LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
نائن الیون کے زخم آج بھی تازہ، دہشتگردی کے خلاف جنگ جاری رہے گی: ٹرمپ ایران زخمی جانور کی طرح آخری وقت میں ہے، امریکی وزیر خزانہ کا دعویٰ بلوچستان میں آخری دہشت گرد کے خاتمے تک اقدامات جاری رہیں گے: کور کمانڈر کوئٹہ آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول، ایران کیخلاف جنگ مکمل کرینگے: پیٹ ہیگسیتھ وزیراعظم بجلی کی لوڈشیڈنگ پر برہم، 2 گھنٹے سے زائد نہ کرنے کا حکم ایرانی نائب صدر کا یمن میں حوثیوں کی کارروائیوں پر اظہارِ مسرت سندھ اسمبلی نے رینجرز کی تعیناتی میں مزید ایک سال کی توسیع کر دی ایران کی آئی اے ای اے پر کڑی تنقید، جنگ کا جواز فراہم کرنے کا الزام مولانا سے ملاقات میں سینیٹ اور قومی اسمبلی میں مشترکہ اپوزیشن پر اتفاق ہوا: بیرسٹر گوہر موخا ایئرپورٹ پر سعودی عرب کے 2 فضائی حملے، حوثی باب المندب کے قریب پہنچ گئے پوزیشن کا اہم اجلاس: 27 ستمبر احتجاج کی تیاریوں کی ہدایت، ملک گیر آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا فیصلہ محسن نقوی سے رابطہ رہتا ہے، تفصیلات نہیں بتائیں گے، بیرسٹر گوہر چیف الیکشن کمشنر کی تقرری، حکومت اور حزب اختلاف میں مشاورت کا آغاز 27 پی ٹی آئی کی پولیس چھاپوں اور گرفتاریوں کے خلاف لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بنچ میں درخواست دائر لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو بے دخل کرنے سے روک دیا

آدھا انسان آدھی مچھلی، جاپان سے پُر اسرار مخلوق کی باقیات دریافت

Web Desk

24 March 2026

فوکوشیما: جاپان کے شہر فوکوشیما میں ایک پرانے گھر کی صفائی کے دوران نصف مچھلی اور نصف انسان پر مشتمل ایک ہیبت ناک ڈھانچہ دریافت ہوا ہے جس نے ماہرین اور سوشل میڈیا صارفین کے درمیان ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اس پُراسرار ڈھانچے میں ریزر کی طرح تیز دھار دانت، بڑے انسانی نما ہاتھ اور مچھلی کی دم واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہے، جسے مقامی لوگ “قدیم بلا” قرار دے رہے ہیں۔

تاریخی اور دیومالائی ماہرین کا خیال ہے کہ یہ ڈھانچہ جاپانی لوک کہانیوں کے مشہور آبی کردار ’کَپّا‘ (Kappa) کا ایک نمائشی ماڈل ہو سکتا ہے۔ جاپانی اساطیر کے مطابق ’کپّا‘ تالابوں اور دریاؤں میں رہنے والی ایک ایسی مخلوق تھی جو انسانوں اور مویشیوں کو پانی میں کھینچ کر ڈبو دینے کی شہرت رکھتی تھی۔ ماضی میں بھی جاپان کے مختلف حصوں سے ایسی “ممیز” (Mummies) ملتی رہی ہیں جنہیں قدیم فنکار مذہبی رسومات یا نمائش کے لیے مختلف جانوروں کے اعضاء جوڑ کر تیار کرتے تھے۔

اگرچہ سائنسی طور پر اسے ایک مصنوعی شاہکار سمجھا جا رہا ہے، تاہم اس کی ہیبت ناک شکل اور قدیم بناوٹ نے فوکوشیما کے شہریوں میں جاپانی لیجنڈز کے حقیقت ہونے کے حوالے سے تجسس پیدا کر دیا ہے۔ اس ڈھانچے کو مزید تحقیق کے لیے مقامی عجائب گھر یا لیبارٹری منتقل کیے جانے کا امکان ہے۔