LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان کا آبنائے ہرمز میں معمول کی بحری نقل و حرکت کی بحالی کا مطالبہ وزیراعظم سے ترک وزیر خارجہ کی ملاقات، طیب اردوان کا اہم پیغام پہنچا دیا ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ملاقات، ایرانی میڈیا ایران سے معاہدہ ہوا تو اسلام آباد جا سکتا ہوں، ڈونلڈ ٹرمپ اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 1ارب 32 کروڑ ڈالر کی کمی ریکارڈ درآمدی گیس بند ہونے سے عارضی لوڈشیڈنگ، بحران جلد حل ہو جائیگا: وزیر توانائی پاکستان اور ترکیہ کے درمیان کمانڈو و سپیشل فورسز مشق ’’جناح XIII کامیابی سے مکمل وزیراعظم دوحہ پہنچ گئے، پرتپاک استقبال، امیرِ قطر سے ملاقات متوقع حج آپریشن 2026 میں بڑی پیش رفت؛ ‘روڈ ٹو مکہ’ پراجیکٹ کے لیے سعودی امیگریشن ٹیم کراچی پہنچ گئی پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی کا اہم کردار ادا کر رہا ہے: دفتر خارجہ معاشی استحکام کی جانب بڑی پیش رفت؛ سعودی عرب نے 2 ارب ڈالر اسٹیٹ بینک کو منتقل کر دیے پاکستان نیوی کا مقامی اینٹی شپ میزائل کا کامیاب تجربہ لبنان اور اسرائیل 34 برس بعد آج براہ راست بات چیت کریں گے: ٹرمپ پاکستان سٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا مثبت زون میں آغاز امریکا کی آبنائے ہرمز میں اشتعال انگیز کارروائیاں، ایران نے نتائج سے خبردار کر دیا

یورپ جانے کی غیرقانونی کوششوں میں 47 فیصد کمی ، محسن نقوی کی یورپی کمشنر سے اہم ملاقات

Web Desk

11 December 2025

برسلز میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور یورپی یونین کی کمشنر برائے داخلی امور و مائیگریشن میگنس برنر کے درمیان اہم ملاقات ہوئی، جس میں غیرقانونی امیگریشن کی روک تھام، انسانی اسمگلنگ کے خلاف اقدامات اور باہمی تعاون کے فروغ پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔

بیان کے مطابق یورپی کمشنر میگنس برنر نے پاکستان سے یورپ کے لیے ڈنکی کے ذریعے غیرقانونی سفر کی کوششوں میں رواں برس 47 فیصد کمی کو سراہتے ہوئے اسے پاکستان کی ایک “مثالی کامیابی” قرار دیا۔

محسن نقوی نے بتایا کہ رواں سال پاکستان میں 1,770 انسانی اسمگلرز اور ان کے ایجنٹس گرفتار کیے گئے، جبکہ ملاقات میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ غیرقانونی امیگریشن، انسانی اسمگلنگ اور منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف مشترکہ حکمت عملی کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔

وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ اسمگلرز، ڈرگ مافیا اور دہشتگردوں کا گٹھ جوڑ ہر ملک کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے، اور اس کا مقابلہ کرنے کے لیے بین الاقوامی سطح پر قریبی تعاون ناگزیر ہے۔