکیٹنگ کمپنیاں ہر لیٹر پیٹرول اور ڈیزل پر 7.87 روپے وصول کرتی ہیں، جبکہ ڈیلرز 8.64 روپے اضافی وصول کرتے ہیں، جس سے اصل قیمت میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اس بلند ٹیکس بوجھ اور اضافی فیسوں کے باعث عام شہریوں کی روزمرہ آمدنی پر دباؤ بڑھ رہا ہے اور حکومت کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کی کوششیں ناکافی ثابت ہو رہی ہیں۔