LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا؛ سپریم کورٹ نے’چرسیوں‘ کو اسلحہ رکھنے کی اجازت دیدی امریکی فوج نے ایران کی بحری ناکہ بندی ختم کردی مغرب میں جمہوریت اور مشرق میں کمیونزم ناکام، حل اسلامی نظام میں ہے: مولانا فضل الرحمٰن وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کا تاریخی ٹیلیفونک رابطہ وزیراعظم نے کفایت شعاری اقدامات میں توسیع کی منظوری دے دی فیلڈ مارشل سے گھانا کے چیف آف ڈیفنس سٹاف کی ملاقات، عسکری تعاون بڑھانے پر اتفاق وزیر اعظم شہباز شریف نے دورہ سوئٹزرلینڈ منسوخ کردیا سہیل آفریدی کی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی درخواست سننے والا سنگل بنچ تحلیل اسحاق ڈار سے بحرینی ہم منصب کا رابطہ، اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر تبادلہ خیال جنگ سے بہتر بات چیت ہوتی ہے: بلاول بھٹو زرداری اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کی وزیر دفاع خواجہ آصف سے ملاقات امریکا ایران مفاہمت کا خیر مقدم، پاکستان نے تاریخی کردار ادا کیا: صدر آصف زرداری پنجاب میں ذاتی جہاز کے لیے پیسے ہیں بنیادی ضروریات کے لیے نہیں ہیں,شہریار آفریدی بانی پی ٹی آئی کی شفا اسپتال منتقلی اور معالج تک رسائی کا کیس وکالت نامہ نہ ہونےسماعت ملتوی ملاقاتوں پر پابندی:سپریم کورٹ کا ہوم سیکریٹری پنجاب اور سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو نوٹس جاری

شمالی امریکا کا سب سے بڑا مسافر ریل نظام ہڑتال کے باعث بند، لاکھوں مسافر پریشان

Web Desk

17 May 2026

شمالی امریکا کا سب سے بڑا روزانہ مسافروں کو سفر کی سہولت فراہم کرنے والا ریل نظام مزدوروں کی ہڑتال کے باعث مکمل طور پر بند ہو گیا، جس کے بعد لاکھوں شہریوں کو شدید سفری مشکلات کا سامنا ہے۔

نیویارک اور اس کے مشرقی مضافاتی علاقوں کو ملانے والی لانگ آئی لینڈ ریل روڈ کی سروس ہفتہ کی رات 12 بجے کے بعد معطل کر دی گئی، جب 5 مزدور تنظیموں سے وابستہ ملازمین نے 3 دہائیوں بعد پہلی بار کام چھوڑ دیا۔

ریلوے انتظامیہ اور مزدور تنظیموں کے درمیان کئی ماہ سے نئے معاہدے پر مذاکرات جاری تھے، تاہم تنخواہوں اور طبی اخراجات سے متعلق معاملات پر اتفاق نہ ہو سکا۔

مزدور رہنما کیون سیکسٹن کا کہنا ہے کہ فریقین کے درمیان اختلافات اب بھی بہت زیادہ ہیں اور فی الحال مزید مذاکرات طے نہیں پا سکے۔

دوسری جانب میٹروپولیٹن ٹرانسپورٹ اتھارٹی کے سربراہ جینو لیبر نے دعویٰ کیا کہ انتظامیہ نے تنخواہوں سے متعلق یونین کے مطالبات تسلیم کیے، مگر اس کے باوجود مزدور پہلے ہی ہڑتال کا فیصلہ کر چکے تھے۔

یہ ہڑتال 1994 کے بعد لانگ آئی لینڈ ریل روڈ کی پہلی بڑی ہڑتال ہے، جس کے باعث نیویارک میں کھیلوں کے مقابلے دیکھنے والے شائقین اور روزانہ سفر کرنے والے لاکھوں افراد شدید متاثر ہو سکتے ہیں۔

ریلوے اسٹیشنوں پر معمول کا رش ختم ہو گیا جبکہ پلیٹ فارم بند کر دیے گئے اور مسافروں کو متبادل سفری ذرائع استعمال کرنے کی ہدایت کی گئی۔

اگر ہڑتال ورکنگ دنوں تک جاری رہی تو روزانہ سفر کرنے والے تقریباً ڈھائی لاکھ افراد کو شدید مشکلات پیش آئیں گی اور شاہراہوں پر ٹریفک کا دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے۔

نیویارک کی گورنر کیتھی ہوکل نے ہڑتال کی ذمہ داری سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ پر عائد کی، جبکہ ٹرمپ نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے معاملے کو ریاستی حکومت کی ناکامی قرار دیا۔

مزدور تنظیموں کا مؤقف ہے کہ مہنگائی اور بڑھتی ہوئی زندگی کے اخراجات کے باعث ملازمین کیلئے بہتر تنخواہیں ناگزیر ہیں۔