LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
ٹرمپ پھر محروم، امن کا نوبیل انعام جنوبی افریقا کی خاتون وکیل کے نام مکہ معاہدہ خطے میں استحکام کی ضمانت، سعودی عرب کا دفاع کیا جائے گا: ترجمان پاک فوج ٹرمپ ایران پر نئے حملوں کے حوالے سے ہچکچاہٹ کا شکار ہیں: نیویارک ٹائمز بچوں کے خون سے سودا کرنے والوں سے کیا مذاکرات کریں: دانیال چودھری پاکستان اور ویٹیکن کا بین المذاہب ہم آہنگی اور پُرامن بقائے باہمی کے فروغ پر اتفاق ماہ ستمبر 2026 کے دوران ملک میں 5 ہزار 241 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ سہیل آفریدی کا شارٹ مارچ دہشتگرد تنظیموں کے حق میں ہے: عظمیٰ بخاری ہر مصیبت برداشت کرنے کو تیار، اصولوں پر سمجھوتا نہیں ہوگا: سلمان اکرم راجہ خلیجی ممالک میں کشیدگی کے باعث فضائی آپریشن ایک بار پھر متاثر پاکستان اور سری لنکا کے درمیان پہلا ٹی 20 میچ آج کھیلا جائے گا علیمہ خان کیخلاف کیس کا فیصلہ پھر مؤخر، سہیل آفریدی کی درخواست پر سماعت ملتوی پاکستان اور بحرین کا تجارت، توانائی اور زراعت میں تعاون بڑھانے پر اتفاق مریم نواز کا پنجاب کے ہر ضلع میں پی ایچ اے قائم کرنے کا فیصلہ شمالی وزیرستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن، فتنہ الخوارج کے 7 دہشت گرد ہلاک وزیراعظم کا مولانا فضل الرحمان سے ٹیلیفونک رابطہ، سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال

لیبیا کشتی حادثہ: جج کی ملزم کی ضمانت کی درخواست پر سماعت سے معذرت

Web Desk

17 August 2026

لاہور ہائیکورٹ میں لیبیا کشتی حادثے کے مقدمے میں گرفتار ملزم شفاقت علی کی بعد از گرفتاری درخواستِ ضمانت پر سماعت کے دوران جسٹس غلام سرور نہنگ نے کیس سننے سے معذرت کر لی ہے اور فائل چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کو ارسال کر دی ہے تاکہ اسے کسی دوسرے بینچ کے سامنے مقرر کیا جا سکے۔ سماعت کے دوران فاضل جج نے واضح کیا کہ چونکہ وہ لیبیا کشتی حادثے کی تحقیقات کے لیے قائم کردہ کمیشن کے رکن کی حیثیت سے فرائض سرانجام دے چکے ہیں، اس لیے اخلاقی و قانونی طور پر مناسب نہیں کہ وہ اسی معاملے سے منسلک درخواستِ ضمانت کی سماعت کریں۔

درخواست گزار کے وکیل نے موقف اپنایا کہ ملزم ایک سال دو ماہ سے جیل میں قید ہے جبکہ اس پر جرم ثابت نہیں ہوا، اور کئی دیگر مقدمات میں اس کی ضمانت بھی منظور ہو چکی ہے؛ لہٰذا ٹرائل کورٹ کا فیصلہ آنے تک اسے ضمانت پر رہا کیا جائے۔ دوسری جانب سرکاری وکیل نے شدید مخالفت کرتے ہوئے بتایا کہ ملزم کے خلاف ایف آئی اے منڈی بہاؤالدین میں انسانی اسمگلنگ کے 30 مقدمات درج ہیں، اور اس پر لیبیا کے ذریعے نوجوانوں کو غیر قانونی طور پر یورپ بھیجنے والی اسی تباہ کن کشتی میں سوار کروانے کا سنگین الزام ہے جس میں متعدد پاکستانی جاں بحق ہوئے تھے۔ سرکاری وکیل نے استدعا کی کہ ملزم کسی رعایت کا مستحق نہیں، جس کے بعد عدالت نے کیس کی فائل چیف جسٹس کو بھجوا دی۔