LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
کرپشن، بدعنوانی عروج پر، کے پی میں گورننس نام کی چیز نہیں: عطا تارڑ ’اب بہت ہو گیا، بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کرائی جائے‘؛ اپوزیشن اجلاس اسٹاک مارکیٹ کریش، 100 انڈیکس کی 3700 سے زائد پوائنٹس کی ریکارڈ تنزلی اربوں ڈالر کا سرپلس خسارے میں تبدیل، اپریل میں کرنٹ اکاؤنٹ 32 کروڑ ڈالر منفی ہو گیا، اسٹیٹ بینک گندم اور گیس کی ترسیل پر زیادتی ہو رہی ہے: گورنر، وزیراعلیٰ کے پی پاکستان کی ثالثی میں امریکا کے ساتھ مذاکرات کا عمل آگے بڑھ رہا ہے: ایران وزیرِ اعظم سے نیول چیف کی ملاقات، پاک بحریہ کے پیشہ وارانہ امور پر تبادلہ خیال حافظ نعیم الرحمان کا پٹرولیم لیوی کیخلاف وفاقی آئینی عدالت سے رجوع سی این جی بندش: وزیراعلیٰ کے پی کا وزیراعظم کو فوری گیس بحالی کیلئے خط اماراتی نیوکلیئر پلانٹ پر حملہ خطرناک، جوہری تنصیبات کو نشانہ نہ بنایا جائے: دفتر خارجہ اسحاق ڈار کا قطر کے وزیرِ مملکت خارجہ سے رابطہ، خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال ایران-امریکا کشیدگی اور آئی ایم ایف کی سخت شرائط کا اثر؛اسٹاک ایکسچینج کریش امریکا نے ایران کے لیے امن عمل کی 5 سخت شرائط مقرر کر دیں حکومت کے پہلے 25 ماہ میں وفاقی قرضوں میں 15 ہزار 714 ارب روپے کا ہوشربا اضافہ جنوبی وزیرستان لوئر میں وانا رستم بازار میں بم دھماکہ

اپوزیشن کا 27ویں آئینی ترمیم پر قائمہ کمیٹی کے اجلاس کا بائیکاٹ کا اعلان

Web Desk

8 November 2025

اپوزیشن جماعتوں نے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر پریس کانفرنس کرتے ہوئے قانون و انصاف کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا اعلان کر دیا۔
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ 27ویں آئینی ترمیم کے مسودے کا سرسری جائزہ لیا ہے، جس میں تقریباً 50 نکات شامل ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ ہمیں کہا گیا کہ آج ہی دوپہر ڈھائی بجے اجلاس میں شریک ہوں، لیکن یہ تمام عمل بغیر تیاری اور خفیہ انداز میں کیا جا رہا ہے۔
علی ظفر نے الزام عائد کیا کہ 1973 کے آئین کو کمزور کرنے اور آئینی ڈھانچے کو تبدیل کرنے کی سازش ہو رہی ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ حکومت نے ترمیم کو جلد بازی میں آگے بڑھانے کی کوشش کی ہے، جو جمہوری اقدار کے منافی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ہم قائمہ کمیٹی کے خصوصی اجلاس میں شریک نہیں ہوں گے بلکہ سینیٹ کے فورم پر اپنی آواز بلند کریں گے۔
پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ ہم کوئی ربڑ اسٹیمپ پارلیمنٹ نہیں ہیں، غلطیوں کی نشاندہی کریں گے اور تحریری اعتراضات پیش کریں گے تاکہ عوام کو معلوم ہو کہ یہ ترمیم کس سمت جا رہی ہے۔