LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان، سعودی عرب کا زرعی و غذائی برآمدات 3 ارب ڈالر تک بڑھانے کا عزم دادو کے کچے علاقے میں دو گروہوں میں فائرنگ کا تبادلہ، 8 افراد ہلاک کال سینٹر کے ذریعے غیر اخلاقی مواد کی فروخت: ایف آئی اے نے مزید 20 چینی شہریوں کو پاکستان بدر کر دیا پاکستان، ترکیہ اور سعودیہ مشترکہ سلامتی و اجتماعی دفاع کیلئے متحد ہیں: وزیراعظم وزیراعظم آزاد کشمیر کا انٹرنیٹ اور داخلی و خارجی راستے بحال کرنے کا اعلان امریکا کے وعدے پورے ہونے تک آبنائے ہرمز نہیں کھلے گی: ایران چین کی معروف کمپنی کا پنجاب کے آئی ٹی سیکٹر میں اظہار دلچسپی نیپال میں سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد 734 ہو گئی، 2,498 افراد لاپتہ شمالی کوریا کی فوجی کمان میں بڑی تبدیلی، وزیرِ دفاع سمیت کئی عہدیدار برطرف پاکستان اور ازبکستان کا اقتصادی روابط مزید مضبوط بنانے پر اتفاق اسلام آباد یادداشت پر عملدرآمد سے مشکلات پر قابو پا سکتے ہیں: ایرانی صدر جماعت اسلامی کے دھرنوں کے 2 ہفتے مکمل، آج راولپنڈی میں تاریخی جلسے کا اعلان بانی پی ٹی آئی کی بہن بتا چکی عمران خان بالکل فٹ ہیں، وزیر دفاع پمز سانحہ: بچوں کو بچانے کی کوششیں ثابت، 9 صفحات پر مشتمل رپورٹ جاری امریکا میڈیا کے ذریعے توانائی مارکیٹ میں ہیرا پھیری کر رہا ہے، عباس عراقچی

امریکی صدر کی طرف سے ایرانی تجاویز مسترد کرنے پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ

Web Desk

11 May 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے ایرانی تجاویز مسترد کیے جانے کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اچانک اضافہ ہو گیا ہے۔ برطانوی خام تیل (برینٹ کروڈ) کی قیمت 4 فیصد اضافے کے ساتھ 105 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے، جبکہ امریکی خام تیل کی قیمت بھی 4 فیصد اضافے کے بعد 100 ڈالر فی بیرل کی سطح کو چھو رہی ہے۔

متحدہ عرب امارات کے مربن کروڈ کی قیمت میں 2 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد یہ 99 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہوا، جبکہ قدرتی گیس کی قیمتوں میں بھی 2 فیصد تک اضافہ دیکھا گیا ہے۔ یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب صدر ٹرمپ نے جنگ کے خاتمے کے لیے امریکی منصوبے پر ایران کے جواب کو ناقابل قبول قرار دے کر مسترد کر دیا۔

صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر سخت ردعمل دیتے ہوئے لکھا کہ انہوں نے ایران کے نام نہاد نمائندوں کی جانب سے دیا گیا جواب پڑھا ہے جو انہیں بالکل پسند نہیں آیا۔ انہوں نے اسے مکمل طور پر ناقابل قبول قرار دیا، جس کے بعد مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھنے کے خدشات کے پیش نظر عالمی توانائی مارکیٹ میں ہلچل مچ گئی ہے۔