LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ٹرمپ نے جنگ بندی میں توسیع صرف3سے 5روزکےلیے کی، جلد ڈیل چاہتےہیں، امریکی میڈیا اگلے 36سے 72گھنٹوں میں پاکستان میں امریکا ایران مذاکرات ممکن ہیں،ٹرمپ سفارتی میدان میں ہونے والی پیش رفت پر نظررکھے ہوئے ہیں، ایرانی وزارت خارجہ آبنائے ہرمزکے قریب 3بحری جہازوں پر فائرنگ، 2جہازایرانی تحویل میں وزیرِ اعظم شہباز شریف سے ایرانی سفیر کی ملاقات: علاقائی امن اور دوطرفہ تعاون پر اہم گفتگو برطانیہ کی امریکہ ایران مذاکرات میں پاکستان کے ثالثی کردار کی حمایت، اسحاق ڈار اور برطانوی ہائی کمشنر کی ملاقات حکومت اور آئی ایم ایف میں نئی آٹو پالیسی پر اتفاق، ڈیوٹیز میں کمی کا فیصلہ پہلگام واقعہ کے ایک سال بعد بھی بھارت شواہد پیش نہ کر سکا: عطاء اللہ تارڑ ایران جنگ کی مخالفت: ایرانی نژاد امریکی رکن کانگریس یاسمین انصاری کو دھمکیاں زمین کے قدرتی وسائل انسانی زندگی کی بقا کیلئے ناگزیر ہیں: وزیراعظم جنگ کیلئے تیار، جنگ بندی کے دوران صلاحیتیں مزید بہتر بنا رہے ہیں: سینٹ کام ایران سے حقائق پر بات کرنے کے بجائے اسے ٹرخایا گیا، دھمکیاں بھی دی گئیں: روس اقوام متحدہ کا جنگ بندی میں توسیع کا خیر مقدم، پاکستانی کوششوں کی مکمل حمایت امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا دورہ پاکستان منسوخ، وائٹ ہاؤس نے تصدیق کردی ایران نے مذاکرات کے حوالے سے امریکہ کی  شرائط مسترد کردیں: ایرانی سرکاری میڈیا

نیدرلینڈز کا سندھ میں زراعت، لائیو اسٹاک سیکٹر میں سرمایہ کاری میں دلچسپی کا اظہار

Web Desk

26 November 2025

کراچی: نیدرلینڈز نے سندھ میں جدید زراعت، آبپاشی، فلڈ مینجمنٹ اور لائیو اسٹاک کے شعبوں میں سرمایہ کاری بڑھانے کی دلچسپی ظاہر کی ہے۔ وزیر آبپاشی سندھ جام خان شورو اور سیکریٹری آبپاشی ظریف کھیڑو سے نیدرلینڈز کے ڈپٹی ہیڈ آف مشن ہاجو پرووو کلوئٹ کی ملاقات ہوئی جس میں دو طرفہ تعاون بڑھانے کے امور پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

ملاقات میں بتایا گیا کہ سندھ ڈیلٹا کا رقبہ 36 فیصد رہ گیا ہے جبکہ سِلٹ کی کمی کے باعث زمین اور ماہی گیری شدید متاثر ہو رہی ہے۔ جام خان شورو نے پانی کے دباؤ، سمندری مداخلت اور سیلابی خطرات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سندھ کو سب سے بڑا خدشہ سیلاب سے ہے، اس لیے فلڈ مینجمنٹ سسٹم کو جدید سائنسی بنیادوں پر ری ڈیزائن کرنے کی ضرورت ہے۔

ملاقات میں ایل بی او ڈی اور آر بی او ڈی کی ناکافی ڈرینیج صلاحیت پر بھی تحفظات کا اظہار کیا گیا، جبکہ ڈیلٹا کی بحالی اور آبپاشی کے ماحولیاتی اثرات پر مشترکہ رپورٹ تیار کرنے پر اتفاق ہوا۔

لائیو اسٹاک سیکٹر سے متعلق بریفنگ میں بتایا گیا کہ ڈچ ٹیکنالوجی سے سندھ میں 7 سے 8 لاکھ مویشیوں کی افزائش اور بہتر نسل ممکن ہے۔ ملک میں فی الوقت صرف دو سیمین پراسیسنگ پلانٹس موجود ہیں، مزید پلانٹس کے قیام سے درآمدی انحصار کم کیا جا سکتا ہے۔ ملاقات میں وندر/وہاڑی میں پاسچرائزنگ پلانٹ کے قیام کی تجویز بھی زیر غور آئی۔

ڈپٹی ہیڈ آف مشن نے کہا کہ ڈچ کمپنیاں سندھ کے زرعی ڈھانچے، پانی کے انتظام، لائیو اسٹاک اور فوڈ پراسیسنگ سیکٹر میں سرمایہ کاری کیلئے تیار ہیں۔ ملاقات میں ڈچ کمپنیوں کے ساتھ ورکنگ گروپ تشکیل دینے یا ایم او یو پر دستخط کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔