LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان کا خطے میں کشیدگی پر اظہار تشویش، فریقین سے وعدوں کی پاسداری کی اپیل آبنائے ہرمز مکمل بند، جہازرانوں کو اگلے نوٹس تک سفر نہ کرنے کی ہدایت وزیراعظم شہباز شریف کی کل قطر روانگی متوقع بنگلادیش میں طوفانی بارشوں کے باعث 44 افراد ہلاک،متعدد لاپتہ جماعت اسلامی کا آزاد کشمیر میں قیام امن کیلئے گرینڈ جرگہ تشکیل دینے کا فیصلہ قطر نے سمندری سرگرمیاں غیر معینہ مدت تک معطل کر دیں، ایرانی حملوں کی شدید مذمت نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی کی ملاقات قطر میں سوگ کی فضا، سابق امیر شیخ حمد بن خلیفہ الثانی انتقال کر گئے امریکی حملوں کے ردعمل میں ایران کے خلیجی ممالک پر جوابی میزائل حملے، آبنائے ہرمز تاحکم ثانی بند ڈیرہ غازی خان: قبائلی علاقے میں 11 سالہ لڑکی مبینہ طور پر فروخت کر دی گئی امریکا میں تارکین وطن کے ’ورک پرمٹ‘ سے متعلق اہم خبر سامنے آگئی امریکی اہلکار عمان میں ایرانی حکام سے ذاتی حیثیت میں بات چیت میں شریک نہیں ہوں گے: روسی میڈیا امریکی صدر کی نائب صدر اور وزیرخارجہ کو عمان میں مذاکرات جاری رکھنے کی ہدایت ایران کے پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمز بند کردی: خبرایجنسی ایران کے مختلف شہروں میں دھماکوں کی آوازیں

قومی اسمبلی: 29 وزارتوں اور ڈویژنوں کے 40 کھرب 48 ارب کے 89 مطالبات زر منظور

Web Desk

21 June 2026

قومی اسمبلی نے وفاقی بجٹ 2026-27 کی منظوری کے دوسرے مرحلے میں مختلف وزارتوں اور ڈویژنوں کے مطالباتِ زر کی کثرتِ رائے سے منظوری دے دی ہے۔ یہ اہم اجلاس اسپیکر سردار ایاز صادق کی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے ایوان کے سامنے باقاعدہ مطالباتِ زر پیش کیے۔

ایوان کی جانب سے کثرتِ رائے سے منظور کیے گئے اہم ترین مطالباتِ زر کی تفصیلات درج ذیل ہیں:

  • دفاع اور توانائی: دفاع اور دفاع ڈویژن کے لیے 30 کھرب 67 ارب 23 کروڑ روپے سے زائد کے 5 مطالباتِ زر منظور کیے گئے، جبکہ شعبہ دفاع کے لیے الگ سے 17 ارب روپے کی منظوری دی گئی۔ اس کے علاوہ دفاعی پیداوار ڈویژن کے لیے 2 ارب 11 کروڑ روپے سے زائد کے 2 مطالباتِ زر پاس ہوئے۔ ایٹمی توانائی کے شعبے کے لیے 22 ارب روپے اور پاکستان نیوکلیئر ریگولیٹری اتھارٹی کے لیے 2 ارب 35 کروڑ روپے کا مطالبہ زر منظور ہوا۔

  • مواصلات، ہاؤسنگ اور انفراسٹرکچر: مواصلات ڈویژن کے لیے 1 کھرب 25 ارب روپے سے زائد کے 5 مطالباتِ زر منظور ہوئے، جبکہ شعبہ مواصلات کے لیے 35 کروڑ اور 36 ارب روپے سے زائد کے دو الگ مطالباتِ زر بھی پاس کیے گئے۔ ہاؤسنگ و تعمیرات ڈویژن کے لیے 22 ارب 31 کروڑ روپے کے 4 مطالبات اور نیا پاکستان ہاؤسنگ ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے لیے 14 کروڑ روپے کی منظوری دی گئی۔ پاکستان پوسٹ آفس ڈیپارٹمنٹ کے لیے 25 ارب روپے کا مطالبہ زر منظور ہوا۔

  • تعلیم، صحت اور داخلہ: وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کے لیے 1 کھرب 21 ارب 26 کروڑ روپے سے زائد کے 9 مطالباتِ زر کی کثرتِ رائے سے منظوری دی گئی۔ وزارتِ قومی صحت کے لیے 53 ارب 28 کروڑ روپے سے زائد کے 2 اور داخلہ ڈویژن و اس کے ذیلی اداروں کے لیے 45 ارب 4 کروڑ روپے سے زائد کے 2 مطالباتِ زر منظور ہوئے۔

  • خارجہ، انفارمیشن اور دیگر شعبے: خارجہ امور ڈویژن کے لیے 68 ارب 17 کروڑ روپے منظور کیے گئے۔ کامرس ڈویژن کے لیے 27 ارب 99 کروڑ روپے سے زائد کے 2، انفارمیشن ٹیکنالوجی کے لیے 42 ارب 7 کروڑ روپے سے زائد کے 2، اور اطلاعات و نشریات ڈویژن کے لیے 27 ارب 57 کروڑ روپے سے زائد کے 3 مطالباتِ زر منظور ہوئے۔ قانون و انصاف ڈویژن کے لیے 24 ارب 91 کروڑ روپے کے 7 مطالباتِ زر پاس کیے گئے۔

  • ترقیاتی، صوبائی اور پارلیمانی امور: وزارتِ منصوبہ بندی ڈویژن کے لیے 37 ارب 21 کروڑ روپے سے زائد کے 2، اکنامک افیئر ڈویژن کے لیے 15 ارب 1 کروڑ روپے کے 2، اور نجکاری ڈویژن کے لیے 1 ارب 74 کروڑ روپے سے زائد کے 2 مطالباتِ زر منظور ہوئے۔ بین الصوبائی رابطہ ڈویژن کے لیے 5 ارب 2 کروڑ روپے کے 2، اور امورِ کشمیر و گلگت بلتستان ڈویژن کے لیے 3 ارب 18 کروڑ روپے سے زائد کے 2 مطالبات منظور کیے گئے۔

  • دیگر ڈویژنز اور ادارے: ماحولیاتی تبدیلی ڈویژن کے لیے 3 ارب 89 کروڑ روپے، انسانی حقوق ڈویژن کے لیے 2 ارب 33 کروڑ روپے سے زائد، میری ٹائم افیئرز کے لیے 4 ارب 12 کروڑ روپے کے 2، اور وزارتِ پارلیمانی امور کے لیے 1 ارب 20 کروڑ روپے کا ایک مطالبہ زر منظور ہوا۔ پارلیمانی اداروں کے لیے قومی اسمبلی کا 9 ارب 3 کروڑ روپے سے زائد اور سینیٹ آف پاکستان کا 3 ارب 21 کروڑ روپے سے زائد کا ایک ایک مطالبہ زر بھی منظور کر لیا گیا