LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
بھارت سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی، دہشتگردی کی سرپرستی کررہا ہے: پاکستان پنجاب میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع، ڈرون اُڑانے پر پابندی برقرار مون سون بارشوں کے باعث پنجاب کے دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں اضافہ روس کی ایران کو امریکی اہداف کی نشاندہی میں معاونت پر امریکا کی تحقیقات پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کے آغاز پر مثبت رجحان بھارت سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی، دہشتگردی کی سرپرستی کررہا ہے: پاکستان یمنی حوثیوں کا بحری ناکہ بندی کی خلاف ورزی پر سعودیہ کے 2 آئل ٹینکرز پر حملہ افغان طالبان رجیم کے زیر تسلط افغانستان ناکام ریاست، بھارتی تھنک ٹینک بھی بول اٹھ بھارتی پولیس کی بربریت کے باوجود مختلف شہروں میں نوجوانوں کا احتجاج جاری بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا نیویارک میں ICNA Relief کے سالانہ ‘بیک ٹو اسکول’ پروگرام کی افتتاحی تقریب۔ امریکی گرین کارڈ: اگست 2026 کے ویزا بلیٹن میں فیملی ویزا درخواست گزاروں کے لیے بڑی پیش رفت وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی آئی ایم ایف کی اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں، اقتصادی اصلاحات پر اطمینان کا اظہار ایف بی آئی کی بڑی کامیابی: 54 ارب روپے کے میڈیکئیر اسکینڈل کا مرکزی ملزم مشرقِ وسطیٰ سے گرفتار مشرق وسطیٰ میں حالات کشیدہ، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ

افغان طالبان رجیم کے زیر تسلط افغانستان ناکام ریاست، بھارتی تھنک ٹینک بھی بول اٹھ

Web Desk

23 July 2026

ابزرور ریسرچ فاؤنڈیشن (ORF) نے اپنی تازہ رپورٹ میں طالبان رجیم کے تحت افغانستان میں تیزی سے بگڑتی ہوئی انسانی صورتحال اور خطے میں بڑھتے ہوئے سکیورٹی خدشات پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

تھنک ٹینک کے مطابق مارچ 2026 میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے افغانستان کو غیر قانونی حراستوں کی سرپرستی کرنے والا ملک قرار دیا تھا، جبکہ دسمبر 2025 میں آسٹریلیا نے طالبان کے تین وزراء اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس پر سخت سفری اور مالی پابندیاں عائد کی تھیں۔ رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے ملک میں انسانی حقوق بالخصوص خواتین کی تعلیم پر پابندی، اقلیتوں اور سابق حکومتی اہلکاروں پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔

رپورٹ کے مطابق افغانستان کے سالانہ بجٹ اور اخراجات کا نظام انتہائی غیر شفاف ہے، جہاں دیگر اہم شعبوں کا فنڈز بھی اسلحے کی خریداری کے لیے مختص کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ القاعدہ سمیت دیگر کالعدم تنظیموں کی موجودگی خطے کے لیے مسلسل خطرہ بنی ہوئی ہے۔ سابق امریکی سفارت کار اور ماہرِ امورِ افغانستان ینی فورزہائمر نے بھی مؤقف اختیار کیا ہے کہ انسانی حقوق اور میڈیا کی خلاف ورزیوں کے ساتھ ساتھ طالبان کی جانب سے دہشت گرد گروہوں کو پناہ دینا ایک انتہائی سنگین مسئلہ ہے، جو ملک کو مزید تباہی کی جانب دھکیل رہا ہے۔