LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
میئر لندن صادق خان کو ٹیکس کے بغیر گاڑی رکھنے پر جرمانہ عائد پنجاب حکومت کا برتھ اور ڈیتھ کی لیٹ رجسٹریشن کی فیس پر ریلیف ایران نے حملہ کیا تو اسرائیل بھرپور طاقت سے جواب دے گا: اسرائیل کاٹز عظمیٰ بخاری فیک ویڈیو کیس: بیان ریکارڈ، جرح کیلئے 12 ستمبر کی تاریخ مقرر ایران جوہری ہتھیار سے دو ہفتے دور تھا، اس لیے اسے تباہ کردیا، ٹرمپ سعودی آئل ٹینکر پر ایرانی حملے میں عملے کے دو ارکان جاں بحق ہوئے: وزارت خارجہ وزیرِ اعظم شہباز شریف کرغزستان کا کامیاب دورہ مکمل کر کے وطن واپس پہنچ گئے محکمہ موسمیات کی اسلام آباد اور بالائی علاقوں میں 3 سے 6 ستمبر تک موسلا دھار بارشوں اور لینڈ سلائیڈنگ کی پیشگوئی پاکستان اور سعودی عرب کا زرعی برآمدات 3 ارب ڈالر تک بڑھانے پر اتفاق، سعودی وفد کا دورۂ اسلام آباد کا اعلان سی آئی اے چیف سے صدر پوتن کی ملاقات سے انکار کی خبریں بے بنیاد ہیں: کریملن ایرانی پاسداران کے سینئر عہدیدار کی عرب ممالک کو امریکی فوجی انخلاء کی دھمکی اسحاق ڈار کی کرغزستان کے ہم منصب سے ملاقات، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق امریکی حملوں کے جواب میں ایران کی شدید جوابی کارروائی کی دھمکی ایران کوئی بے معنی معاہدہ کر بھی لے تو مجھے کوئی پرواہ نہیں: ٹرمپ پنجاب بھر میں نویں جماعت کے سالانہ امتحانات 2026 کے نتائج کا اعلان

اقوام متحدہ میں انسداد دہشت گردی مباحثہ، بی ایل اے، ٹی ٹی پی کے خطرات پر غور

Web Desk

25 April 2026

اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ انسدادِ دہشت گردی پاکستان کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ اس سلسلے میں پاکستانی مشن نے اقوامِ متحدہ کے دفتر برائے انسدادِ دہشت گردی (UNOCT) کے ساتھ مل کر عالمی ہیڈکوارٹر میں ایک خصوصی تقریب کا انعقاد کیا، جس کا موضوع “دہشت گردی کے نئے اور ابھرتے رجحانات” تھا۔

تقریب کی مشترکہ صدارت سفیر عاصم افتخار اور UNOCT کے قائم مقام انڈر سیکریٹری جنرل الیگزینڈر زویوف نے کی۔ اپنے خطاب میں سفیر عاصم افتخار نے عالمی برادری کی توجہ دہشت گرد گروہوں جیسے ٹی ٹی پی (TTP)، بی ایل اے (BLA) اور داعش خراسان کے بڑھتے ہوئے خطرات کی جانب مبذول کروائی۔ انہوں نے واضح کیا کہ دہشت گرد اب مالی معاونت اور پروپیگنڈے کے لیے سوشل میڈیا، مصنوعی ذہانت (AI) اور کرپٹو کرنسی جیسے جدید ذرائع کا سہارا لے رہے ہیں، جس سے نمٹنے کے لیے عالمی تعاون ناگزیر ہے۔

سیمینار میں چین کے مستقل مندوب فو کونگ سمیت دنیا بھر کے ماہرین نے شرکت کی۔ ماہرین نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ دہشت گردانہ نظریات، نسل پرستی اور اسلامو فوبیا جیسے رجحانات آن لائن نیٹ ورکس کے ذریعے تیزی سے پھیل رہے ہیں۔ مقررین نے ٹیکنالوجی کمپنیوں کی جوابدہی اور سائبر اسپیس میں سرحدوں سے آزاد دہشت گردی کو روکنے کے لیے موثر قانون سازی پر زور دیا۔

قائم مقام انڈر سیکریٹری جنرل الیگزینڈر زویوف نے پاکستان کی ان کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل اثاثوں نے دہشت گردی کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ یہ تقریب ایک ایسے وقت میں منعقد ہوئی ہے جب پاکستان 2025-26 کے لیے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے منتخب رکن کے طور پر عالمی سطح پر امن و امان کے لیے اپنی سفارتی کوششیں تیز کر رہا ہے۔