LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان کی سعودی عرب میں حوثیوں کے حملوں کی شدید مذمت ایرانی صدر کا جارح قوتوں کے خلاف مزاحمت جاری رکھنے کا اعلان شہباز شریف سے ممتاز صنعت کاروں اور کاروباری شخصیات کے وفد کی ملاقات اسلام آباد جوڈیشل سروس رولز 2011 میں ترمیم منظور، ججز کے تبادلوں کی راہ ہموار قائم مقام صدر یوسف رضا گیلانی نے سینیٹ موبائل ایپلی کیشن کا افتتاح کر دیا حوثیوں کے حملے قابلِ مذمت، پاکستان سعودیہ کی حمایت جاری رکھے گا: وزیراعظم سندھ اسمبلی: جماعت اسلامی کی لیوی ٹیکس ختم کرنے کی قرارداد منظور آئی ٹی برآمدات میں اضافہ؛ پاکستانی ٹیک سیکٹر کی عالمی منڈیوں تک رسائی ٹرمپ کی ایران سے جنگ جیتنے پر تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی کی پیشگوئی اڈیالہ جیل کے 3 قیدیوں کا عمران خان جیسی طبی سہولیات کیلئے آئینی عدالت سے رجوع اقوامِ متحدہ نے معیاری عالمی نقشے میں کشمیر کو متنازعہ علاقہ قرار دے دیا 27 ستمبر احتجاج کیس پر اسلام آباد ہائیکورٹ کا لارجر بینچ بنانے کا فیصلہ اسلام آباد کو خودمختار یونٹ بنانے پر نیا ٹیکس لگانے کی تجاویز تیار یمن کے حوثی باغیوں کے سعودی شہروں پر حملے، 73 افراد زخمی ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر نان اسٹاپ اے آئی تصاویر اور ویڈیوز پوسٹ کر ڈالیں

ہندو برادری کے افراد کو داخلے سے روکنے کے الزام مسترد، پاکستان کا دوٹوک موقف

Web Desk

6 November 2025

پاکستان نے ہندو برادری کے افراد کو ملک میں داخلے سے روکنے کے الزامات کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد اور گمراہ کن قرار دیا ہے۔

دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے میڈیا کے سوالات کے جواب میں اپنے تحریری بیان میں کہا کہ “حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔”

ترجمان کے مطابق نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن نے بابا گرو نانک کی سالگرہ کی تقریبات کے موقع پر چار سے 13 نومبر 2025 تک بھارت سے آنے والے 2,400 سے زائد سکھ یاتریوں کو ویزے جاری کیے۔

انہوں نے بتایا کہ چار نومبر کو کل 1,932 یاتری اٹاری واہگہ بارڈر کے ذریعے پاکستان میں داخل ہوئے، تاہم تقریباً 300 ویزا رکھنے والے افراد کو بھارتی حکام نے سرحد عبور کرنے سے روک دیا۔

ترجمان نے واضح کیا کہ پاکستانی امیگریشن کا پورا عمل منظم اور بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل ہوا۔
انہوں نے کہا کہ “چند افراد کے پاس نامکمل دستاویزات تھیں اور وہ امیگریشن حکام کو تسلی بخش جوابات نہ دے سکے، اس لیے انہیں معیاری طریقہ کار کے تحت واپس بھیج دیا گیا۔”

ترجمان دفترِ خارجہ نے اس تاثر کو قطعی طور پر غلط اور بدنیتی پر مبنی قرار دیا کہ ان افراد کو مذہبی بنیادوں پر داخلے سے روکا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ہمیشہ تمام مذاہب کے یاتریوں کو اپنے مقدس مقامات کی زیارت کے لیے خوش آمدید کہتا ہے اور اس مقصد کے لیے آسان اور شفاف نظام قائم ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ اقدام خالصتاً انتظامی نوعیت کا تھا اور پاکستان کو اپنی سرزمین میں داخلے کو کنٹرول کرنے کا خودمختار حق حاصل ہے۔

ترجمان نے اس معاملے کو مذہبی رنگ دینے کی بھارتی کوشش کو افسوس ناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے بھارتی حکومت اور میڈیا کی تعصب زدہ سوچ ظاہر ہوتی ہے جو وقت کے ساتھ مزید بڑھتی جا رہی ہے۔