LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا، حکومت نے ریلیف سے قبل قیمتیں آسمان پر پہنچا دیں پمز ایم سی ایچ سے نومولود چوری کی کوشش ناکام، دو خواتین اور لڑکی گرفتار پٹرولیم لیوی کے خاتمے تک احتجاج جاری رہے گا: حافظ نعیم الرحمان انڈونیشین نیوی کے سربراہ کی نیول چیف سے ملاقات، دوطرفہ تعاون بڑھانے کا عزم ملائیشین وزیراعظم سے من گھڑت بیانیہ نکلوانے کی بھارتی کوشش ناکام، انٹرویو پھر سرخیوں میں اسحاق ڈار سے لبنانی وزیر داخلہ کی ملاقات ہوئی، تمام شعبوں میں تعاون پر اتفاق پٹرولیم قیمتوں میں ریلیف، حکومت اور جماعت اسلامی میں اہم ملاقات خیبرپختونخوا دو دن سے لاوارث، سہیل آفریدی سیر سپاٹے کر رہے ہیں: عظمیٰ بخاری سینیٹ کمیٹی میں ایم ڈی کیٹ اور میڈیکل داخلہ نظام میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کی سفارشات افغان میڈیکل طلبہ کی پاکستان میں تعلیم جاری رکھنے کی درخواست پر فیصلہ جاری پٹرولیم مصنوعات پر لیوی ختم کی جائے، حکومت ہوش کے ناخن لے: شرجیل میمن امریکا خلا میں فوجی طاقت بڑھانے کا سلسلہ بند کرے، چین کا مطالبہ باب المندب کی بندش پوری دنیا کیلئے تباہ کن ہوگی: قطر کا اظہارِ تشویش ازبکستان کا 10 رکنی میڈیا وفد 7 روزہ دورے پر پاکستان پہنچ گیا حکومت ریلیف کا ڈرامہ بند اور پٹرولیم لیوی کا بھتہ ختم کرے: حافظ نعیم

پاکستان اور افغانستان کے درمیان مذاکرات کا اگلا دور کل استنبول میں ہوگا

Web Desk

5 November 2025

 

پاکستان اور افغانستان کے درمیان اعتماد سازی کے لیے اہم مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے، جس کا اگلا دور کل استنبول میں متوقع ہے۔

ان مذاکرات میں پاکستان کی جانب سے افغان سرزمین سے دہشت گردی کے خاتمے کا معاملہ مرکزی ایجنڈا ہوگا۔ذرائع کے مطابق وزیرِ دفاع خواجہ آصف کی ترکی روانگی سینئر افغان قیادت کی موجودگی سے مشروط کی گئی ہے، جبکہ اس بار مذاکرات میں قومی سلامتی کے مشیر کی شرکت بھی متوقع ہے۔باخبر ذرائع کے مطابق پاکستانی وفد کی قیادت کا فیصلہ افغان وفد کی سطح دیکھ کر کیا جائے گا۔ اسلام آباد نے واضح پیغام دیا ہے کہ افغان سرزمین سے پاکستان پر دہشت گرد حملے بند کرانے پر مکمل توجہ دی جائے گی۔پاکستانی حکام نے کابل کو دو ٹوک مؤقف دیا ہے کہ دہشت گرد گروہوں کے خلاف عملی اقدامات ناگزیر ہیں اور اسلام آباد کے مطالبات میں کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی۔سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ مذاکرات اعتماد سازی کی آخری کوشش قرار دیے جا رہے ہیں، اور پاکستان چاہتا ہے کہ افغانستان دہشت گردی کے خلاف مؤثر اور قابلِ تصدیق اقدامات کرے تاکہ خطے میں پائیدار امن و استحکام ممکن ہو سکے۔