LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان آئی ایل او سے تعاون کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے: وزیراعظم روسی افواج کے یوکرینی ریڈارز، ڈیٹا سینٹرز اور فوجی تنصیبات پر حملے آزاد کشمیر اسمبلی کے ارکان نے حلف اٹھا لیا، مسائل باہمی تعاون سے حل کیے جائیں گے: وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر کابینہ میں تین وزراء کے محکموں میں ردوبدل ایران جنگ: برطانیہ میں ڈیزل کی قیمت ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی قطر کا سعودی خودمختاری کے تحفظ اور ایران امریکا مذاکرات میں پیش رفت کی حمایت کا اعلان ایرانی افواج کی انگلیاں ٹرگر پر،دشمن کی غلطی کے منتظر ہیں: ابراہیم عزیزی مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ، حرمین شریفین کے دفاع کیلئے مسلم امہ کا مضبوط اتحاد اپوزیشن اتحاد کی آج مولانا فضل الرحمان سے ملاقات طے، خیبرپختونخوا کی صورتحال اور پارلیمانی امور پر مشاورت ہوگی مذاکرات کی ناکامی کے ذمہ دار وفاقی وزراء ہیں: شوکت یوسفزئی وزیراعظم کی موسم سرما میں گیس لوڈ مینجمنٹ کا لائحہ عمل تیار کرنے کی ہدایت آزاد جموں و کشمیر میں پیپلز پارٹی کی تنظیم نو، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے چار رکنی کمیٹی تشکیل دے دی ڈی آئی خان میں فائرنگ کے دو واقعات میں ایف بی آر اور پولیس کے 5 اہلکار شہید اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کا دورہ پاکستان، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس اپوزیشن جان بوجھ کر مذاکرات کی ناکامی کا ملبہ ڈال رہی ہے، وزیراعلیٰ کے پی کی آخری وقت کی شرائط نے مذاکرات ناکام بنائے: حکومتی مؤقف

قومی کرکٹرز کو کاؤنٹی اور ویٹیلٹی بلاسٹ کے لیے این او سی جاری

Web Desk

8 April 2026

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے قومی کرکٹرز کو انگلینڈ میں ہونے والی کاؤنٹی کرکٹ اور ویٹیلٹی بلاسٹ ٹورنامنٹ میں شرکت کے لیے باقاعدہ طور پر این او سی (NOC) جاری کر دیے ہیں۔ بورڈ کے فیصلے کے مطابق، آل راؤنڈر محمد نواز، لیگ اسپنر اسامہ میر اور نوجوان بولر سفیان مقیم کو ویٹیلٹی بلاسٹ کے لیے کلیئرنس دی گئی ہے، جہاں وہ اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھائیں گے۔ دوسری جانب، تجربہ کار فاسٹ بولر محمد عباس کو کاؤنٹی کرکٹ کھیلنے کے لیے این او سی جاری کیا گیا ہے، جس سے انہیں برطانوی کنڈیشنز میں اپنی ریڈ بال فارم برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔ پی سی بی کا کہنا ہے کہ کھلاڑیوں کو انٹرنیشنل مصروفیت اور فٹنس پلان کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ اجازت دی گئی ہے تاکہ وہ عالمی سطح پر تجربہ حاصل کر سکیں۔