LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
آزاد کشمیراسمبلی: طارق فاروق سپیکر، احمد رضا قادری ڈپٹی سپیکر منتخب، حلف اٹھا لیا محسن نقوی سے امریکی سفیر کی ملاقات، خطے کی صورتحال پر گفتگو بانی پی ٹی آئی کی رہائی عدالتوں کے ذریعے ہی ہوگی، ججز کے فیصلوں سے امید پیدا ہوئی: علیمہ خان فیلڈ مارشل کا دورہ کامیاب، نتائج جلد سامنے آنا شروع ہو جائیں گے: ایرانی صدارتی دفتر حکومت نے خلوص نیت سے سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل کیا: رانا ثناء اللہ 27 اگست سے مون سون بارشوں کے نئے سلسلے کی پیشگوئی بانی کی ہسپتال منتقلی کا معاملہ، پی ٹی آئی کی توہین عدالت کی درخواست پر اعتراضات دور عمران خان کا علاج: جمائما کی جانب سے برطانوی وزیراعظم اور وزیر خارجہ سے مداخلت کی درخواست غیرت کے نام پر قتل کے مقدمے میں راضی نامہ بھی ملزم کو ضمانت کا حق نہیں دیتا: عدالت امریکا کا H-1B ویزا کیپ پٹیشنز پر ایک لاکھ ڈالر سے زائد فیس عائد کرنے کی تجویز کا اعلان عائشہ وہاب نے امریکی ایوانِ نمائندگان کی نشست جیت لی، کانگریس کا حصہ بننے والی پہلی افغان امریکی خاتون میر رضا علی خان کیس: سندھ ہائیکورٹ کا تحریری حکم نامہ، JIT تشکیل دینے کے حوالے سے قانونی سوالات پر جواب طلب سینیٹ اجلاس: 2025 کے سیلاب سے معیشت کو 853 ارب روپے کا نقصان ہوا، PM آفس کا تحریری جواب ایران سے مذاکرات میں اہم پیشرفت ہوئی، دیرپا امن کی راہ ہموار ہوگی: محسن نقوی پاکستان خطے میں کشیدگی کے خاتمے کیلئے کوششیں کر رہا ہے: اسماعیل بقائی

نیدرلینڈز کا سندھ میں زراعت، لائیو اسٹاک سیکٹر میں سرمایہ کاری میں دلچسپی کا اظہار

Web Desk

26 November 2025

کراچی: نیدرلینڈز نے سندھ میں جدید زراعت، آبپاشی، فلڈ مینجمنٹ اور لائیو اسٹاک کے شعبوں میں سرمایہ کاری بڑھانے کی دلچسپی ظاہر کی ہے۔ وزیر آبپاشی سندھ جام خان شورو اور سیکریٹری آبپاشی ظریف کھیڑو سے نیدرلینڈز کے ڈپٹی ہیڈ آف مشن ہاجو پرووو کلوئٹ کی ملاقات ہوئی جس میں دو طرفہ تعاون بڑھانے کے امور پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

ملاقات میں بتایا گیا کہ سندھ ڈیلٹا کا رقبہ 36 فیصد رہ گیا ہے جبکہ سِلٹ کی کمی کے باعث زمین اور ماہی گیری شدید متاثر ہو رہی ہے۔ جام خان شورو نے پانی کے دباؤ، سمندری مداخلت اور سیلابی خطرات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سندھ کو سب سے بڑا خدشہ سیلاب سے ہے، اس لیے فلڈ مینجمنٹ سسٹم کو جدید سائنسی بنیادوں پر ری ڈیزائن کرنے کی ضرورت ہے۔

ملاقات میں ایل بی او ڈی اور آر بی او ڈی کی ناکافی ڈرینیج صلاحیت پر بھی تحفظات کا اظہار کیا گیا، جبکہ ڈیلٹا کی بحالی اور آبپاشی کے ماحولیاتی اثرات پر مشترکہ رپورٹ تیار کرنے پر اتفاق ہوا۔

لائیو اسٹاک سیکٹر سے متعلق بریفنگ میں بتایا گیا کہ ڈچ ٹیکنالوجی سے سندھ میں 7 سے 8 لاکھ مویشیوں کی افزائش اور بہتر نسل ممکن ہے۔ ملک میں فی الوقت صرف دو سیمین پراسیسنگ پلانٹس موجود ہیں، مزید پلانٹس کے قیام سے درآمدی انحصار کم کیا جا سکتا ہے۔ ملاقات میں وندر/وہاڑی میں پاسچرائزنگ پلانٹ کے قیام کی تجویز بھی زیر غور آئی۔

ڈپٹی ہیڈ آف مشن نے کہا کہ ڈچ کمپنیاں سندھ کے زرعی ڈھانچے، پانی کے انتظام، لائیو اسٹاک اور فوڈ پراسیسنگ سیکٹر میں سرمایہ کاری کیلئے تیار ہیں۔ ملاقات میں ڈچ کمپنیوں کے ساتھ ورکنگ گروپ تشکیل دینے یا ایم او یو پر دستخط کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔