LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان اور قطرموجودہ کشیدگی کم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں: اسماعیل بقائی عمران خان کی صحت اور جیل ملاقاتوں کی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کی تیاریاں مکمل، پولنگ ڈے کا فیصلہ 20 اگست کو متوقع پٹرولیم لیوی کے خلاف جماعت اسلامی کا دھرنا دوسرے روز میں داخل پشاور ہائیکورٹ کے 4 مستقل ہونے والے ججز نے حلف اٹھا لیا سکیورٹی فورسز کا بلوچستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن، 2 دہشت گرد ہلاک طالبان حکومت خود خطے کو غیر مستحکم کرنے کیلئے پراکسی بن چکی ہے: عاصم افتخار عمرہ زائرین اور ورکرز کیلئے پاکستانی سفارت خانے کی اہم ہدایات وفاقی حکومت کے قرضوں میں 18ہزار ارب روپے سے زائد کا اضافہ آئل ٹینکرز پر حالیہ حملے، آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت میں شدید کمی ٹرمپ کا جنوبی کوریا کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقیں کم کرنے کا اعلان آئرلینڈ میں خوفناک ٹریفک حادثہ، 5 نوجوان ہلاک، 4 افراد زخمی سعودی عرب میں بدھ تک شدید گرمی، درجہ حرارت 50 ڈگری تک پہنچنے کی پیشگوئی عراق میں بس اور ٹرک میں تصادم، 7 سیاح جاں بحق، 23 زخمی آبنائے ہرمز میں تیل کے اخراج سے ماحولیاتی نقصان کھربوں ڈالر ہو سکتا ہے: ایران

اپوزیشن کا 27ویں آئینی ترمیم پر قائمہ کمیٹی کے اجلاس کا بائیکاٹ کا اعلان

Web Desk

8 November 2025

اپوزیشن جماعتوں نے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر پریس کانفرنس کرتے ہوئے قانون و انصاف کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا اعلان کر دیا۔
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ 27ویں آئینی ترمیم کے مسودے کا سرسری جائزہ لیا ہے، جس میں تقریباً 50 نکات شامل ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ ہمیں کہا گیا کہ آج ہی دوپہر ڈھائی بجے اجلاس میں شریک ہوں، لیکن یہ تمام عمل بغیر تیاری اور خفیہ انداز میں کیا جا رہا ہے۔
علی ظفر نے الزام عائد کیا کہ 1973 کے آئین کو کمزور کرنے اور آئینی ڈھانچے کو تبدیل کرنے کی سازش ہو رہی ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ حکومت نے ترمیم کو جلد بازی میں آگے بڑھانے کی کوشش کی ہے، جو جمہوری اقدار کے منافی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ہم قائمہ کمیٹی کے خصوصی اجلاس میں شریک نہیں ہوں گے بلکہ سینیٹ کے فورم پر اپنی آواز بلند کریں گے۔
پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ ہم کوئی ربڑ اسٹیمپ پارلیمنٹ نہیں ہیں، غلطیوں کی نشاندہی کریں گے اور تحریری اعتراضات پیش کریں گے تاکہ عوام کو معلوم ہو کہ یہ ترمیم کس سمت جا رہی ہے۔