LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
اسرائیلی انتخابات: ابتدائی نتائج میں نیتن یاہو اتحاد کی برتری، اکثریت سے دور شہباز شریف نے مسلم لیگ ن خیبرپختونخوا کا اہم اجلاس کل طلب کر لیا حکومت اور پیپلز پارٹی مذاکرات کا دوسرا دور ختم، بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق سعودی سفیر کی خواجہ آصف سے ملاقات، دفاعی تعاون مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ سہیل آفریدی سمیت دیگر ملزمان کے وارنٹ گرفتاری کا حکم نامہ جاری برآمدات میں اضافے کیلئے جی ایس پی پلس فریم ورک سے بھرپور استفادہ کیا جائے: اسحاق ڈار بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کیلئے 6 رفقاء کی فہرست جیل حکام کو جمع روہڑی کے قریب ایل پی جی باؤزر دھماکے میں 2 افراد جاں بحق، 4 زخمی مصنوعی ذہانت سے سرکاری اخراجات کم کرنے کا منصوبہ، ہزاروں نوکریاں ختم ہوں گی حوثی ملیشیا کا عدن ایئرپورٹ پر بیلسٹک میزائل حملہ روس اور ایران کے درمیان 8 جوہری پاور یونٹس کی تعمیر کے معاہدوں پر دستخط گھریلو تنازع پر بھائی نے فائرنگ کرکے دو بہنوں کو قتل کردیا ایران کا مستقبل سپریم لیڈر کی ہدایات کے مطابق ہوگا، صدر مسعود پزشکیان انٹربینک میں روپے کی قدر میں بہتری، ڈالر مزید سستا ہوگیا ماسکو میں تیسرے روس افریقہ سربراہی اجلاس کا آغاز، پوتن کا کثیر قطبی عالمی نظام پر زور

مہنگائی کے بوجھ تلے عوام ہر لیٹر پیٹرول پر 100 روپے ، ڈیزل پر 94.93 روپے ٹیکسز ادا کرتے ہیں، رپورٹ میں انکشاف

Web Desk

16 February 2026

وزارت توانائی پاکستان کی تازہ دستاویزات سے ظاہر ہوا ہے کہ ملک میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں صرف عالمی مارکیٹ پر منحصر نہیں بلکہ ٹیکسز اور لیویز نے بھی عوام کی جیب پر بھاری بوجھ ڈال دیا ہے۔

دستاویزات کے مطابق ہر لیٹر پیٹرول پر 100 روپے 21 پیسے ٹیکس عائد ہیں، جو قیمت کا 39 فیصد بنتا ہے، جبکہ ایک لیٹر ڈیزل پر 94.93 روپے ٹیکسز ہیں جو 34 فیصد کے برابر ہیں۔ فی لیٹر پیٹرول میں 13.31 روپے کسٹم ڈیوٹی، 84.40 روپے پیٹرولیم لیوی اور 2.50 روپے کلائمیٹ سپورٹ لیوی شامل ہیں۔ اسی طرح ڈیزل میں 15.68 روپے کسٹم ڈیوٹی، 76.21 روپے پیٹرولیم لیوی اور 2.50 روپے کلائمیٹ سپورٹ لیوی شامل ہیں۔

عوامی مشکلات یہاں ختم نہیں ہوتیں، کیونکہ آئل مارکیٹنگ کمپنیاں ہر لیٹر پیٹرول اور ڈیزل پر 7.87 روپے وصول کرتی ہیں، جبکہ ڈیلرز 8.64 روپے اضافی وصول کرتے ہیں، جس سے اصل قیمت میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اس بلند ٹیکس بوجھ اور اضافی فیسوں کے باعث عام شہریوں کی روزمرہ آمدنی پر دباؤ بڑھ رہا ہے اور حکومت کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کی کوششیں ناکافی ثابت ہو رہی ہیں۔