LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
جماعت اسلامی کی آزاد کشمیر میں حکومت اور عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان ثالثی کی پیشکش فیفا ورلڈ کپ: آسٹریلیا نے ترکیہ کو 2 صفر سے شکست دے دی واشنگٹن میں امریکی لڑاکا طیارہ تباہ، پائلٹ محفوظ رہا امریکا ایران معاہدے کی امید، عالمی منڈی میں خام تیل مزید سستا فٹ بال ورلڈ کپ: قطر اور سوئٹزر لینڈ کا میچ ایک، ایک گول سے برابر ایران سے معاہدہ کل دستخط کے لیے تیار ہے، آبنائے ہرمز سب کے لیے کھول دی جائے گی: ڈونلڈ ٹرمپ امریکا کے ساتھ معاہدے پر اتوار کو دستخط نہیں ہوں گے، ایران دھمکیوں، دباؤ اور منفی پروپیگنڈے سے نہیں ڈریں گے، مومنہ اقبال بجٹ میں نئے ٹیکس اقدامات، متعدد روزمرہ اشیاء مہنگی ہونے کا امکان صورتحال اچھی نہیں، امتحان سے گزر رہے ہیں: وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل راٹھور صرف اپنے لیے کھیلنے والوں کی قومی ٹیم میں کوئی جگہ نہیں، محسن نقوی کا دوٹوک مؤقف سپریم کورٹ آف پاکستان کے لیے نئے وفاقی بجٹ میں ساڑھے 7 ارب روپے کے قریب رقم مختص برآمدات میں اضافہ اور ٹیکس اصلاحات حکومت کی ترجیح ہیں، وزیر خزانہ وزیراعظم بتائیں عمران خان سے ملاقات کیوں نہیں ہورہی؟ خدا کے لیے فوج کے نام پر سیاست بند کریں؛بیرسٹر گوہر بھارتی ایئرفورس کا ایک اور جنگی طیارہ حادثے کا شکار

پاکستان اور افغانستان کے درمیان مذاکرات کا اگلا دور کل استنبول میں ہوگا

Web Desk

5 November 2025

 

پاکستان اور افغانستان کے درمیان اعتماد سازی کے لیے اہم مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے، جس کا اگلا دور کل استنبول میں متوقع ہے۔

ان مذاکرات میں پاکستان کی جانب سے افغان سرزمین سے دہشت گردی کے خاتمے کا معاملہ مرکزی ایجنڈا ہوگا۔ذرائع کے مطابق وزیرِ دفاع خواجہ آصف کی ترکی روانگی سینئر افغان قیادت کی موجودگی سے مشروط کی گئی ہے، جبکہ اس بار مذاکرات میں قومی سلامتی کے مشیر کی شرکت بھی متوقع ہے۔باخبر ذرائع کے مطابق پاکستانی وفد کی قیادت کا فیصلہ افغان وفد کی سطح دیکھ کر کیا جائے گا۔ اسلام آباد نے واضح پیغام دیا ہے کہ افغان سرزمین سے پاکستان پر دہشت گرد حملے بند کرانے پر مکمل توجہ دی جائے گی۔پاکستانی حکام نے کابل کو دو ٹوک مؤقف دیا ہے کہ دہشت گرد گروہوں کے خلاف عملی اقدامات ناگزیر ہیں اور اسلام آباد کے مطالبات میں کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی۔سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ مذاکرات اعتماد سازی کی آخری کوشش قرار دیے جا رہے ہیں، اور پاکستان چاہتا ہے کہ افغانستان دہشت گردی کے خلاف مؤثر اور قابلِ تصدیق اقدامات کرے تاکہ خطے میں پائیدار امن و استحکام ممکن ہو سکے۔