LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
مراکش نے 650 میل طویل ساحلی شاہراہ کو ٹرمپ کے نام سے منسوب کردیا تیل تنصیبات پر حملے کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا حق رکھتے ہیں: سعودی عرب حملے عارضی طور پر روکے، مذاکرات ناکام ہوئے تو فوجی کارروائی ہوگی: ٹرمپ دوبارہ اقتدار میں آیا تو قطر کو دشمن ریاست قرار دوں گا: نفتالی بینیٹ حوثیوں کا سعودی خام تیل کے ٹرانسپورٹ انفرااسٹرکچر کو نشانہ بنانے کا دعویٰ ٹرمپ سے ملاقات کے ایجنڈے میں ایران سرفہرست ہوگا، نیتن یاہو غزہ پر تشویش کے باوجود جرمنی کی اسرائیل کو اسلحہ برآمدات میں اضافہ یوکرین نے ایران کی دھمکیاں مسترد کر دیں، روسی جارحیت میں براہِ راست شمولیت کا الزام ایران میں فرانسیسی سفیر کی طلبی، اندرونی معاملات میں مداخلت پر شدید احتجاج سیئٹل فوڈ فیسٹیول میں فائرنگ، ہلاکتیں 3 ہو گئیں، 4 افراد زخمی روس کو ہتھیار دے کر ایران پہلے ہی جنگ میں شامل ہو چکا ہے: زیلنسکی یوکرین بالآخر اپنے مغربی علاقے کھو دے گا: صدر پوتن کا دعویٰ اپر سوات میں غیر معیاری کشتیوں کیخلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ بدخشان میں طالبان مخالف کارروائیاں تیز، مختلف اضلاع میں جھڑپیں، سییورٹی صورتحال کشیدہ امریکی سینیٹر برنی سینڈرز نے غزہ کی صورتحال کا ذمہ دار امریکا کو قرار دیدیا

اپوزیشن کا 27ویں آئینی ترمیم پر قائمہ کمیٹی کے اجلاس کا بائیکاٹ کا اعلان

Web Desk

8 November 2025

اپوزیشن جماعتوں نے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر پریس کانفرنس کرتے ہوئے قانون و انصاف کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا اعلان کر دیا۔
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ 27ویں آئینی ترمیم کے مسودے کا سرسری جائزہ لیا ہے، جس میں تقریباً 50 نکات شامل ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ ہمیں کہا گیا کہ آج ہی دوپہر ڈھائی بجے اجلاس میں شریک ہوں، لیکن یہ تمام عمل بغیر تیاری اور خفیہ انداز میں کیا جا رہا ہے۔
علی ظفر نے الزام عائد کیا کہ 1973 کے آئین کو کمزور کرنے اور آئینی ڈھانچے کو تبدیل کرنے کی سازش ہو رہی ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ حکومت نے ترمیم کو جلد بازی میں آگے بڑھانے کی کوشش کی ہے، جو جمہوری اقدار کے منافی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ہم قائمہ کمیٹی کے خصوصی اجلاس میں شریک نہیں ہوں گے بلکہ سینیٹ کے فورم پر اپنی آواز بلند کریں گے۔
پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ ہم کوئی ربڑ اسٹیمپ پارلیمنٹ نہیں ہیں، غلطیوں کی نشاندہی کریں گے اور تحریری اعتراضات پیش کریں گے تاکہ عوام کو معلوم ہو کہ یہ ترمیم کس سمت جا رہی ہے۔