LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
جموں و کشمیرنہ کبھی بھارت کا اٹوٹ انگ تھا، نہ ہے اورنہ ہوگا، پاکستان آن لائن گیمز کے منفی اثرات، برطانیہ پلٹ نوجوان نے لاہور میں بینک لوٹ لیا سعودی عرب کے شہر نجران میں حوثیوں کا داغا گیا میزائل سکول سے ٹکرا گیا آبنائے ہرمز سے باہر نکلنے کے راستے پر گامزن آئل ٹینکر پر میزائل حملہ پاکستان کا غزہ میں عالمی قانون کی پاسداری یقینی بنانے، کشمیریوں کے حق خودارادیت کا اعادہ اب تحمل کی پالیسی مزید برقرار نہیں رکھی جا سکتی، شہزادہ ترکی الفیصل اسلام آباد میں کسی کو بدامنی پھیلانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، سپیکر پنجاب اسمبلی سسٹم ری سیٹ ہونے والا ہے، چیزیں بہت بہتر ہو جائیں گی: محسن نقوی یورپی ممالک بھاری مقدار میں ڈیزل جاری کرنے پر تیار ہوگئے: صدر ٹرمپ کا دعویٰ دوران پرواز کپتان پر حملہ کرنے والا شریک پائلٹ انتہا پسند تھا: امریکی اخبارکا دعویٰ محسن رضائی نے ٹرمپ کے ایران کیخلاف جنگ میں فتح کے دعوؤں کو مسترد کر دیا پاسداران انقلاب کا چابہار بندرگاہ کے قریب مبینہ دہشت گرد سیل تباہ کرنے کا دعویٰ حماس کی مالی معاونت کا الزام: امریکا نے 5 افراد اور اداروں پر پابندیاں عائد کردیں جی سیون ممالک نے ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کیلئے اتفاق کر لیا: فرانسیسی صدر برطانیہ میں ڈیزل کی قیمت میں ریکارڈ اضافہ، 2 پاؤنڈ فی لٹر تک پہنچ گئی

اپوزیشن کا 27ویں آئینی ترمیم پر قائمہ کمیٹی کے اجلاس کا بائیکاٹ کا اعلان

Web Desk

8 November 2025

اپوزیشن جماعتوں نے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر پریس کانفرنس کرتے ہوئے قانون و انصاف کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا اعلان کر دیا۔
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ 27ویں آئینی ترمیم کے مسودے کا سرسری جائزہ لیا ہے، جس میں تقریباً 50 نکات شامل ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ ہمیں کہا گیا کہ آج ہی دوپہر ڈھائی بجے اجلاس میں شریک ہوں، لیکن یہ تمام عمل بغیر تیاری اور خفیہ انداز میں کیا جا رہا ہے۔
علی ظفر نے الزام عائد کیا کہ 1973 کے آئین کو کمزور کرنے اور آئینی ڈھانچے کو تبدیل کرنے کی سازش ہو رہی ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ حکومت نے ترمیم کو جلد بازی میں آگے بڑھانے کی کوشش کی ہے، جو جمہوری اقدار کے منافی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ہم قائمہ کمیٹی کے خصوصی اجلاس میں شریک نہیں ہوں گے بلکہ سینیٹ کے فورم پر اپنی آواز بلند کریں گے۔
پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ ہم کوئی ربڑ اسٹیمپ پارلیمنٹ نہیں ہیں، غلطیوں کی نشاندہی کریں گے اور تحریری اعتراضات پیش کریں گے تاکہ عوام کو معلوم ہو کہ یہ ترمیم کس سمت جا رہی ہے۔