LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ کے 250 ویں یوم آزادی کا کانسرٹ منسوخ کردیا پیپلز پارٹی نے گورنر سندھ کو غیر قانونی معاملات میں رکاوٹ پر ہٹایا: فاروق ستار آئی ایم ایف کا جی ایس ٹی 18 فیصد سے بڑھا کر 19 فیصد کرنے کا مطالبہ حجاج کی وطن واپسی کا آغاز، لاہور کے لیے پہلی پرواز 159 حجاج کو لے کر پہنچ گئی گلگت بلتستان انتخابات، پنجاب پولیس کے 5 ہزار اہلکار تعینات کیے جائیں گے پہلا ون ڈے، پاکستان نے آسٹریلیا کو 5 وکٹ سے ہرا دیا نیویارک حراستی مرکز کے باہر مظاہرے، پولیس اور مظاہرین میں جھڑپیں، آنسو گیس کا استعمال امریکا: میساچوسٹس کے تعلیمی اداروں میں ریچھ داخل، طلبہ کلاس رومز تک محدود رہے پاکستان ون ڈے کرکٹ میں 1000میچ کھیلنے والی تیسری ٹیم بن گئی وزیراعلیٰ نے ستھرا پنجاب ورکرز کیلئے 10ہزار فی کس انعام کا اعلان کیا ہے: مریم اورنگزیب پاکستان ایک مخلص دوست، ایران کے ساتھ اچھی ڈیل ہوگی: امریکی وزیر جنگ جیٹ فیول اور لائٹ ڈیزل آئل کی قیمتوں میں بڑی کمی، نوٹیفکیشن جاری آئی ایم ایف کا گاڑیوں اور سولر پینلز پر سیلز ٹیکس چھوٹ برقرار رکھنے سے انکار پاکستان کی شاندار کامیابی: مسلسل پانچویں سال بھی ایراسمس منڈس اسکالرشپ حاصل کرنے میں دنیا بھر میں پہلے نمبر پر برقرار امریکی صدر کے نام کی شمولیت غیر قانونی قرار: کینیڈی سینٹر بند کرنے کا ٹرمپ انتظامیہ کا فیصلہ امریکی عدالت نے معطل کر دیا

اپوزیشن کا 27ویں آئینی ترمیم پر قائمہ کمیٹی کے اجلاس کا بائیکاٹ کا اعلان

Web Desk

8 November 2025

اپوزیشن جماعتوں نے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر پریس کانفرنس کرتے ہوئے قانون و انصاف کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا اعلان کر دیا۔
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ 27ویں آئینی ترمیم کے مسودے کا سرسری جائزہ لیا ہے، جس میں تقریباً 50 نکات شامل ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ ہمیں کہا گیا کہ آج ہی دوپہر ڈھائی بجے اجلاس میں شریک ہوں، لیکن یہ تمام عمل بغیر تیاری اور خفیہ انداز میں کیا جا رہا ہے۔
علی ظفر نے الزام عائد کیا کہ 1973 کے آئین کو کمزور کرنے اور آئینی ڈھانچے کو تبدیل کرنے کی سازش ہو رہی ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ حکومت نے ترمیم کو جلد بازی میں آگے بڑھانے کی کوشش کی ہے، جو جمہوری اقدار کے منافی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ہم قائمہ کمیٹی کے خصوصی اجلاس میں شریک نہیں ہوں گے بلکہ سینیٹ کے فورم پر اپنی آواز بلند کریں گے۔
پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ ہم کوئی ربڑ اسٹیمپ پارلیمنٹ نہیں ہیں، غلطیوں کی نشاندہی کریں گے اور تحریری اعتراضات پیش کریں گے تاکہ عوام کو معلوم ہو کہ یہ ترمیم کس سمت جا رہی ہے۔