LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
سندھ بھر میں دفعہ 144 کی مدت میں توسیع، جلسے جلوس اور احتجاج پر پابندی برقرار امریکی مرکزی بینک نے مانیٹری پالیسی کا اعلان کر دیا،شرحِ سود برقرار ‘ایران جلد ہوش کے ناخن لے’، ٹرمپ نے بندوق تھامے ’اے آئی جنریٹڈ‘ فوٹو شیئر کردی پاکستان میں کرپشن بارے آئی ایم ایف رپورٹ معتصب، نامناسب ہے: چیئرمین نیب بلاول بھٹو زرداری سے ازبکستان کے نووئی ریجن کے گورنر کی ملاقات پاکستان کی کوششوں سے جنگ بندی ہوئی، توسیع بھی کی گئی جو تاحال برقرار ہے: وزیراعظم پاک افغان سرحد پر افغان طالبان کی بلا اشتعال جارحیت، پاک فوج کا بھرپور جواب وزیراعظم سے کابینہ ارکان کی ملاقاتیں،وزارتوں سے متعلقہ اُمور پر تبادلہ خیال وفاقی کابینہ کا اجلاس، مشرقِ وسطیٰ تنازع میں پاکستان کی کوششوں کا جائزہ بانی پی ٹی آئی بلاوجہ جیل میں ہیں، نظریہ قید نہیں کیا جا سکتا: سہیل آفریدی قدرتی آفات کے تباہ کن اثرات کم کرنے کیلئے مضبوط انفراسٹرکچر ناگزیر ہے: وزیراعظم پاکستان سٹاک مارکیٹ میں 2 روز کی مندی کے بعد آج مثبت رجحان امریکا نے ایران کے 35 اداروں اور شخصیات پر پابندیاں عائد کر دیں پاکستان کرپٹو کونسل کا ایکسچینج کمپنیوں کو کرپٹو لائسنس جاری کرنے کا عندیہ پینٹاگون شاید صدر ٹرمپ کو ایران جنگ کی مکمل تصویر نہیں دکھا رہا، امریکی میڈیا کا انکشاف

مہنگائی کے بوجھ تلے عوام ہر لیٹر پیٹرول پر 100 روپے ، ڈیزل پر 94.93 روپے ٹیکسز ادا کرتے ہیں، رپورٹ میں انکشاف

Web Desk

16 February 2026

وزارت توانائی پاکستان کی تازہ دستاویزات سے ظاہر ہوا ہے کہ ملک میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں صرف عالمی مارکیٹ پر منحصر نہیں بلکہ ٹیکسز اور لیویز نے بھی عوام کی جیب پر بھاری بوجھ ڈال دیا ہے۔

دستاویزات کے مطابق ہر لیٹر پیٹرول پر 100 روپے 21 پیسے ٹیکس عائد ہیں، جو قیمت کا 39 فیصد بنتا ہے، جبکہ ایک لیٹر ڈیزل پر 94.93 روپے ٹیکسز ہیں جو 34 فیصد کے برابر ہیں۔ فی لیٹر پیٹرول میں 13.31 روپے کسٹم ڈیوٹی، 84.40 روپے پیٹرولیم لیوی اور 2.50 روپے کلائمیٹ سپورٹ لیوی شامل ہیں۔ اسی طرح ڈیزل میں 15.68 روپے کسٹم ڈیوٹی، 76.21 روپے پیٹرولیم لیوی اور 2.50 روپے کلائمیٹ سپورٹ لیوی شامل ہیں۔

عوامی مشکلات یہاں ختم نہیں ہوتیں، کیونکہ آئل مارکیٹنگ کمپنیاں ہر لیٹر پیٹرول اور ڈیزل پر 7.87 روپے وصول کرتی ہیں، جبکہ ڈیلرز 8.64 روپے اضافی وصول کرتے ہیں، جس سے اصل قیمت میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اس بلند ٹیکس بوجھ اور اضافی فیسوں کے باعث عام شہریوں کی روزمرہ آمدنی پر دباؤ بڑھ رہا ہے اور حکومت کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کی کوششیں ناکافی ثابت ہو رہی ہیں۔